Thursday, November 10, 2011

بچوں میں نمونيا سے بچاؤ کے لئے صحیح غذا اور صفائی ضروری

کسی بھی شخص کو زندہ رہنے کے لئے بھرپور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے- کوئی بھی شخص اگر اپنے بچوں کو چست و تدروست رکھنا  چاہتا ہے تو اسے اپنے بچوں کو صحیح مقدار میں صاف و بھرپور غذا دینا چاہئے- اگر کھانا صاف اور بھرپورغذا میں نہیں ہے تو فائدہ نہ کرکے نقصان پہنچاتا  ہے اور جسمانی صلاحیت کو بھی کم کرتا ہے، نتیجے کے طور پر کئی خطرناک بیماریاں ہو جاتی ہیں- جس میں سے نمونيا سربراہ ہے-

  سنیچر ١٢ نومبر کو عالمی نمونيا دن کے موقع پر واتسلي کلینک کے معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سنتوش رائے نے ہمیں بتایا کہ بچوں کو اچھی غذا دینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک اچھی غذا میں کئی طرح کے انٹی با ڈیز، وٹامنس جیسے وٹامن- 'سی' ہوتی ہے جو ایک 'انٹی آكسيڈنٹ' کی طرح کام کرتی ہے اور جسم کی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتی ہے، جو بچوں کو جلدی- جلدی بیمار ہونے سے بچاتی ہے- ناکافی غذایت کے شکار بچوں کو ان بچوں کے مقابلے میں جو صاف اور بھرپور غذا لیتے ہیں انفیکشن زیادہ ہوتا ہے -


ڈاکٹر سنتوش رائے 'جنك فوڈ' کو آج کے ماحول میں خطرناک سمجھتے ہیں، صفائی کا کردار کو بہت ضروری مانتے ہوئے ڈاکٹر رائے بتاتے ہیں کہ پیٹ کی بیماری ہی نہیں 'وایرل نمونيا' بھی صفائی کی کمی سے ہو سکتا ہے، جس میں ماں والد یا گھر کے دیگر افراد کے ہاتھوں یا برتن اور دودھ کی بوتل وغیرہ کا صاف نہ رکھنا عام طور پر پایا گیا ہے-
---------------------
بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی بہترین
---------------------
'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے بچوں کی بیماری کے ماہر ڈاکٹر اجے کمار کا کہنا ہے کہ بچے کو ٦ ماہ کے بعد ماں کے دودھ  پر ہی نہ رکھیں بلکی معقول غذا دیں جس کا مہنگا ہونا ضروری نہیں- یہاں پر بھی ڈاکٹر اجے کمار 'فاسٹ فوڈ' اور 'جنك فوڈ' کا ذکر کرتے ہوئے اس کو بچوں کو نہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں اور خاص بات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی بہترین ہے نہ کہ گائے، بھینس یا ڈبے کا- کیونکہ گائے یا بھینس کا دودھ گائے یا بھینس کے بچے کے لئے بہترین ہو سکتا ہے نہ کہ انسان کے بچے کے لئے- صفائی پر ان کی بھی ایک ہی راے ہے کہ صاف جسم ہی بچے کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے-


یش اسپتال کی مشہور ماہر امراض اطفال  ڈاکٹر رتو گرگ بھی مانتی ہیں کہ اچھے کھانے کا مہنگا ہونا کوئی ضروری نہیں ہے پر ان کا ضروری عناصر سے بھرپور ہونا انتہائی ضروری ہے- ہاتھوں کے دھونے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر مایں بچوں کوکھانا کھلانے، دودھ پلانے سے پہلے ہاتھوں کو نہیں دھوتی ہیں جسسے یہ گندگی بچے کو شکار کر سکتی ہے اور اس سے نمونيا اور دیگر کئی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ رہتا ہے-

 'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی نسواں امراض کی ماہر(گولڈ میڈلسٹ) ڈاکٹر ندھی جوہری کہتی ہیں اچھی غذا تو اہم ہے ہی پر اس کا صاف ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے- اکثر گھر میں ماوں کو مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سے بھی اکثر بچے غذایت کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں- موسم کے پھل اور سبزی سے اچھی غذا کوئی دوسری نہیں ہے- کئی بار مریض انہیں 'پروٹین سیرپ' نسخے میں لکھنے کے لیے کہتے ہیں، پر وہ موسمی پھل اور سبزی کو ہی ترجیح دیتی ہیں-

 صفائی پر وہ کہتی ہیں کہ ساری بیماری صفائی کی کمی سے ہی شروع ہوتی ہیں- وہ اپنے ہسپتال میں آنے والی ماوں کو صفائی، خاص طور پر ہاتھوں کو اور بچوں کی دودھ کی بوتل، نپل وغیرہ کو کیسے صاف رکھیں، کا خصوصی علم دیتی ہیں- لیکن ایسا بھی پایا گیا ہے کہ مکمل علم و صفائی کے باوجود بھی نمونيا بیماری بچے کو ہو سکتی ہے، جیسے کہ آشیش نگم اور سنگيتا نگم کے بچے کو پیدائش سے ٥ ماہ کے  اندر ہی نمونيا ہو گیا تھا-

 لہذا قدرتی چیزوں اور صفائی سے جتنے قریب رہیں گے، اتنی ہی صحت مند زندگی کی تعمیر کر سکیں گے-

نیرج مینالي - سی  این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: