Thursday, November 10, 2011

چمتکاری دوا کے ذریعہ نمونيا کا علاج

نمونيا نچلی سانس کی نلی کے انفیکشن کا ایک سنگین قسم ہے، جو خاص طور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے- بچوں کی موت کی یہ ایک اہم وجہ ہے اور دنیا بھر کے ٢٠ فیصد بچوں کی موت کے لئے ذمہ دار ہے- نمونيا کی وجہ سے ہونے والی موت کو کم کرنے کا بہترین طریقہ وقت سے دیا گیا مؤثرعلاج  ہے- نمونيا سے متاثر بچوں کو  بیماری سے لڑنے والی دواؤں، جنہیں اجوبی دوا کے نام سے جانا جاتا ہے، سے فوری علاج کرنے پر موت کے امکانات کافی کم کیے جا سکتے ہیں- نمونيا سے گرست بچوں کو عالمی ستہ پر اگر انٹی با یوٹیک(Antibiotic) دواییں دستیاب کی جاتی تو ہر سال تقریبا ٦ لاکھ زندگی بچائے جا سکتیں ہیں- نمونيا سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لئے اگر روک تھام اور دواییں دونوں عالمی سطح پرکیا جاتا تو یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ یعنی تقریبا ١.٣ ملین ہوتی-

یہ بیماری، جس میں ایک یا دونوں پھیپھڑوں میں مواد اور مائع البويلاي (Alveoli) تک بھر جاتا ہے، کو طے کرنے کیلئے سینے (چھاتی) کا ایکس- رے اور میں جانچ کی جاتی ہے- یہ بیماری سانس لینے کے  کام کو متاثر کرتی ہے، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے- لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے نمونيا کے معاملات کو ان کے طبی علامات جیسے تیز یا پریشانی سے سانس لینا، کھانسی، بخار وغیرہ کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے- نومولود ماں کا دودھ پینا چھوڑسکتے ہیں اور بےهوشي، هائی پوتھرميا اور دورے کی شکایات ہو سکتی ہیں- پس بچوں میں نمونيا کی علامات نشاندہی اور مناسب طبی سہولت کی فراہمی میں دیکھ بھال کرنے والوں کا ضروری حصہ ہوتا ہے-

نمونيا کے کم سنگین مریضوں کا علاج مناسب دواؤں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے- سنگین نمونيا کے معاملات کو بنا دیری کے انجکشن کے ذریعہ انٹيبايوٹكس اور اگر ضروری ہو تو آکسیجن دینے کے لئے ہسپتال بھیج دینا چاہئے-
نمونيا سے متاثرہ پانچ سال تک کے بچوں میں اموات کم کرنے کے لئے تین ضروری چیزیں ہیں:
١. نمونيا سے متاثر بچوں کی شناخت،
٢. اسپتال - صحت مرکز- ماں اور اطفال صحت مرکز میں مناسب طبی سہولت حاصل کرانا، اور
٣. ڈاکٹر کی جانب سے بتایا گیا علاج حاصل کرنا- ترقی پسند ممالک میں تقریبا ٢٠ فیصد دیکھ بھال کرنے والے ہی بیماری کی علامات پہچانتے ہیں، اور ان میں سے صرف ٥٤ فیصد بچوں کو علاج دستیاب کروا پاتے ہیں-
غریب بچوں کے مقابلے میں شہر اور تعلیم یافتہ خاندانوں کے بچوں کو مناسب طبی سہولت زیادہ مل پاتی ہے اور اقتصادی کمی سے جوجھتے ہوئے ٦٨ ملکوں میں تقریبا ٣٣  فیصد نمونيا سے متاثر بچے انٹيبايوٹك کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں-
نمونيا / سپسس (sepsis) کی علامات والے دو ماہ تک کے بچوں میں دیگر بچوں کی توقع سنگین بیماری اور موت کے امکانات کا زیادہ خطرہ رہتا ہے- لہذا ایسے بچوں کو بنا دیری کے علاج لئے کسی اسپتال میں بھیج دینا چاہیے- مقامی دستیاب طبی کی بنیاد پر علاج  کا طریقہ منتخب کیا جانا چاہئے- مرض دافع کے لیے کچھ مقامات پر دفاعی صلاحیت کی سطح زیادہ ہو سکتی ہے جس سے نمونيا کے علاج کے لئے وہ دوا ین کم مؤثر ہو سکتی ہیں- دوسری جگہ میں زیادہ خطرے والے طبقے، جیسے غذائیت کی کمی  یا اچ آ ئی وي سے متاثر بچے زیادہ تعداد میں ہو سکتے ہیں، جس کے مطابق ہی ان کا علاج کا انتخاب کیا جا سکتا ہے-

  اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اس كے سهتا واضح کرتے ہیں، ''حکومت ہند اور عالمی صحت ادارہ (WHO) نے نمونيا کی شناخت کے لئے آسان طریقے مہیا کیے ہیں، جس سے گاؤں میں بھی، جہاں ڈاکٹر کی دستیابی نہیں ہے، ایک ان پڑھ بھی بیماری کی شناخت کر سکے-  عالمی صحت ادارہ کے ذریعے خصوصاً تین قسم کے نمونيا کو درج کیا گیا ہے-
١. نمونيا نہ ہونا،
٢. نمونيا جس کا علاج سپٹران ہے اور
٣. سنگین نمونيا - اس معاملہ میں حکومت ہند کی طرف سے منظور کیا گیا ہے کہ اگر آدمی جانکار ہے تو مریض کو امپيسلين جنٹاماسین دیا جانا چاہیے اور مریض کو ڈاکٹرکے پاس بھیجنا چاہیے-''

لکھنؤ کے اطفال اور دل کے امراض کے ماہرڈاکٹر اس این رستوگي کا ماننا ہے - ''بیماری کا علاج جراثیم پر انحصار کرتا ہے- اس طرح علاج میں تبدیلی ہو جاتی ہے- ہندوستان میں سب سے زیادہ ہونے والا نمونيا ٹيوبركولر (tubercular) نمونيا ہے. نمونيا کی طبی کے لئے سٹرےپٹوماسن دیا جا سکتا ہے. ''

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا، جنہوں نے کئی برسوں تک مشہور اسپتالوں اور لکھنؤ اور دہلی کے غیر سرکاری ہسپتالوں میں کام کیا ہے، کہتے ہیں، ''سرکاری اسپتالوں میں ہندوستان کی حکومت کی سفارشات پرعمل ہو رہا ہے- ہندوستان کی حکومت اور عالمی صحت ادارہ نے معاشرے پر زیادہ توجہ دی ہے- پس 'سپٹرآ ن' نمونيا کے علاج کے لئے کافی اچھی اور سستی دوا ہے اور دیہاتی علاقوں میں حکومت ہند کی طرف سے موجود ہے- جو بھی ہو ذاتی سیکٹر میں دلچشپی زیادہ ضروری ہوتی ہے اور ہم سیپٹران کے لئے اوپر مزاحمت دیکھ رہے ہیں- اس لئے ہم تیز دافع دینے کا انتخاب کرتے ہیں-''

  ماہر امراض اطفال ڈاکٹر نیلم سنگھ ، جو 'واتسلي ريسورس سینٹر آن ہیلتھ' کی اہم كاريدايي بھی ہیں، کے مطابق کئی ریاستوں میں بچوں میں سنگین "سانس کی نلی کے انفیکشن کا علاج جامع اطفال تحفظ پروگرام کا حصہ ہے- پھر بھی نمونيا کے دفاع کے لئے ضروری آگاہی کا فقدان ہے- ابھی بھی اس معاملے  میں بیداری کے لئے خصوصی پروگراموں  کی ضرورت ہے- دست کے بعد بچوں میں نمونيا سب سے خطرناک بیماری ہے- سرکاری اور غیرسرکاری اسپتالوں میں ہونے والے علاج میں تبدیلی کے لئے وقت، مشورہ، طبی، علاج میں ہونے والا خرچ اور دیگر وجہ سے ذمہ دار ہیں- اس علاقے میں حکومت کی جانب سے کافی ترقی کی گئی ہے اور اب یہ علاج سرکاری اسپتالوں میں بھی دستیاب ہے پھر بھی سرکاری عام سرکاری طبی نظام میں مریضوں کی مقدار، ماہرین کی کمی کا، وسائل کی کمی اور دواؤں کا دستیاب نہ ہونا وغیرہ کئی وجوہات ہیں، جس پر غور ہونا چاہیے-

چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے اطفال مرض محکمہ میں علاج کرا رہے ٣ سال کے اتھرو، جس  سے میں اکتوبر٢٠١١ کے پہلے ہفتے میں ملی، کی کہانی بچوں میں نمونيا کے مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہونے والے مہلک نتائج کی مثال ہے- نمونيا کے پہلے ہی علامات میں اس کے سرپرستوں نے فوری طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں میڈیکل حاصل کروایی، لیکن اتھرو کی حالت بگڑنے پر وہ ایک نرسنگ ہوم سے دوسرے میں دوڑتے رہے- انہیں لگا کہ ڈاکٹر ان سے مالی فوائد حاصل کرنے میں زیادہ مشغول تھے- آخر میں وہ اسے چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی جو ایک سرکاری اسپتال ہے، میں چار اگست کو لائے- آخر میں بازار میں دستیاب دواییں بچے کو دی گیں اور اس کی حالت میں سدھار ہوا
ہندوستان میں ہم لوگ سرکاری صحت کے نظام کو کس طرح کم تر سمجھتے ہیں، اس حقیقت کی یہ ایک مثال ہے- چلی آ رہی خامیوں کے باوجود بھی سرکاری ہیلتھ مشینری سنگین بیماری کے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

بچوں میں نمونيا کے دفاع اور علاج کو فروغ دینے کے مقصد سے ٢٠٠٩ میں 'دی گلوبل ایکشن پلان فار دی پريوےنسن اینڈ کنٹرول آف نمونيا' (GAPP) قائم کی گئی- چلو ہم سب مل كر ہر بیمار بچے کی صحیح دیکھ بھال اور نمونيا کے علاج کے لئے تیاری کریں-
 
سوميا اروڑا - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی، لکھنؤ)

No comments: