Thursday, November 10, 2011

اچھی غذایت سے نمونيا بچاؤ ممکن

بچوں کو نمونيا اور غذائیت کی کمی سے بچانے کے لئے بھرپور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے- گورکھپور کے اطفال امراض کے  ماہر ڈاکٹر كے این دویدی کا کہنا ہے کہ  "غذائیت سے بھرپور خوراک تو زندگی کا محور ہے جیسے پٹرول آپ کار میں ڈالتے ہیں- بچے کے لئے سب سے اچھی غذا ٦ ماہ تک ماں کا دودھ ہے- ٦ ماہ کے بعد مضبوط غذا کی شروعات کرنی چاہئے- دھیرے- دھیرے کر کے ١ سال تک کھانا بڑھانا چاہئے- ایک سال کا بچہ وہ تمام چیز کھا سکتا ہے جو بڑے لوگ کھا سکتے ہیں- اسكو کئی مراحل میں باٹا گیا ہے- ٠ سے ٦ ماہ  ماں کا دودھ، ٦-٩ مہینے، ٩-١١ ماہ، ١١-١٢ مہینے کے درمیان میں کھانے کی مقدار تھوڑی- تھوڑی بڑھاتے ہیں- غذا تو کسی بھی جسم کی بنیاد  ہے"

ڈاکٹر دویدی بتاتے ہیں کہ بچے کے لئے نقصان دہ خوراک کیا ہے  "شروع سے ہی بچوں کو اوپر کا دودھ پلا دینا، ماں کا دودھ نہ دینا، پھاسٹپھوڈ کھلانا، کھانے میں غذائی اجزاء کی کمی ہونا، اچھا کھانا نہیں دینا، متوازن غذا نہ دینا، وقت پر کھانا نہ کھلانا، یہ ساری چیز ہیں- متوازن غذا ضروری ہے بچوں کی ترقی کے لئے- ٦ ماہ کے بچے کے لئے ماں کا دودھ متوازن خوراک ہے-"

نومولود بچوں کو پیدائش کے بعد ٦ ماہ تک واحد ماں کا دودھ ملنے سے ان کے جسم کے دفاعی صلاحیت بڑھ جاتی ہے- نمونيا سے ہی نہیں بلکہ بہت ساری بیماریوں سے بچانے کے لئے ماں کا دودھ ضروری ہے- ماں کے دودھ سے بچوں کی 'اميونٹي' (دفاعی صلاحیت) زیادہ بڑھ جاتی ہے- ماں کے دودھ سے نمونيا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں- اس بچے کے مقابلے میں جو ماں کا دودھ نہیں  پی رہا ہے- حالانکہ نمونيا سے بچانے کے لئے اور بھی احتیاط برتنا چاہئے جیسے کہ ٹھنڈ سے بچانا چاہئے- لیکن جو بچے ماں کا دودھ پی رہے ہیں ان کو نمونيا ہونے کے امکانات کم ہوتی ہیں کیونکہ ان کی دفاعی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے-

پہلے کے مقابلے میں لوگ کہیں زیادہ بیدارہوئے ہیں- "ماں کے دودھ  کے بارے میں بیداری بڑھ گئی ہے- جو عورتیں پہلی بار ماں بنی ہیں وہ دھودھ پلانے کا صحیح طریقہ سیکھنے کے لئے بہت دلچسپی لے رہے ہیں- اس پر بیداری مہم بھی چل رہا ہے- معالج بھی ماں کے دودھ کو کافی فروغ دیتے ہیں- دیکھا جائے تو پہلے کے مقابلے میں ماں کے دودھ پلانے میں اضافہ ہوا ہے "یہ کہنا ہے ڈاکٹر كےاین دویدی کا-

گورکھپور کی ایک بستی میں رہنے والے مسٹر پردیپ سریواستو کا کہنا ہے کہ  "یہاں تو مایں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں لیکن کچھ لوگ اب بھی نہیں پلاتے ہیں- اب تو کئی سارے پروگرام چل رہے ہیں جس کی وجہ سے مایں اپنا دودھ پلانے  لگی ہیں-"
گورکھپور کی بستی میں رہنے والی اندراوتي بتاتی ہے کہ "ہمارے نواسے کو نمونيا ہوا تھا اس بچے کو ماں کا دودھ ٥-٦  ماہ تک پلایا گیا تھا اور اب اسے گائے کا دودھ پلا رہے ہیں"

معاشرے میں بیداری ہونے کے باوجود بھی کئی فرقے ایسے ہیں جہاں ماں کے دودھ کے مفادات کے بارے میں کافی بیداری نہیں پہنچی ہے- معاشرے میں پھیلی غلط فہمیاں ہیں اور ایسے رسم  رواذ ہیں جو بچے کو واحد ماں کے دودھ سے محروم کر دیتے ہیں- ڈاکٹر دویدی کا کہنا ہے کہ  "ماں کے نہ پلانے کا سب سے بڑا سبب ہے کہ کچھ خاندانوں کو نومولود کو ماں کا دودھ پلانے کے فا یدوں کے بارے میں پتہ نہیں ہے- زیادہ تر لوگوں کو ماں کے دودھ کی اہمیت سمجھانے سے سمجھ میں آ جاتا ہے- کچھ لوگ معاشرے میں کچھ غلط فہمی ہونے کی وجہ سے بچے کو ماں کے دودھ  سے محروم رکھتے ہیں"

جو مایں بوتل سے دودھ پلاتی ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے- ڈاکٹر دویدی کے مطابق  "بوتل سے دودھ نہیں پلانا چاہیے کیونکہ اس سے انفیکشن ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، بوتل سے دودھ پینے سے بچے کے سانس کی نالی میں دودھ جا سکتا ہے- بوتل سے دودھ پینے والے بچے میں عام ماں کا دودھ پینے والے بچے سے چار سے پانچ گنا زیادہ 'اسپریشن نمونيا' ہونے کا خطرہ ہے- یہ نمونيا بوتل سے دودھ پینے کے دوران جب سانس نالی میں دودھ چلا جاتا ہے اس کی وجہ سے بچے خطرے میں آ جاتے ہيں"
 
جتیندر دویدی- سی این ایس    
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: