Thursday, November 10, 2011

گھرکے اندر کی آلودگی اور بچوں میں نمونيا

گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پھیپھڑوں کو ہونے والے نقصان کے بارے میں سبھی جانتے ہیں، لیکن یہ دھواں حمل میں پل رہے بچے کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہوتا ہے- اسی طرح گھر کے اندر کی  آلودگی سے بھی بچوں میں کئی جان لیوا بیماریاں ہوتی ہیں- جو کہ کھانا بنانے والی انگيٹھي، مٹی کے تیل کے چولہے، كنڈا یا پھر والدین کے سگریٹ، بیڑی، نوشی وغیرہ سے ہوتی ہے- جس میں وہ بچہ بالواسطہ طور پر دھوئیں کو اپنے اندر سانس کے ساتھ لیتا ہے- ان سب کی وجہ سے بچوں میں کئی بماریاں گھر کر جاتی ہیں جن میں سے نمونيا ایک ہے-

یش اسپتال کی مشہور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رتو گرگ کہتی ہیں کہ گھر کے اندر باورچی خانے کا دھواں، موسم بدلنے کی وجہ سے گھر میں پھیل جاتا ہے، جسے بچہ اپنی سانس کے ساتھ لیتا ہے- سوتے وقت بچے کے اوپر ہلکا کپڑا ڈال کر اس دھویں سے بچایا جا سکتا ہے- لیکن جو سب سے تشویش کی بات ہے وہ ہے والدین یا باپ کا سگریٹ یا بیڑی نوشی کرنا- بالواسطہ تمباکو نوشی کا بچے کی صحت پر ١٠٠٪ اثر پڑتا ہے کیونکہ سگریٹ بیڑی کا دھواں ہلکا ہوتا ہے اور آسانی سے بچوں کے پھیپھڑوں میں سانس کے ساتھ چلا جاتا ہے، جو نمونيا کی سب سے بڑی وجہ ہے-

اس کی سب سے بڑی مثال ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملی جب ایک تعلیم یافتہ والدین منندر ناتھ اور پربھا آنند نے ہمیں بتایا کہ ان کے بچے کو نمونيا ہوا تھا پر اس کے بعد بھی انہوں نے سگریٹ سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں مزید توجہ نہیں دی- جبکہ ان کا بچہ ایک 'پری میچيور' بچہ تھا-

'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی گولڈ میڈيلسٹ ڈاکٹر ندھی جوہری کا ماننا ہے کہ گھر کے آس پاس ہونے والی تعمیر سے دھول  بچے کے سانس کے ساتھ سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے سیدھے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں جو پہلے دمہ (استھما) پھر بعد میں نمونيا میں تبدیل ہو جاتا ہے- گھر کے اندر ماں یا باپ کے بیڑی یا سگریٹ کے استعمال کو بھی وہ ٤٠ ٪ تک وجہ مانتی ہیں-
اسی 'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے گولڈ میڈلسٹ اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اجے کمار کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی ہر طرح سے خطرناک ہے خاص طور پر سانس کی بیماری میں، جسکے سب سے بڑے شکار بچے ہوتے ہیں جن کی دفاعی صلاحیت کم ہوتی ہے- اس کا سیدھا اثر بچوں کے پھیپھڑوں پر پڑتا ہے- پھیپھڑوں کی دفاعی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور پھیپھڑے عام جراثیم کو بھی اپنی طرف دعوت دینے لگتے ہیں- ایک طرح سے بیماریوں سے لڑنے کی جو ڈھال ہے وہ کمزور ہو جاتی ہے- جس کی  وجہ سے کوئی بھی نمونيا کا جراثیم جسم میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہے- اور نمونيا مرض پھیلا دیتا ہے-

بچوں میں نمونيا کا ایک اہم سبب ہے گھر کے اندر جلنے والا  چولہا- فضائی آلودگی سے بچوں کے پھیپھڑوں میں سیدھا اثر ہوتا ہے- اگر انگيٹھي، اسٹوو گھر سے باہر جلایا جائے تو بچوں کو بچایا جا سکتا ہے- سگریٹ سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں ڈاکٹر اجے کمار کہتے ہیں کہ والدین کے سگریٹ  نوشی سے جو دھواں پھیلتا ہے وہ بچوں کے پھیپھڑوں پرسیدھا اثر کرتا ہے- اگر ماں باپ سگریٹ پینا نہیں چھوڑ سکتے ہیں تو کم سے کم گھر کے باہر پئیں اور اس کی سزا اپنے بچوں کو نہ دیں-

ایسا ہی واتسلي کلینک کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سنتوش رائے کا کہنا ہے کہ بیڑی، سگریٹ سے بچوں میں الرجی ہو جاتی ہے، جس سے ان کی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، اس میں پھیپھڑوں کی الرجی سربراہ ہے- گھر کے اندر کے آلودگی کے بارے  میں ڈاکٹر سنتوش رائے کہتے ہیں کہ گھر کے اندر جلنے والے 'کوئل' بھی آلودگی کی اہم وجہ ہے- سگریٹ بھی بچوں میں پھیپھڑوں کے مرض کی ایک اہم وجہ ہے-

فضائی آلودگی کے سربراہ وجہ گھر میں جلنے والی انگيٹھي، چولہے وغیرہ ہیں، جو پھیپھڑوں میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں جس سے نمونيا ہونے کا خطرہ رہتا ہے- ان سے بچا جا سکتا ہے اگر کھانا گھر سے باہر بنایا جائے یا گیس کا استمال کیا جا یے-

انہی سب باتوں کو ذهن میں رکھتے ہوئے معاشرے میں آلودگی کو کم کرنے کا پیغام جانا چاہئے اور ہم سب اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں-

نیرج مینالي- سی این ایس   
(ترجمہ: ندیم سلمانی)  

No comments: