Wednesday, March 21, 2012

بچپن کے معصوم چہرے پر ایک بدنما داغ ہے ٹی بی

(عالمی ٹی بی دن پر خصوصی)

یہ افسانہ  ہے رامادیوي اور اس کے خاندان کا جو لکھنؤ شہر کی ایک غریب بستی میں رہ رہی ہے. ایک تنگ گلی میں اینٹ کی دیواروں سے بنا کچا پکا مکان، جہاں سورج کی روشنی اور کھلی ہوا بھی آنے سے كتراتي ہیں؛ دن کے اجالے میں بھی رات کا احساس کرتے ہوئے دو اندھیرے کمرے جن میں سے ایک میں چولہا بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے، اور صاف ہوا کے نام پر چولہے اور بیڑی کا جان لیوا دھواں. اسی میں رہتا ہے ٧ ارکان کا خاندان - راما کا شوہر جو مزدوری کرکے دن بھر میں ١٠٠ - ١٥٠ روپے کما لیتا ہے، جس کا بیشتر حصہ روز کی شراب اور بیڑی میں خرچ ہو جاتا ہے، راما کا سسر، راما کے چار بچے جو پیٹ بھر کھانے کے لئے بھی ترستے ہیں، اور خود ناخواندہ راما جو اپنے شوہر کی مار برداشت کرتے ہوئے اپنی قسمت کو كوستي ہے اور جس کی سلوني صورت کے پیچھے چھپے درد اچانک اس کے چہرے پر چھلک اٹھتے ہیں. چار چار بچوں کو پیدا کر جیسے اس کے جسم کی ساری طاقت ہی ختم ہو گئی ہے. خاندانی منصوبہ بندی کرانا چاہتی ہے پر آپریشن کرانے سے ڈرتی ہے.


راما کے تیسرے نمبر کے بیٹے، ٦ سالہ جگموہن کی خوش نما مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہے ٹی بی، یعنی ٹی بی کے جراثیم. جگموہن کو ٹی بی ہے اور ایک ماہ سے اس کا علاج پاس کے ہی ایک ڈاٹس سنٹر پر چل رہا ہے. میرے ذرا سے حوصلہ افزائی سے ہی راما نے اپنے سارے درد افسانے میرے کانوں میں اڑیل دیے- "یہ بچہ تو پیدائش سے ہی کمزور تھا. میرے سارے بچے گھر پر ہی ہوئے. ہسپتال جانے کے لیے پیسے ہی نہیں تھے. پیدائش کے بعد بچے کو اپنا دودھ بھی نہیں پلا پائی کیونکہ کمزوری کی وجہ سے مجھے دودھ ہوا ہی نہیں. بچپن سے ہی اکثر بیمار رہتا ہے. جب ایک ماہ کا تھا تو بيسيجي (ٹی بی سے بچاؤ کا) کا ٹیکہ لگوایاتھا پر وہ پکا ہی نہیں. پھر جب ٩ ماہ کا ہوا تو آنگن واڑي کی ایک بہن جی نے دوبارہ لگایا، پر وہ بھی نہیں پکا. ابھی کچھ وقت پہلے ہی ہسپتال میں تیسری بار جب ٹیکہ لگا تو ٹھیک سے پکا. بچے کو ٢ سال کی عمر سے ہی کھانسی آتی رہتی ہے. کھانستے کھانستے بےدم ہو جاتا تھا. کئی بار سرکاری ہسپتال لے کر گئے. دوا سے کچھ دن آرام ملتا تھا، پھر کھانسی شروع ہو جاتی تھی. ڈاکٹر باہر سے دوا خریدنے کو کہتے، پر اتنا پیسہ ہم غریب کے پاس کہاں. دو وقت کی روٹی جٹانا تو مشکل ہے. تو ٹھیک سے علاج ہو ہی نہیں پایا. پھر پچھلے سال گرمی کے موسم  میں جب طبیعت پھر بہت خراب ہوئی تو سرکاری ہسپتال میں ١٠ دن تک داخل رہا. ڈاکٹر نے ایكسرے نکال کر بتایا کہ اسے پھیپھڑے کی ٹی بی ہے. کہا کہ باہر سے دوا خرید کر کھلا دو. بہت منتیں کرنے پر ایک لیڈی ڈاکٹر نے مفت دوا کے لئے فارم لکھ کر دیا، جو اب ڈاٹس سنٹر سے لینے جاتیں ہیں. ٦ ماہ تک دوا جاری رہے گی.
ڈاکٹر نے غذائیت سے بھرپور خوراک کھلانے کے لئے کہا ہے. پر دودھ، دہی اور پھل خریدنے کے لیے پیسے ہی نہیں بچتے. سہی سے دال روٹی ہی مل جائے تو بہت ہے".

 
راما دیوی کے شوہر کو سات سال پہلے ٹی بی ہوئی تھی جس کا اس نے ٦ ماہ تک سرکاری علاج کرایا. پر کچھ وقت سے اسے پھر سے کھانسی آنی شروع ہو گئی ہے. شراب اور بیڑی کی عادت چھوٹتي ہی نہیں. اسے لگتا ہے کہ ایک بار علاج کروا چکا ہے اس لئے اسے غلط فہمی ہے کہ دوبارہ ٹی بی نہیں ہو سکتی ہے. راما کی طرح زیادہ تر لوگوں کو نہ تو ٹی بی کے اسباب کے بارے میں معلومات ہے نہ ہی اس کی روک تھام کے اقدامات ہی معلوم ہیں. گھر کے کسی بھی دوسرے رکن کی ٹی بی تفتیش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کبھی کسی ڈاکٹر نے اس کے لئے کہا ہے. ڈاٹس سنٹر پر یا دیگر کسی بھی صحت اہلکار نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ گھر میں صاف صفائی رکھنی چاہئے، کم سے کم گھر کے اندر بیڑی / سگریٹ نہیں پيني چاہئے کیونکہ اس کا دھواں صحت کے لیے، خاص طور پر بچوں کے لئے، بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے. راما کے تمام بچے ایک ہی چارپائی پر ایک ساتھ سوتے ہیں. جب میں اس خاندان سے ملنے گئی تو جگموہن مزے سے اپنی چھوٹی ٣ سالہ بہن کے پاس بیٹھا زور زور سے كھانس  رہا تھا.


چھترپتي شاهو جی مهاراج میڈیکل یونیورسٹی لکھنؤ کے پلمینیري میڈیسین شعبہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سورج كانت جی کے مطابق، "بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے بالغوں میں وقت رہتے ٹی بی کے تشخیص اور اس کے مناسب علاج کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹی بی کے جراثیم کے انفیکشن کو روکا جائے. اس کے لئے گھروں میں صاف ہوا اور دھوپ کی آمد ہونا چاہئے. بچوں کو بیڑی / سگریٹ کے بالواسطہ سگریٹ نوشی سے اور لکڑی / ایندھن کے دھوئیں سے بچانا بہت ضروری ہے. بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے گھروں کے اندر ناقص غذایت کو دور کرکے غذائیت سے بھرپور خوراک دینا ضروری ہے. اور شہری بچوں میں جنك فوڈ اور فاسٹ فوڈ کھانے کی عادت پر بھی روک لگانا ہوگا. ہسپتالوں میں پھیلی گندگی کو خاص طور پر دور کرنا ہوگا، کیونکہ علاج کے لئے آئے بچے / بالغ ہسپتالوں کے گندگی بھرے ماحول کی وجہ سے اکثر وہاں سے بیماری لے کر جاتے ہیں. ہمارے ملک میں اکثر والدین اپنے ساتھ بچوں کو اسپتال لے جانے میں نہیں جھجھکتے. یہ بہت غلط ہے اور بچوں کو بے سبب ہی اسپتال کے اندر داخل کرنا منع ہونا چاہیے. اس کے علاوہ كھانستے وقت منہ پر کپڑا رکھنا، کھلے میں تھوكنے کی عادت سے بچنا ہوگا."

 
یہ اکیلے جگموہن کی کہانی نہیں ہے. ہندوستان میں ہر سال ٢٢ لاکھ افراد ٹی بی سے تکلیف زدہ ہوتے ہیں جن میں ٣ سے ٤ لاکھ بچے ہیں. ٹی بی کے ماہرین کے مطابق بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے قابل قدم اٹھانے ضروری ہیں. سرکاری ہسپتالوں میں ٹی بی کا مفت علاج دستیاب ہے. لیکن جب لکھنؤ جیسے شہر میں مریض مناسب علاج اور معلومات کے فقدان کی وجہ سے ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں تو گاؤں اور قصبوں کی بدتر حالت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے. جرجر ہوتی ہوئی صحت کے نظام، یہاں وہاں تھوكنے کی عادت، صاف پانی اور صاف
بیت الخلا کا مسئلہ، ناقص غایت اور غربت کا عذاب، اور عام عوام میں ٹی بی اور دیگر متعدی بیماریوں کے بارے میں معلومات کا فقدان، - یہ تمام ٹی بی اور دیگر بیماریوں کو فروغ دینے کے لیے کافی ہیں. عوامی برادری اور سرکاری مشینری کے باہمی تعاون سے ہی ہم اس جان لیوا بیماری پر قابو پا سکتے ہیں.

 
انٹرنیشنل یونین اگینسٹ ٹبركلوسس اینڈ لنگ ڈسيس کے مطابق - 'جس بھی خاندان میں ٹی بی کا بالغ مریض ہو اس خاندان کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کا ٹیسٹ ہونا چاہئے. اگر وہ صحت مند ہیں تو بھی انہیں ٹی بی روکنے کی دوا كھلا نا ضروری ہے، تاکہ ان میں آگے چل کر اس بیماری کی گرفت میں آنے کے امکان کم ہو سکیں اگر وہ بیمار ہیں تو کلینکل ٹیسٹ کر کے ان کا ٹی بی کا علاج شروع کر دینا چاہئے. '

نديم سلماني/ شو بها شكلا