Wednesday, November 9, 2011

گھر میں سگریٹ نوشی سے بھی ہو سکتا ہے بچے کو نمونيا

گھروں کے اندر ہونے والے فضائی آلودگی سے بچوں کو نمونيا جیسی بیماری ہو سکتی ہے- کھانا پکانے کے لیے جلایا گیا ایندھن اور گھر کے افراد کی طرف سے کی گئ سگریٹ نوشی کے دھویں میں موجود نقصان دہ عناصر بالواسطہ طور پر بچے کے جسم میں جانے کی وجہ سے نومولود کو نمونيا کا قہر جھیلنا پڑ سکتا ہے- کیونکہ نمونيا کا تعلق پھیپھڑوں سے ہوتا ہے، اس لیے جب بچہ آلودگی والے ماحول میں سانس لیتا ہے تو اس ہوا میں موجود نقصان دہ عناصر کا اثر اس کے پھیپھڑوں پر پڑتا ہے اور بچہ نمونيا جیسی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے-

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق ''گاؤں میں لکڑی یا اپلے سے کھانا پکایا جاتا ہے، کیونکہ وہاں شہروں کی طرح گیس کی دستیابی نہیں ہے ساتھ ہی ساتھ گھر میں جو صاف صفائی کی جاتی ہے اس سے دھول اڑتی ہے، اور گھروں میں جانور بھی پالے جاتے ہیں- ان تمام وجوہات کی بنا پر گھر کا ماحول الودہ ہوتا ہے- اس سے بچوں کو سانس لینے میں دقت آ سکتی ہے اور انہیں نمونيا اور سانس کی دیگر بیماریاں ہو سکتی ہیں- اگر ہم گھر کا ماحول صحت مند رکھیں تو بچچوں کو ان بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے"
 
ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ ''سگریٹ اور بیڑی کے استعمال کا سیدھا اثر نمونيا پر تو اتنا زیادہ نہیں ہے، لیکن اور دوسری بیماریوں، جیسے دمہ وغیرہ، کا خطرہ رہتا ہے- آلودگی کو کم کرنے کے لئے کھانا پکانے کے لیے لکڑی یا اپلے کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے- شہروں میں فرش پر گیلا پوچھا لگانے سے گرد کو کم کیا جا سکتا ہے- اور اگر گھر میں پالتو جانور ہیں تو انہیں گھر کے باہر ہی رکھیں تو زیادہ  بہتر ہے- اس بات کا خیال رکھیں کہ بچوں کو ان سے دور رکھا جائے، اور بچوں کو جانوروں کے ساتھ کھیلنے نہ دیا جائے- گھروں میں پوچھے، مچچھرداني وغیرہ کا استعمال کریں تو اس سے بچوں کو نمونيا جیسی بیماری سے بچایا جا سکتا ہے-''

اندرا نگر میں اپنا  ذاتی  شفاخانہ چلانے والی اور  ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھدھر کے مطابق ''جن گھروں میں لکڑی یا كنڈو کے چولہے جلتے ہیں یا پھر لوگ بیڑی، سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ گھر کی فضا کو الودہ کر دیتے ہیں، اور جب بچے اس ماحول میں سانس لیتے ہیں تو یہ دھواں پھیپھڑوں میں جاکر اندر جمع ہو جاتا ہے جس سے بچوں کو کم آ كسيجن ملتی ہے ، اور بچوں کے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت دھیرے-دھیرے کم ہونے لگتی ہے- اس لئے جب گھر میں جھاڑو پوچھا ہو رہا ہے تو بچوں کو وہاں سے نکال دیں اور پانی میں پھنايل یا نیم کی پتے ڈال کر پوچھا لگائیں

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی اہلکار ڈاکٹر آر. ایس. دوبے نے گھر کے اندر سگریٹ نوشی کے بارے میں بتایا ''کہ سگریٹ نوشی کا اثر یقینی طور پر بچوں پر پڑتا ہے- جب چھوٹے کمرے میں سگریٹ نوشی کی جائے گی  تو بچہ اس کو سانس لینے کے دوران اپنے اندر جذب کرے گا جس کی وجہ سے اس کے اوپر اس کا اثر پڑے گا''

انہی سب وجوہات کی وجہ سے ریکھا کی بچی تلسی نمونيا کی شکار ہو گئی ہے- ریکھا یہ بات جانتی تک نہیں ہے کہ لکڑی کے چولہے سے نکلنے والا دھواں ہی اس کی بچی کو نمونيا ہونے کی وجہ ہے- وہ اپنی بچی کو گود میں لے کر بڑے آرام سے کھانا بناتی ہے، اور اس کا شوہر بھی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بیڑی نوش کرتا ہے، جس کا اثر اس کی معصوم بچی کو جھیلنا پڑ رہا ہے- دوا لانے پر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا ہے- کیونکہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ کمی کہاں ہے- انہیں کسی ڈاکٹر نے اس بارے میں بتایا ہی نہیں

عام طور پر نمونيا کو ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جاتا ہے- لیکن یہ اب عام بیماری نہیں رہی کیونکہ پانچ سال تک کے بچوں کی اموات نمونيا کی وجہ سے ہر سال بڑھتی جا رہی ہیں- اس لیے نمونيا کو عام بیماری سمجھکر اسے نظر انداز نہ کریں- اپنے بچے کو نمونيا اور دوسری سانس کی بیماریوں سے بچانے کے لئے گھروں کے اندر ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو روکیں اور اگر گھر میں کھانا مٹی کے چولہے پر بناتی ہیں تو اپنے بچوں کو اس کے دھوئیں سے دور رکھیں اور جس مقام پر بچے ہوں وہاں سگریٹ نوشی تو بالکل نہ کریں- تبھی آپ کا بچہ صحت مند رہ پائے گا

ندیم سلمانی - سی این اس

No comments: