Wednesday, November 9, 2011

اچھی غذائیت بچوں کو نمونيا سے بچاتی ہے

بچے جوناکافی غذانیت اور پیدائش سے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ نہیں پیتے ہیں، ان میں بیماری  سے لڑنے کی  صلاحیت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان میں نمونيا کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- لہذا بچوں کو نمونيا سے بچانے میں مناسب غذا اور ماں کے دودھ کا اہم کردار ہے-  تمام دنیا میں بچوں میں نمونيا سے ہونے والی کل اموات میں سے ٤٤% اموات ناقص غذایت کی  وجہ سے ہوتی ہیں-

عالمی صحت  ادارہ  کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ١٨  لاکھ بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہیں-  یہ تعداد بچوں میں دیگر بیماریوں سے ہونے والی اموا ت سے کہیں زیادہ ہیں- نمونيا ایک قسم کا تیز سانس سے متعلق انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے-  جب کوئی صحت مند انسان سانس لیتا ہے تویہ جھللی  ہوا سے بھر جاتی ہیں-  لیکن نمونيا سے مصیبت ذدہ شخصیت میں یہ جھللی  مواد اور سیال سے بھر جاتی ہیں جس کی وجہ سے سانس   لینا مشکل اور تکلیفدہ ہو جاتا ہے اور جسم میں آکسیجن محدود مقدار میں پہنچ  نہیں پاتی ہے-

بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق "بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے پوری غذائیت بہت ضروری ہے- اس سے بچوں کے جسم کو مکمل طور پر ہر قسم کے وٹامن ملتے رہتے ہیں نتیجہ کے طور پر بچوں کا نمونيا سے بچاؤ ہوتا رہتا ہے- مکمل غذائیت کے لئے بچوں کو دال، چاول اور روٹی دیں، باہر کا 'ریڈی میڈبیبی فوڈ' جہاں تک ممکن ہو نہیں دینا چاہئے- باہری 'ریڈی میڈ بیبی فوڈ' بچے کی صحت کے لئے ایک خراب غذا ہے-

بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا ماننا ہے کہ 'بچے کے لئے زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک ماں کا دودھ سب سے مناسب غذا ہے اور جب بچہ چھ ماہ سے زیادہ کا ہو جائے تو دليا وغیرہ دیا جا سکتا ہے- بوتل کا دودھ بالکل ہی نہیں پلا یں یہ بچوں کے لئے مناسب غذا نہیں ہے- خواتین میں معلومات کی کمی ہے لہذا ضروری ہے کہ انہیں اطلاع دی جائے اگر وہ جانکار ہوں تو اچھے غذائیت کہ طریقہ اپنے آپ اپنا لیں گی-"

لکھنؤ میں ایک ذاتی شفاخانہ چلانے والی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر كمد انوپ  کے مطابق "ہاتھ کی صفائی بہت اہم ہے جس سے نمونيا اور دیگر کئی بیماریوں سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے- لہذا مناسب غذائیت اور صاف صفائی نہ صرف بچے کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہے بلکہ بچے کی جسمانی ترقی اوربیماری سے لڑنےکی  صلاحیت کو بھی بڑھانے میں کارگر ہے-  دال ، چاول ، روٹی اور سبزی سب سے اچّھی، سستی  اور بھرپور خوراک ہے جو کسی بھی طرح سے نقصان دہ نہیں ہے-"

ڈاکٹر ورما کے مطابق بھی بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے صفائی بہت ضروری ہے-  لہذا بچے کو ٹھیک طرح سے ہاتھ دھونے کے بعد ہی چھونا چاہئے- بچوں کو کپڑے، دھلے اور ساف - ستھرے پہنانے چاہئے- بہتر ہوگا کہ کئی کپڑوں کا استعمال پہنانے کے لئے کریں،  اگر ایک - دو کپڑے ہی ہیں تو ہر بار کپڑے دھل کر ہی پہنا یں-

عالمی صحت ادارہ  کے مطابق بچوں کو نمونيا سے بچانے میں کافی مقدار میں غذائیت بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے-  بچوں کو شروع کے چھ مہینے تک مناسب مقدار میں غذا دینے کے لئے ماں کا دودھ کافی ہے-  یہ بچوں کے لئے ایک قدرتی حفاظت ہے جو کہ بچوں کو نہ صرف مکمل غذا مہیا کرتا ہے بلکہ ان میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت میں ترقی بھی کرتا ہے-

لہذا بچوں کو مناسب غذا اور مناسب ماحول فراہم کر کے ہم اسے نہ صرف نمونيا بلکہ دیگر کئی طرح کی خطرناک بیماریوں سے بچا سکتے ہیں- بچوں کو مناسب غذا دینے کے لئے اس کی زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ کافی ہے اور ٦  سے ٢٤  ماہ تک ماں کے دودھ کے ساتھ -ساتھ  دال ، چاول ، روٹی ، سبزی ، دليا اور دیگر اضافی خوراک دی جا سکتا ہے- لوگوں میں معلومات کی کمی ہے-  معاشرے میں بہت بڑی بیداری کی ضرورت ہے-  تبھی معاشرے میں لوگ مختلف قسم کے صحت مند طریقوں کو اپناكر، بچوں کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچانے میں کامیاب ہو پا یں گے-
 
راہل کمار دویدی - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: