Wednesday, November 9, 2011

معاشرے میں نمونيا کے ٹیکے کے بارے میں علم

بازار میں نمونيا سے بچاؤ کے لئے ویکسین دستیاب تو ضرور ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں نہیں پتا ہے- اور یہاں تک کہ کچھ ڈاکٹر بھی اس سے نا معلوم ہیں- ایک مطالعہ کے مطابق بچے جنکے نمونيا سے بچاؤ کا ٹيكا نہیں لگتا ہے، ان میں نمونيا سے مرنے کا ٤٠ گنا زیادہ خطرہ رہتا ہے- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونیا سے بچاؤ کے لئے کئی طرح کے ٹیکے بنایں  ہیں پر یہ ایک بہت بڑی طنزاً ہے کہ معاشرے میں اس کے بارے میں معلومات کی کمی ہے-

تمام دنیا میں ہر سال تقریبا ١٨ لاکھ، پانچ سال سے کم عمر کے بچے نمونيا کی وجہ سے مرتے ہیں اور اگر یہی موجودہ دور جاری رہا تو ٢٠١٠ سے ٢٠١٥ کے درمیان ١٣.٢ ملین سے  زیادہ اموات اسکی وجہ سے ہوں گی- لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں میں نمونيا کے ٹیکے کے بارے میں بیداری بڑھاي جائے جس سے کہ ہر ماں باپ اپنے بچے کو وقت پر نمونيا سے بچاؤ کے ٹیکے لگوايے- ایک مطالعہ کے مطابق نمونيا سے بچاؤ کے لئے استعمال کئے جانے وا لے  'هيب' ٹیکے کے وسیع استعمال سے تقریبا چار لاکھ اموات کو روکا جا سکتا ہے-

عالمی صحت ادارہ  نے بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے دو طریقے کے ٹيكو کے استعمال کو قرار دیا ہے- پہلا ٹیکہ 'هيموپھيلس انپھلنجي ٹائپ بی' (هيب) اور دوسرا 'نموكوكل كنجو گیٹ ویکسین' (پيسيوي ١٣) کے نام سے جانا جاتا ہے- 'هيب' ٹیکا وسیع پیمانے پر تقریبا ١٣٦ ممالک میں دستیاب ہے جبکہ 'پيسيوي ١٣'  ٹیکا ہندوستان سمیت صرف ٣١  ممالک میں دستیاب ہے- 'هيب' ٹیکا، بچوں کو نمونيا سے بچانے میں اثردار ٹیکا ہے لیکن ترققی کر رہے ممالک میں ابھی کافی مقدار میں بچے اس  ٹیکے سے محروم ہیں- ایک تحقیق کے مطابق ٢٠٠٣ میں،  ترققی کر رہے ممالک  کے ٤٢٪ ٹیکے کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں ٩٢ ٪ بچوں نے 'هيب' ٹیکا حاصل کیا تھا-

بہرائچ ضلع اسپتال کے  اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر کے کے ورما کا کہنا ہے کہ "بازار میں نمونيا کا ٹیکا دستیاب تو ضرور ہے پر وہ بہت مہنگا ہے اس لیے سبھی لوگوں کا لگوا  پانا ممکن نہیں ہو پاتا ہے- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا سے متعلق  'انپھلونذا' ٹیکے کو تجویزدی ہے- جو چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو دو خوراک  ایک-ایک ماہ کے وقفے پر لگتی ہے-

نمونيا کے ویکسین کے بارے میں لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے جس کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں دکھانے آئی ، نمونيا سے تکلیف زدہ ڈھائی سال کے بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے کو ٹیکا  تو لگا تھا پر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کس چیز کا ٹیکا لگا تھا- نمونيا کے ٹیکے کا علم عام عوام میں ہی نہیں بلکہ کچھ ڈاکٹروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے- جس کا اندازہ ہم اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہر امراض نسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا کہنا ہے کہ "ہمارے یہاں تو ڈيپي ٹی کا ٹیکا لگتا ہے نمونيا کے لئے کوئی اور ٹیکا نہیں لگتا ہے ہمیں اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے-"

ایک طرف جہاں نمونيا تمام دنیا میں ہونے والی بچوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے اور عام انسان میں نمونيا کے بارے میں علم کی کمی ہے وہیں دوسری جانب یہ بڑی بدقسمتی کہ بات ہے کہ نمونيا ہندوستانی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے صحت پروگراموں کا حصہ نہیں ہے- لہذا حکومت کو نمونيا کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لئے قومی سطح کا پروگرام چلانا نہایت ضروری ہے- ڈاکٹر کے کے ورما کا کہنا ہے کہ عالمی صحت ادارہ کو بھی اپنی ہدایت لائن تبدیل کرنی چاہئے- نئے اور سستے ٹیکے کو اپنانا چاہئے جو سب کو مفت تقسیم کی جا سکے-

راہل کمار دویدی- سی این اس 
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: