Thursday, November 10, 2011

سب سے زیادہ ضرورت مند بچوں کو نہیں لگ رہا ہے نمونيا کا ٹیکا

پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں نمونيا سب سے بڑی موت کی وجہ ہے- اس کے باوجود نمونيا کا ٹیکا حکومت ہند کے اطفال ٹيكا پروگرام کا حصہ نہیں ہے- اس کو ذاتی طور پر خریدنا پڑتا ہے اور مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے- سب سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ جن بچوں کو نمونيا کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، ان کو نمونيا کا ٹیکا لگنے کے امکانات سب سے کم ہیں- مثال کے طور پرکیونکہ نمونيا کا ٹيكا حکومت اپنے صحت کے پروگرام میں نہیں فراہم کرتی ہے ایسے بچے ہو جو غریب خاندان سے ہیں، جن کے لئے صفائی، بغیردھویں کا ماحول، بھیڑبھاڑ، غذائیت سے بھرپور خوراک، صحت بیداری، وغیرہ ملنے کے امکانات کم ہیں، ایسے ہی بچوں میں نمونيا زیادہ ہوتی ہے اور بہت ہی خطرناک شکل لیتی ہے-

گورکھپور کی ایک بستی میں رہنے والے پردیپ سریواستو کا کہنا ہے کہ  "میرے یہاں بھی بچے کو نمونيا ہوا تھا- جس بستی میں ہم لوگ رہتے ہیں وہاں زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کو ٹيكا تو لگوا رہے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ابھی بھی نہیں لگوا رہے ہیں- ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے بچوں کو ویکسین نہیں لگوا رہے ہیں، ان کے لئے بیداری پروگرام کی ضرورت ہے اور ان کو بیدار کیا جا سکتا ہے- گزشتہ سال ایک خاندان ٹيكا نہیں لگوا رہا تھا، جن کو ہم لوگوں نے بیدار کیا اس بار اس نے لگوايا ہے"

غور طلب ہو کہ پردیپ کو یہ نہیں معلوم ہے کہ ویکسین نمونيا کا لگا ہے کہ نہیں- جس ٹیکے کا پردیپ ذکر کر رہے ہیں وہ سرکاری صحت کے پروگرام کے تحت مفت بچوں کو مہیا کیا جاتے ہیں اور اس میں نمونيا کا ٹیکا شامل نہیں ہے-
گورکھپور کی بستی میں رہنے والی اندراوتي بتاتی ہیں کہ "ہمارے نواسے کو نمونيا ہوا تھا- بچے کے گلے میں دقت تھا، سانس پھول رہی تھی، پیٹ میں بھی درد تھا، بخار بھی تھا- ڈاکٹروں نے بتایا کہ نمونيا ٹھنڈ کی وجہ سے ہوئی تھی- اس بچے کو ماں کا دودھ ٥-٦ ماہ تک پلایا گیا تھا اور اب اسے گائے کا دودھ پلا رہے ہیں "

اندراوتي آگے بتاتی ہیں کہ "بچوں کو ٹیکا برابر لگوا رہے ہیں-" پوچھنے پر کہ "کون-کون سا ٹیکا لگا ہے" تو اندراوتي کہتی ہیں کہ  "ٹیکے کے بارے میں نہیں بتا پایں گے- سرکاری اسپتال سے لگوايا تھا اور کوئی پیسہ نہیں لگا تھا-"

ظاہر ہے کہ نمونيا کا ٹیکا سرکاری منصوبے میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ بچوں میں یہ ایک بڑی موت کی وجہ ہے-
 
جتیندر دویدی - سی این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: