Wednesday, November 9, 2011

بچوں کو نمونيا سے بچاتا ہے ماں کا دودھ

بچوں کو پیدائش سے ٦ ماہ تک صرف ماں کا ہی دودھ پلایں کیونکہ یہ اس کے جسم کو نمونيا، دست، اور دماغی بخار وغیرہ جیسی بیماریوں سے بچانے کا کام کرتا ہے- یہ کہنا ہے لکھنو کے ڈاکٹروں کا-

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق "ماں کے دودھ میں بہت سارے ایسے عناصر ہوتے ہیں جنہیں ہم انٹی با ڈیز کہتے ہیں یہ انٹی با ڈیز نمونيا ہی نہیں بلکہ اور بہت ساری بیماریوں سے بچوں کو بچاتے ہیں- اس لئے ابتدائی٦  ماہ تک ماں کا دودھ دینا انتہائی ضروری ہے-"

ڈاکٹر ابھیشیک ورما نے بتایا کہ "جب بھی کوئی حاملہ عورت ہمارے اسپتال میں آتی ہے تو ان سے جانچ کے وقت سے ہی اس بات کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بچے کو اپنا ہی دودھ پلایں، اور ہمارے یہاں جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ضروری طور پر ان کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ماں کا دودھ ہی سب سے اچھا ہوتا ہے، آپ اپنا ہی دودھ ٦ ماہ تک بچے کو پلایں- بچے کی ترقی کے لئے ٦ ماہ تک ماں کا دودھ کافی ہوتا ہے- اس کے اوپر بیماری کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے- ایسی حالت میں زیادہ تر مایں بچے کو اپنا دودھ پلانا پسند کرتی ہیں، اور جو ایسا نہیں کرتی ہیں ان کے بچوں میں انفیکشن جیسے نمونيا، دست، غذائیت کی کمی اور بہت ساری پریشانیاں زیادہ آتی ہیں-"

ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ "بوتل کے دودھ کو ہم منع کرتے ہیں- اگر کچھ سپلیمنٹ دینا ہے تو گھر کا ہی دیتے ہیں اور دودھ ماں کا ہی دیتے ہیں- بوتل کے دودھ میں وہ ضروری عناصر نہیں ہوتے ہیں جو ماں کے دودھ میں پائے جاتے ہیں اس لیے ہماری کوشش یہی رہتی ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ ہی پلاے-"

ایک ذاتی شفاخانے کی ناظم اور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھدھر کے مطابق "شروع میں بچے میں دفاعی صلاحیت اتنی نہیں ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں سے لڑ سکے- اس لئے جب بھی اسے کوئی انفیکشن ہو جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا پاتا ہے لیکن جب وہ ماں کا دودھ پیتا ہے  تو ماں کے دودھ میں اتنے انٹی با ڈیز ہوتے ہیں جو بیماریوں سے لڑنے میں بچے کی مدد کرتے ہیں، اور نمونيا، ٹی بی، زکام، دماغی بخار، دست وغیرہ بہت ساری بیماریوں سے بچے کو محفوظ رکھتے ہیں- ہم تمام خواتین کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کم سے کم٦ ماہ تک بچوں کو تو ضرور ماں کا دودھ پلا یں-"

ڈاکٹر رما شنکھدھر آگے بتاتی ہیں کہ "کچھ ماوں میں دوا دینے کے باوجود دودھ نہیں اترتا ہے- لیکن ان کو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ جب تک دودھ اتررہا ہے آپ بچے کو دودھ پلاتی رہیں اور باقی سپلیمنٹ بھی دیں جس سے وہ بھوکا نہ رہے- اگر ماں کا دودھ کافی مقدار میں ہو رہا ہے تو بچے کو الگ سے کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے- اگر دودھ کافی مقدار میں نہیں ہے تو بوتل کا دودھ دے سکتی ہیں- جب بچہ تین مہینے کا ہو جائے تو اسے دال کا پانی بھی چھانكر دے سکتے ہیں-"

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی اہلکار ڈاکٹرآر. ایس. دوبے بھی ماں کے دودھ  کی حمایت کرتے ہیں- ان کے مطابق "جب ماں بچے کواپنا دودھ نہیں پلاتی ہے، اور دودھ چمچ وغیرہ سے دیتی ہے تو دودھ اس کی سانس کی نلی میں جانے کا خطرہ رہتا ہے- پر اگر اس کا سر اٹھا کر دودھ پلایا جائے تو اس کا خطرہ یقینی طور پر کم ہوگا- بچوں کو ٦  سے ١٢ ماہ تک ماں کا دودھ پلا یں اس سے باہری خطرناک عناصر بچے کے جسم کے اندر نہیں جائیں گے- اسی لیے جو بچہ ہمارے ہسپتال میں پیدا ہوتا ہے تو اس کی ماں کی ہم رہنمائی کرتے ہیں، اور اپنا دودھ پلانے کے  لئے بتاتے ہیں-"

وہیں اسی اسپتال میں پیدا ہونے والی اسماعیل گنج جھوپڑپٹٹي کی ایک نمونيا سے پریشان بچی تلسی کی ماں ریکھا نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے ماں کے دودھ  کے لئے کچھ نہیں بتایا- پھر بھی ماں نے بچی کو ٦ ماہ تک اپنا دودھ پلایا- اس کے باوجود بچی کو نمونيا ہو گیا- اسی بستی میں رہنے والی نمونيا سے تکلیف زدہ جیوتی، ياسمين اور فرید کی ماوں نے بھی اپنے بچوں کو ٦ ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلانے کی بات کہی-

 اپنے بچے کو پیدائش سے ٦  ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلا یں-  کیوں کہ یہ آسانی سے بچے کے پیٹ میں حجم ہو جاتا ہے- جس سے بچے کا پیٹ خراب ہونے کا خطرہ نہیں رہتا ہے- ماں کے دودھ میں سارے ضروری عناصر موجود ہونے کی وجہ سے بچے کو باہر سے کچھ بھی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے- دودھ میں موجود عناصر ہی اسے بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتے ہیں- اس لئے بچوں کے لئے ابتدائی ٦ ماہ تک ماں کا دودھ بہت ہی ضروری ہے، کیونکہ یہ بچوں کو نمونيا جیسی بیماریوں سے لڑنے میں مدد کرتا ہے- ہرماں کو چاہیے کہ وہ اپنے نومولود کو ٦ ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلا یں، اور نمونيا جیسی بیماریوں سے بچوں کو دور رکھیں- ساتھ ہی ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ ماں کے دودھ کے بارے میں خواتین کو بتائیں اور انہیں بچوں کو ٦ ماہ تک صرف اپنا دودھ ہی پلا نے کا مشورہ دیں جس سے نمونيا جیسی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے-
 
ندیم سلماني - سی این ایس

No comments: