Thursday, November 10, 2011

بچوں کے لئے سستے نمونيا کے ٹیکے کی دستیابی

نمونيا جیسے جان لیوا مرض سے بچوں کو بچانے کے لئے ہماری حکومت کے پاس کوئی خاص حکمت عملی نہیں ہے- سرکار کی طرف سے بچوں کے لئے نمونیا کے مفت ٹیکے لگانا نظام میں شامل ہی نہیں ہے جبکہ ٥ سال سے کم عمر کے بچوں میں نمونيا سب سے بڑا موت کا سبب ہے-

سرکاری پرائمری علاج مراکز پر سستے ٹیکوں یا نمونيا کے علاج کی دستیابی نہیں ہے- ہر سال لاکھوں بچے اس بیماری سے اپنی جان گواں دیتے ہیں پر ہماری حکومت آج بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے- عام انسان تک آج بھی یہ سہولت نہیں پہنچی ہے- سال ٢٠٠٨ میں ٥  سال سے کم عمر کے بچوں میں نمونيا سے ہونے والی موت  ٣٧١٦٠٥ تھی  جو کہ ٥ سال سے کم تمام طرح کے موت کی ٢٠.٣  ٪ تھی-

یش اسپتال کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رتو گرگ بتاتی ہیں کہ عالمی صحت ادارہ کی طرف سے دو ہی طرح کے ٹیکے دستیاب ہیں- ایک تو انپھولو ینجا ٹیکا دوسرا نيموكوكل ٹیکا جسے ١٠-١٢ سال تک کے بچے کو ہر سال لگانا پڑتا ہے جس سے کافی حد تک نمونيا کے حملے سے بچا جا سکتا ہے لیکن یہ تھوڑا مهنگا ہے- غریب آدمی اس کو بالکل نہیں لگوا سکتا- درمیانی ​​لوگ اپنے دیگر اخراجات کو کم کرکے لگوا سکتے ہیں- سرکاری اسپتالوں میں یہ ٹیکا دستیاب نہیں ہے- ڈاکٹر رتو گرگ کا یہ ماننا ہے کہ اسے سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہونا چاہئے جس سے غریب لوگ جو نمونيا سے مصیبت زدہ ہیں اس کا فائدہ اٹھا سکیں-

'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی نسواں امراض کی ماہر ڈاکٹر ندھی جوہری کا کہنا ہے کہ عالمی صحت ادارہ  نے بچوں کے لئے تو ٹیکے دستیاب کرائے ہیں پر بالغ لوگوں کے لئے نہیں- عالمی صحت ادارہ کا منصوبہ ہے کہ بچوں کو بوتل سے دودھ نہ پلاكر ماں کا دودھ پلایا جائے اور غذا، صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے جس سے کی بچوں میں نمونيا سے ہونے والی ا موا ت پر قابو پایا جا سکے- آگے ڈاکٹر ندھی جوہری کہتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں نمونيا سے بچاؤ کا ٹيكا صحت پروگرام کا حصہ نہیں ہے- ہندوستان کی حکومت نے اس کو اپنے پروگرام میں شامل نہیں کیا ہے-

واتسلي کلینک کے اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر سنتوش رائے ٹیکے کے بارے میں کہتے ہیں کہ بازار میں یہ ٹیکہ دو نام سے آتا ہے ایک دو سال سے چھوٹے بچوں کو لگایا جاتا ہے وہ 'پریگنار' نام سے آتا ہے پر وہ بہت مهنگا ہوتا ہے جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہے- دوسار ٹیکا 'نيموویكس ٢٣'  نام سے آتا ہے جو مزید مهنگا نہیں ہے- عالمی صحت  ادارہ  نے جو معیار دیے ہیں ان کے مطابق کچھ لوگ جو اس کو خرید سکتے ہیں وہ ٹیکا لگوا سکتے ہیں پہلا ڈیڑھ ماہ ، دوسرا ڑھاي ماہ ، تیسرا ساڑھے تین ماہ اور١٨ ماہ پر اس کی 'بوسٹر' خوراک دی جاتی ہے- پر یہ سب ٹیکے سرکاری ٹيكا پروگرام کا حصہ نہیں ہیں-

'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے ماہر امراض نسواں ڈاکٹر اجے کمار بھی بازار میں دو ٹیکوں کا ذکر کرتے ہیں- پہلا ، عام بچوں کے لئے جو نمونيا سے مصیبت زدہ نہیں ہیں اور جو بہت مہنگا ہے جسے 'نموكوكل' ٹیکا  کہتے ہیں- نمونيا کے ٹیکے انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں جو بچے کی زندگی کے پہلے دو سال میں چار بار لگتے ہیں جس کی متوقع قیمت ١٥،٥٠٠روپئے کے آس پاس ہے- آگے ڈاکٹر اجے کمار کہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں یہ ٹیکہ دستیاب نہیں ہے اور یہ حکومت کی کسی بھی اسکیم میں نہیں ہے- مگر یہ ٹیکا ان کے شفاخانے پر دستیاب ہے-

ڈاکٹر اجے کمار نمونيا جیسے مرض کو کسی خاص طبقہ میں نہ بانٹكر کہتے ہیں کہ یہ کسی بھی امیر یا غریب طبقے میں ہو سکتا ہے- اگر بچہ کم غذایت کا شکار ہے تو اونچے یا نیچے طبقے کا فرق نہیں پڑتا- معلومات کا فقدان بچے میں کم غذایت کو بڑھاتا ہے- کم غذایت ہونے سے کئی اور بیماریاں ہو جاتی ہیں جس سے نمونيا یا نمونيا سے کسی اور بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-

ہندوستان جیسے ملک میں یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے خاص طور پر غریب لوگوں میں جو صفائی  کا خاص خیال نہیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے اور بھی بیماریاں  ان کے ساتھ ہو جاتی ہیں، یا اور بیماریوں کے ساتھ نمونيا ہو جاتا ہے- تعلیم کی کمی ایک اہم وجہ ہے- خاص کر دیہاتوں میں جہاں والدین اس مرض سے زیادہ بیدار نہیں ہیں- تعلیم، صفائی، صحت کے بارے میں اگر حکومت وقت-وقت پر بیداری پروگرام چلائے تو اس جان لیوا بیماری سے ہونے والی اموات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے-

نیرج مینالي- سی این ایس 
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: