Wednesday, November 9, 2011

وقت رہتے علاج بچا سکتا ہے نمونيا سے بچے کی جان

'انٹيبايوٹكس' نمونيا کے علاج کے لئے ایک قسم کی آب حیات دوا ہے جس کے وقت رہتے استعمال سے نمونيا سے نجاعت پایا جا سکتا ہے- پورے ہندوستان میں ہر سال تقریبا ٤٣ ملین لوگ نمونيا کے شکار ہوتے ہیں اور ١٠ لاکھ موتیں سانس سے متعلق انفیکشن سے ہوتی ہیں- جو کی پوری دنیا میں سانس سے متعلق انفیکشن سے ہونے والی اموات کا ٢٥ ٪ ہیں- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا کے علاج کے لئے 'انٹيبايوٹكس' کے استعمال کو مقرر کیا ہے- یہ انٹيبايوٹكس سرکاری اور غیرسرکاری صحت مراکز پر آسانی سے دستیاب ہیں پھر بھی پوری دنیا میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ١٦ لاکھ بچے نمونيا سے مرتے ہیں جو کی بچوں میں دیگر کسی بھی بیماری سے ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں-

اتر پردیش کے مختلف سرکاری اور غیرسرکاری ڈاکٹروں کا یہ ماننا ہے کہ معاشرے میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے- اگر صحیح طریقے سے لوگوں کو کسی بھی بیماری سے آگاہ کیا جائے اور وقت- وقت پر بچوں کی صحت کی جانچ کرانے کے لئے تیار کیا جائے تو پوری دنیا میں ہونے والی بچوں کی موتوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے- نمونيا جیسی بیماری سے نجاعت پانے کے لئے وقت رہتے انٹيبايوٹكس کا استعمال بہت ہی ضروری ہے- لہذا ماوں کو بچے کی صحت کے بارے میں بہت ہی خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور ذرا سا بھی شک ہونے پر جلد سے جلد کسی ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے-

نمونيا جیسی  بیماری سے نجاعت  پانے کے لئے شروعاتی علامات کو پہچان كر جلد سے جلد انٹيبايوٹكس دواؤں کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں ٢٠ ٪  ہی بچوں کی پرورش کرنے والے نمونيا کی شناخت کر پاتے ہیں جن میں  سے صرف ٥٤٪ ہی عمل کرتے ہوئے بچوں کو وقت سے ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے ہیں-
عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا کے علاج کے لئے معیار بناے ہیں- بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما نے بتایا کہ عالمی صحت ادارہ کی طرف سے نمونيا کے علاج کے لئے معیار طے کیا گیا ہے- 'سپٹران سيرپ' اور 'سپٹران ٹیبلیٹ' آتی ہے جو سارے سرکاری اسپتالوں میں مفت میں دستیاب کرائی جاتی ہے- ڈاکٹر کے کے ورما کا یہ بھی ماننا ہے کہ "سرکاری اسپتال کہ مقابلے میں غیرسرکاری ہسپتالوں میں دستیاب علاج میں بہت فرق ہوتا ہے- سرکاری اسپتالوں میں محدود دوائیں آتی ہیں اور وہی سب کو دی جاتی ہیں-  لیکن غیرسرکاری ہسپتالوں میں کئی طرح کی دوائیں دی جاتی ہیں کون سی دوا ضروری ہے اور کون سی نہیں ہے یہ سب جانچ پرکھ کر دوائیں دی جاتی ہیں"  ڈاکٹر ورما کا کہنا ہے کہ عالمی صحت ادارہ کو اپنی گائیڈ لائن تبدیل کرنی چاہئے- وہی پرانا نظام چلا آ رہا ہے اسے بدل کر نیا شروع کرنا چاہئے- نئی دواؤں اور نئے ٹیکوں کو اپنانا چاہیے"

لکھنؤ میں ایک ذاتی شفاخانے کو چلانے والی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ کہتی ہیں کہ "نمونيا سے بچنے کے لئے وقت رہتے علاج بہت ہی ضروری ہے- لہذا جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی بچے کو اسپتال میں دکھانا چاہئے- گاؤں میں اکثرلوگ ہفتہ ١٠ دن تک انتظار کرتے رہتے ہیں اور جب بچے کی حالت نازک ہو جاتی ہے تب اسپتال میں دکھانے آتے ہیں- لہذا معاشرے میں ایک بڑی بیداری ہے"

واضح ہے کی نمونيا جیسی بیماری سے بچاؤ کے لئے انٹيبايوٹكس آب حیات کی طرح کارگر ہیں لیکن وقت رہتے نمونيا جیسی جان لیوا بیماری کی علامت کو پہچان پانا اور مناسب انٹيبايوٹكس کا استعمال کرتے ہوئے علاج کر پانا معاشرے میں آج بھی ایک کڑی چنوتی کی شکل میں موجود  ہے جسے رد نہیں کیا جا سکتا- لہذا حکومت کو بھی اس سمت میں نظر ڈالتے ہوئے جلد سے جلد نمونیا کے لیے پروگراموں کی شروعات کرنی ہوگی-

راہل کمار دویدی- سی این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

No comments: