Wednesday, November 9, 2011

غذا اور صفائی کا خیال رکھکر بچوں کو نمونيا سے محفوظ رکھیں

 حمل سے ہی غذا اور صفائی کا خیال رکھا جائے تو پیدائش کے بعد نومولود بچے میں ہونے والی نمونيا جیسی بیماریوں سے اس کی حفاظت کی جا سکتی ہے، اور بچے کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے-

نمونيا پانچ سال تک کے بچوں میں ہونے والی ایک عام بیماری ہے جس سے، اگر ماں چاہے تو اپنے بچے کو محفوظ رکھ سکتی ہے- ضرورت ہے تو صرف تھوڑی سی بیداری کی اور بچے کی پیدائش سے قبل ہی اس کے لئے تیاری کرنے کی-
    
ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھ دھر کے مطابق ''جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ آئرن، کیلشیم، پروٹین وغیرہ کی گولی لیں اور کھانے میں ایسی چیزیں کھایں جن میں پروٹین ہوتا ہے، جیسے سویا بین، اور گڑ جس میں آئرن بہت ہوتا ہے- گڑ آئرن کا بہت اچھا ذریعہ ہے، شہر اور گاؤں دونوں جگہ آسانی سے مل بھی جاتا ہے- یہ مہنگا بھی نہیں ہوتا ہے- ساتھ ہی پنیر اور دودھ بھی لیں جس میں پروٹین اور کیلشیم دونوں ہوتا ہے- تو اگر ماں کو اچھی غذا دیں گے تو بچہ صحت مند پیدا ہوگا- اس سے ایک فائدہ اور ہوتا ہے کہ بچہ وقت سے پہلے نہیں ہوتا ہے- جب بچہ وقت پر ہوتا ہے تو بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے-''
    
ڈاکٹر شنکھدھرنے یہ بھی بتایا کہ ''صاف صفائی کا مکمل خیال رکھنا چاہئے- بچے کو گود میں اٹھانے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھو لیں، اور دودھ پلا نے سے پہلے اپنے پستان کو کسی گیلے توليے سے پونچھ لیں، جس سے پسینے یا پھر اگر پاوڈر یا کریم وغیرہ لگاتی ہیں تو یہ بچے کے منہ میں نہ جائے- ماں کو روز نہانا چاہیے، اور بچے کو بھی روز نهلاكر اس کے کپڑے بدلنے چاہیے- ہر بار پیشاب یا پخانا وغیرہ کرنے پر بچے کے کپڑے تبدیل کریں اور گندے کپڑوں کو صابن سے دھو کر اور ٹھیک سے سكھاكر ہی انہیں پهنایں- کبھی بھی گیلے کپڑے بچے کو نہ پهنا یں- ساتھ ہی جب بچہ تھوڑا بڑا ہو جائے اور کچھ کھانے لگے تو یاد رکھیں کہ انہیں باہر کی چیزیں نہ دیں- صرف گھر کی بنی چیزیں ہی انہیں دیں اور مرچ مسالے کی چیزوں سے بچوں کو دور رکھیں-''         

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہرامراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما بچوں کی  غذا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ''جو ہمارے جسم کے ضروری عناصر ہیں، جیسے کاربوہائیڈریٹ، پروٹین ، چربی وغیرہ، وہ ایک خاص مقدار میں ہمارے جسم کے حساب سے ضروری ہیں جب وہ صحیح مقدار میں جسم کو حاصل ہوں تو اسے ہم اچھی غذا کہتے ہیں- اگر ہم بچے کو مفید خوراک دیتے ہیں، جس میں ہر طرح کی دفاعی چیزیں موجود ہوں، تو اس سے جسم کی بیماری سے لڑنےکی صلاحیت بڑھتی ہے- وہ سیدھے طور پرتو نمونيا کو نہیں روک سکتی ہے- لیکن جسم کو نمونيا سے لڑنے کی طاقت ضرور فراہم کرتی ہے، اور وہ مناسب کھانے سے ہی آتی ہیں- تو یقینی طور پر ایک مفید خوراک سے جسم کو ہر طرح کی بیماری سے بچانے میں مدد ملتی ہے-''

 ہرخاتون جب وہ حمل میں ہوتی ہے تو اس کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اس کا ہونے والا بچہ صحت مند اورتندرست ہو، اور پیدائش کے بعد تمام طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہے- اگر وہ اپنے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں تو حمل سے ہی اپنے اور بچے کے غذا کا خیال رکھے جس سے پیٹ میں پل رہے بچے کی ٹھیک سے ترقی ہو سکے، اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے کے لئے بھی ضروری عناصر مل سکیں- اس کے لئے اگر ممکن ہو تو ماں کو دودھ، انڈے، مچھلی اور گوشت وغیرہ فراہم کریں جس سے اسے پروٹین پوری مقدار میں مل سکے- اگر سبزی خورہیں تو اس کے لئے اناج اور دلوں کا استعمال کر سکتی ہیں- چینی کے مقام پر گڑ کا استعمال کریں اور کیلشیم کے لئے باجرے کا استعمال کریں- وٹامن کے لئے سبز پتے والی سبزی کا استعمال کر سکتی ہیں- اس طرح اگر حمل سے ہی غذا کا خیال رکہیں گی تو پیدائش کے بعد ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کو وہ تمام ضروری عناصر مل جایں گے جو بچے کو نمونيا جیسی بیماری سے لڑنے میں مدد کریں گے اور بچہ صحت مند رہے گا-
 
ندیم سلمانی- سی این اس

No comments: