Thursday, November 10, 2011

بچوں کی اچھی غزائیت اور نمونيا سے بچاؤ

خاص ترقی یافتہ ممالک میں کم غذائیت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے- بچوں میں نمونيا اور دیگر بیماریوں کے لئے، صفائی کے ساتھ یہ بھی کافی ذمہ دار ہے- پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی موت کی ایک وجہ نمونيا بھی ہے، جس سے ہر سال 15 لاکھ بچے موت کی گود میں سو جاتے ہیں- نمونيا سے مرنے والے ٩٨ فیصد بچے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں- صاف ماحول میں، بچوں کو صحیح غذا، صحیح مقدار اور مناسب وقت میں دے کر ان میں سے اندازا دو تہائی بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے-

غربت کی وجہ سے کم غذائیت اور انتہائی غذائیت کی وجہ سے بچوں میں موٹاپے کا ہونا، دونوں ہی حالات کم غذائیت کے تحت آتی ہیں- بنیاد سے کھانے میں پروٹین، توانائی اور ما ئکرونیو ٹرینٹس جیسے وٹامنس وغیرہ کی کمی، کم غذائیت ہی ہوتا ہے- اور بچوں میں باربار انفیکشن اور دیگر بیماریوں کو بڑھاتا ہے- غذائیت کی کمی بچوں کی کمزور مرض دفاعی صلاحیت کی وجہ سے، انےكو انفیکشن ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مرض ہونے اور بیماریوں سے موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں-  غذائیت کی کمی، پیدائش کے وقت کم وزن کا ہونا، كھسرا، وٹامن 'اے' کی کمی ، ٹيبي وغیرہ نمونيا کے ہونے کو فروغ دیتے ہیں- اور نمونيا بچے میں سانس سے متعلق امراض جیسے دمہ وغیرہ کے ہونے کا ایک بڑا پہلو ہوتا ہے-
مناسب غذا بچے کی دفاعی صلاحیت بڑھاتی ہے جس سے بچے میں انفیکشن ہونے کے امکان میں کمی کے ساتھ ساتھ بیماری سے لڑنے اور اس سے نکلنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ ، ماہر امراض نسواں جو ''واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ'' کی اہم كارکن بھی ہیں، کا کہنا ہے ، ''بچے  کے لئے اچھا كھان پان بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس مدت میں جسم و دماغ کی ترقی کی وجہ سے غذائی اجزاء کی ضرورت بہت زیادہ رہتی ہے- لیکن ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ بڑھتے بچوں کے لئے ''کون سے اور کتنا'' غذائی چیزیں ضروری ہیں- کیونکہ الگ الگ عمر کے بچوں کے لئے غذائی اجزاء کی مقدار مختلف ہوتی ہے- ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر کم غذائیت کے شکار مائیں کم وزن کے بچے کو پیدا  کرتی ہیں- پس، ماؤں کی خوراک اچھی ہونا چاہیے، جس سے وہ دنیا میں صحت مند بچوں کو پیدا کریں-

ڈاکٹر اس کے سهتا، ماہر امراض اطفال  لکھنؤ کا بیان ہے، ''آج کل، بڑے شہروں میں بچے فاسڈ فوڈ، ریڈيمیڈ فوڈ زیادہ تیليي و مسالےدار مادوں کا استعمال کر رہے ہیں- اس طرح کی خوراک انہیں زیادہ موٹا بناتی ہے- اور مستقبل میں ڈايبٹيج اوردل کی بیماری کے امکانات بڑھاتا ہے ''

ڈاکٹر نیلم سنگھ  نے کہا کہ، ''ہمارے ملک میں نمونيا اور دست سے ہونے والی زیادہ تر موت کی وجہ غذائیت کی کمی ہی ہے- ہمارے اتر پردیش میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا ٤٦ فیصد بچے کم غذائیت کے شکار ہیں- حال ہی میں کئے گئے ایک متعلئیے  کے مطابق ہم نے کئی نومولود کو چائے اور کولڈ مشروب تک دیتے ہوئے دیکھا- بچوں کو گھٹي (گراپ واٹر) تک دی جاتی ہے، اور بچوں کو دیے جانے والے باہر کے دودھ کو یا تو مقدار بڑھانے کے لئے یا اس تصور کے لئے کہ بچے خالص دودھ کو ہضم نہیں کر سکیں گے، زیادہ پانی ملا کر پتلا کیا جاتا ہے- اسی طرح کی وجوہات سے بچے کو اوپر توانائی کا غذائی مادہ نہیں دیا جاتا ہے- کئی بار، بڑھتے بچوں کی ضروریات کو نہ دیکھ کر گھر کے بڑوں کی پسند کا کھانا بنایا جاتا ہے-''

شہر کے مشہور اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي نے کم غذائیت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ، ''یہ ایک عام غَلَط فہمی ہے کہ بچوں کو خالص ماں کا دودھ نہیں  دینا چاہیے، بلکہ اس میں برابر مقدار میں پانی ملانا چاہیے، نہیں تو یہ دست کا سبب ہو گا- زیادہ تر بچوں میں کم غذائیت کی وجہ دودھ کو سیال کرنا ہے- کم وزن کے بچوں  کو اعلی پروٹین والے سپليمنٹ دیے جانے چاہیے-''

ڈاکٹر نیلم سنگھ واضح کرتی ہیں کہ ، ''اچھی غذائیت کا مطلب مہنگا مادہ نہیں ہے-  زیادہ تر زیادہ قیمت کی اشیاء میں ہی ضروری غذائی عناصر دستیاب نہیں ہوتے ہیں بلکہ سستے اور مقامی دستیابی والے گھر میں بنائے کھانے میں بھی وہی غذائی مادہ دستیاب ہو سکتے ہیں- اس ضمن میں، میں ایک مثال کا ذکر کرنا چاہوں گی کہ اگرچہ آج کل ٹی وی پر ایسے برانڈ بچے کے کھانے کا اشتھار دکھایا نہیں جاتا ہے، پھر بھی یہ ایک انتہائی عام فوڈ سپليمنٹ ہے- یہاں تک کہ گھروں میں کام کرنے والی نوکرانی كا اپنے امیر مالکان کی نقل کرکے اپن بچوں کو یہی كھلاتي ہیں- یہ سپلمنٹ فوڈ بچے کو سوجی کی کھیر، دليا اور دال جتنا ہی غذائیت دیتا ہے- گاؤں کی ناخواندہ ماؤں کے بچوں کے علاوہ شہروں کی تعلیم یافتہ ماؤں کے بچے بھی کم غذائیت کے شکار ہوتے ہیں-''

صاف پانی اور صحت کے لئے اسباب کا کم مہیہ ہونا نمونيا کے ہونے کی وجہ ہیں- بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں صفائی کے ذریعوں پر زیادہ زور دینے کے لئے ہم 'عالمی هنڈ واش ڈے' مناتے ہیں- ڈاکٹر اس كے سهتا کے مطابق، ''صفائی متعلق سائنس کی معلومات کسی بیماری، خاص طورگیسٹرو انٹسٹینل انفیکشن کے ہونے کے عوامل کے لئے ضروری ہے- نمونيا کے تناظر میں بھی بچے کو چھونے سے پہلے ہاتھ دھونے سے بچے کو انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے-''

ڈاکٹر نیلم سنگھ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ، ''بچے کی دیکھ بھال کرنے والے کو صفائی اور صحت کے موضوع میں بیدار رہنا چاہیے- بچے کے پاخانے / پیشاب کو صاف کرنے کے بعد ہر بار ہاتھ صابن اور پانی سے بھلی طرح دھونا چاہیے- اسی طرح بچے کو دودھ دینے کے سابق اور بعد میں بھی ہاتھوں کو صاف کرنا چاہیے- بچے کو پینے کے لئے صاف پانی اور کھانے کے لیے تازہ اور صاف کھانا ہی دینا چاہیے- کھانا بند رکھنا چاہئے اور الودہ ہونے سے روکنا چاہیے- بچے کے آس - پاس صاف رکھنا چاہیے، پانی کو جمع نہیں ہونے دینا چاہئے اور بچے کو روزانہ نہلایئں اور صاف کپڑے پهنا یں- انفیکشن سے ہونے والے امراض، جیسے نمونيا و دست سے بچاؤ کے لئے یہ آسان و عام صفائی ستھرائی کے طریقے ہیں-

ڈاکٹر اس این رستوگي ، بچے کو دودھ پلانے سے پہلے پستان کو صاف کرنے پر زور دیتے ہیں- ان کی صلاح ہے کہ بچے کو اگر بوتل سے دودھ دینا ضروری ہو، تو کم سے کم ٤ بوتل اور ٤-٥ نپل ضرور ہونے چاہیے- بوتلوں اور نپپلوں  کو استعمال میں لانے سے پہلے ٹھیک طرح سے ابالنا چاہیے- بچے کو صاف ستھرے کپڑے پہنانے چاہئے- ایک رواز کے مطابق بچے کو ایک ماہ تک پرانے کپڑے پہنائے جاتے ہیں- یہ غلط ہے-

غربت کے خاتمہ ، کم غذائیت کی پریشانی کو دور کرنے میں بین الاقوامی کوششوں کے علاوہ لوگوں کو اچھئ غذائیت کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کرنا چاہیے- ڈاکٹر نیلم سنگھ کا مشورہ ہے، ''الگ - الگ عمر کے بچوں کی الگ-الگ غذائی اجزاء کی ضرورت کے بارے میں عام لوگوں کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیے- تجارتی بنیاد پر صرف قومی اور عالمی کونسل میں ہی ان مکالمات پربات کو نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ ہر عوام تک اس بات چیت کو نشر کرنے کی ضرورت ہے-"

سوميا اروڑا سی این اس 
(ترجمہ: ندیم سلمانی )

No comments: