Thursday, November 10, 2011

ماں کا دودھ - نومولود کا پہلا ٹیکہ

ماں کا دودھ نومو لود اور بچوں کے لئے ایک غذائیت سے بھرپور خوراک ہے- یہ بچے کے لئے گراس کی طرح ہے اور اسے بچے کو دیا جانے والا پہلا ٹیکہ (ویکسین) بھی کہا جا سکتا ہے- ماں کے دودھ میں بچوں کوپرورش کرنے کی منفرد صلاحیت ہوتی ہے- اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں مرض سے لڑنے والے عناصر(اميون گلووناش) پائے جاتے ہیں جو بچوں کو بچپن کی عام بیماریوں سے جن میں نمونيا ایک بیماری ہے، دفاع فراہم کرتے ہیں-  نمونيا سے دنیا بھر میں روزانہ ٤٣٠٠ سے زیادہ بچوں کی موت ہوتی ہے- ماں کا دودھ مکمل طور سے محفوظ، ہضم کرنا آسان ہوتا ہے-

 ماں کا دودھ  بچے کی صحت اور زندگی کے لئے سب سے سستا اور موثر ہے- پیدائش کے بعد  پہلے چھ مہینوں تک بچوں کو ماں کے دودھ سے محروم رکھنے کی وجہ سے دنیا میں لاکھوں بچوں کی ہر سال موت ہوتی ہے جو روکی جا سکتی ہے- ماں کا دودھ بچوں کو فوری فائدہ دینے کے علاوہ انہیں زندگی بھر جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہنے کی صلاحیت دیتا ہے- اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ عالمی صحت ادارہ بچے کی پیدائش سے پہلے ٦ ماہ تک ماں کے دودھ کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کرتا ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ ، جو 'والسلي ریسورس سنٹر فار ہیلتھ' کی اہم کارکن ہے اور نسواں ا مرا ض کی ماہر ہیں، کے مطابق مکمل طور پر ماں کے دودھ  کا مطلب ہے کہ بچے کو صرف اور  صرف ماں کا دودھ ہی دینا چاہیے، ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی بھی اور چیز جیسے پانی، گراپواٹر یا شہد نہیں دینا چاہیے- ماں کے دودھ میں بیماری دفاعی عناصر پائے جاتے ہیں جو بچوں کو کئی قسم کی بیماریوں، خاص کر نمونيا و دست سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں-

اس کے علاوہ ماں کا دودھ ، بچوں کی ذہنی صلاحیت کو فروغ دینے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے- یہ پایا گیا ہے کہ ماں کا دودھ پینے  والے بچوں کا ذہنی درجہ اوپر کا دودھ پینے والے بچوں کی توقع ١٠ گنا زیادہ ہوتا ہے- ماں کا دودھ پینے  والے بچوں میں زندگی میں آگے جاکر جلد والی بیماریوں، دمہ اور دل متعلق بیماریوں کے فی الرجی کو بھی کم کرتا ہے-

 مشہور اطفال مرض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي، جن کا ایک ذاتی کلینک ہے، کے مطابق صرف ماں کا دودھ  ہی اپنے نو مو لود کا سب سے بہترین کھانا ہے-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا ، جو لکھنؤ کی ایک مشہور نومولود امراض کے ماہرہیں، کے مطابق ماں کا دودھ  ماں اور بچے کے درمیان جذباتی تعلق قائم کرتا ہے جس سے ماں اور بچے کے تعلقات اور مضبوط ہو جاتے ہیں- اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں کچھ خاص هارمونس پائے جاتے ہیں جو گائے یا بھینس کے دودھ میں نہیں ہوتے ہیں- یہ هارمونس بچے میں مختلف بیماریاں جن میں سے نمونيا ایک ہے، سے حفاظت فراہم کرتا ہے-

ڈاکٹروں کی طرف سے ماں کے دودھ کے معیار کو ثابت کرنے کے بعد بھی ٤٠ فیصد سے کم نومولود بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے- ڈاکٹر نیلم سنگھ کی کلینک میں آنے والی ماؤں میں سے صرف ١٥ فیصد یا ٢٠ فیصد مائیں  ہی اس اصول پر عمل کرتی پائی گئی ہیں- اس موضوع میں ماؤں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ ماں کا دودھ پلانے کے سلسلے میں انہیں کئی طرح کے فریب ہیں جیسے پستان کے 'نپل' میں درد ہونا، یا کافی مقدار میں بچے کے لئے دودھ کا نہ ہونا، دودھ سے متعلق دیگر معلومات نہ ہونا یا کچھ معاشرے میں رسم کی دیوار وغیرہ-

ڈاکٹر نیلم سنگھ کے مطابق نومولود بچے کی ماں کو اپنا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے نہ صرف ڈاکٹر بلکہ نرس، اور دیگر لوگوں کا بھی تعاون ضروری ہے- ڈاکٹر کو ماں کو اس بات کا یقین دلانا چاہیے کہ صرف اپنے دودھ  کے ذریعے ہی نومولود کو خوراک حاصل ہوتا ہے- ڈاکٹر کو ماں کو بچے کی پیدائش کے بعد ہی اپنا دودھ  شروع کرنے کا مشورہ دینا چاہیے- طبی عملے (پیرامیڈكل اسٹاف) کا فرض ہے کہ وہ ماں کو نومولود کو صرف اپنا دودھ پلانے  کے لئے حوصلہ افزائی کریں- خاندان کے ارکان کا بھی فرض ہے کہ وہ ماں کو اس کی اہمیت بتائیں اور ماں کے كھان پان اور غذائیت کا بھی خیال رکھیں-

کام کاجی ماؤں کے لئے ان کے کام کرنے کی جگہ کا ماحول، اور کام کرنے کی سہولتیں نومولود بچوں کے موافق ہونی چاہئے- کام کاجی ماؤں کو اپنے بچے بچوں کو دودھ پلانے کی سہولت ملنی چاہئے- دفتر میں انہیں ایک تنہائی کی جگہ ملنی چاہیے جہاں وہ دودھ پلا سکیں- حاملہ کام کاجی خواتین کو ٦ ماہ کی مادری چھٹی ملنی چاہیے- دنیا کے کئی ملکوں نے اس جانب قدم اٹھائے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ابھی اس موضوع پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے-

ڈاکٹر ایس. این. رستوگي کا کہنا ہے کہ ''کچھ خواتین اپنی جسمانی شکل پر انتہائی توجہ دیتی ہیں- وہ سوچتی ہیں کہ اپنا دودھ پلانے سے ان کی جسمانی خوبصورتی کم ہو جائے گی، ''لیکن ایسا سوچنا بالکل غلط ہے- اس کے علاوہ کچھ حاملہ خواتین خود اتنی کم غذائیت والی ہوتی ہے کہ انہیں اس بات کا ڈر بنا رہتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو مناسب مقدار میں اپنا دودھ نہیں دے پايےگي-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا کہنا ہے کہ ''ہندوستان میں زیادہ تر حاملہ خواتین کم غذائیتوالی ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر بنا رہتا ہے کہ وہ مناسب مقدار میں نومولود بچوں کو اپنا دودھ نہیں دے پايےگي- لہذا وہ ڈبے کا اور دیگر قسم کا اوپر کا دودھ بچوں کو پلانا شروع کر دیتی ہیں- ماں کے دودھ کے علاوہ دیگر تمام قسم کے دودھ نوزائیدہ بچے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں- اگر نومولود کو ٦ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلایا جائے تو اسے کئی قسم کے انفیکشن والی  بیماریوں کے ہونے کے امکان کم ہو جاتے ہیں-  تقریبا ١  فیصد مثالوں میں پایا گیا ہے کہ ماں کا دودھ مناسب مقدار میں نہیں ہوتا ہے، یا حاملہ عورت کسی شدید بیماری سے متاثر ہے- انہی کیفیات میں ڈاکٹر بچے کو صرف اس کے استعمال کے لئے بنایا گیا ڈببے کا دودھ جو بازار میں دستیاب ہوتا ہے اور جسے ماں- باپ خرید سکتے ہیں، نومولود بچے کو پلانے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن ڈبے کے دودھ اور بوتل سے دودھ پلانے میں کئی خرابياں ہیں- بوتل سے دودھ پلانے میں صفائی  کا انتہائی خیال رکھنا چاہیے، ورنہ بچے کو کسی بھی قسم کا انفیکشن ہونے کے امکان رہتے ہیں، اس کے علاوہ بوتل سے دودھ پلاتے وقت مائیں اکثر اس میں پانی ملا دیتی ہیں- ایسا دودھ پینے والے بچے میں غذائیت کی کمی رہتی ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچے کے لئے بنایا گیا ڈببے کا دودھ بچے کو غذائی عناصر تو دے سکتا ہے لیکن اس قسم کے بچے کے دودھ میں 'اميون گلوونس نہیں پائے جاتے ہیں- ساتھ ہی بوتل سے دودھ پلانے میں انتہائی صفائی  کا خیال رکھنا ضروری ہے جو ہمارے ملک میں ممکن نہیں ہے- ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اعلی درجہ حرارت کئی قسم کے متعدی بیماریوں کو پھیلانے میں معاون ہوتا ہے- ڈبے کا دودھ بچوں کو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت نہیں فراہم کرتا ہے-

ماں کے دودھ کے فوائد  کے بارے میں نا علمی کی فضا میں بھی محترمہ الپنا سنگھ ایسی کچھ ماؤں میں سے ایک  ہیں  الپنا نے اپنے دوسرے بچے کو شہر کے پرائیویٹ نرسگ ہوم (سٹی ہسپتال) میں آپریشن کے ذریعے پیدا کیا- وہ کہتی ہیں، ''میں نے آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش کے ٹھیک بعد سے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیا اور ٦ ماہ تک میں نے اپنے بچے کو پانی یا اوپر کا دودھ نہیں دیا- مجھے ٣ ماہ کے زچگی تعطیل کے بعد اپنا عہدہ سنبھالنا پڑا- میں پستان پمپ کی مدد سے اپنا دودھ ٣-٤ گھنٹے تک جمع کر لیتی تھی- اس طرح میں نے اپنے بچے کو کم از کم ایک سال تک اپنا دودھ ہی پلایا-
ماں کے دودھ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے صحت سہولتیں دستیاب ہونی چاہیے- مثال کے طور پر نومولود بچوں کی ماؤں کو اس دودھ کے موضوع کے مشیر دستیاب ہونا چاہئے- ماں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا چاہیے- ماؤں  اور بچوں کو اس طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ١٥٠ ممالک میں ٢٠٠٠٠ سے زیادہ بچوں کو فلاحی سہولتیں دستیاب ہیں- اس کے لئے ہم عالمی صحت ادارہ،  يونيسیپھ (WHO ،UNICEF) کے بہت شکر گزار ہے-  ہمیں صرف ماؤں کو نہیں بلکہ ان کے خاندانی اراکین کو بھی اس دودھ کے فایدوں سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے- ماں کے دودھ  کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے مکمل معاشرے کے تعاون کی ضرورت ہے-

سوميا اروڑا - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: