Thursday, November 10, 2011

خطرناک نمونيا سے بچاؤ کے لئے محافظ ٹیکے

نمونيا جیسی بیماریوں سے ہر سال لاکھوں بچے موثر ہوتے ہیں جب کہ ان بیماریوں کو دستیاب ٹيكو کے ذریعے روکا جا سکتا ہے- نمونيا 5 سال تک کے بچوں کی موت کی ایک وجہ ہے- اس کی وجہ سے تقریبا ١٥ لاکھ بچوں کی ہرسال موت ہو جاتی ہے- اگرچہ نمونيا ٥ سال سے کم عمر کے بچوں کی موت کا ٢٠ فیصد سبب ہے، پر بدقسمتی سے پوری دنیا میں صحت کے کل خرچ کا صرف ٥ فیصد ہی نمونيا کے لئے خرچ کیا جاتا ہے- 'سٹرپٹوكوكس نموني' 'هيموپھيلس انپھلونجي' جو نمونيا پیدا کرنے کے لئے اہم جراثیم ہیں، کی روک تھام کے لئے ٹیکے دستیاب ہیں اور کئی ملکوں میں استعمال میں لائے جا رہے ہیں، لیکن ہندوستان جیسے ملک جو کہ پوری دنیا کے بچپن میں ہونے والا نمونيا کے ٤٠ فیصد معاملے کے لئے ذمہ دار ہیں، میں اس ٹیکے کا استعمال بہت کم ہو رہا ہے- اگر یہ ٹیکہ (ویکسین) ترقی یافتہ ملک میں دستیاب ہوں اور استعمال میں لائے جائیں تو ایک اندازے کے مطابق ٥ سال سے کم تقریبا ١٠  لاکھ بچوں کی جان ہر سال بچائی جا سکتی ہے-

ٹيكا بچوں کو نمونيا سے بچاتا ہے- یہ کمزوری پیدا کرنے والی بیماری ہے جس وجہ سے اکثر بہت پرانے سانس سے متعلق امراض اور سپٹيسيميا جیسے پیچیدہ اور خطرناک نتیجے ہو سکتے ہیں- تمام بچوں کو اس سے بچنے کا حق ہے- عالمی  صحت ادارہ کا نومولود بچوں کے ٹيكا لگانے کا پروگرام بچوں کو پہلے ٦  ماہ تک کی مدت تک 'هب' اور 'نموكوكل كانجوگیٹ ویکسین' کی تین خوراک دی جانے کی سفارش کرتا ہے- اس وقت پيسيوي کچھ ہی ممالک میں دستیاب ہے جبکہ هب ٹيكا کئی ممالک کے ٹيكا پروگرام کا حصہ ہے-

نموكوكل ویكسينس اكسيلریٹ ڈیولپمنٹ اینڈ انٹروڈكشن پلان، ممالک عطیہ، تعلیمی، انتردیشيي تنظیم اور صنعت کے درمیان مشترکہ کی طرف سے کم آمدنی کے طبقے کے ممالک میں نموكوكل ٹیکے کو فروغ دینے کے لئے ''گلوبل الانس فار ویکسین اینڈ امونائجیشن (GAVI)'' کے ذریعہ مدد حاصل ایک منصوبہ ہے- اس کو ابھی نافذ کئے جانے پر ٢٠٣٠ تک متوقع ٥٤ لاکھ بچوں کی موت کو روکا جا سکتا ہے-

هيموپھلس انپھلونجي ٹائپ بی ویکسین خطرناک نمونيا کے دفاع کے لئے کھوجی گئی ایک مرکب ویکسین ہے- امریکہ میں١٩٨٠ سے  ١٩٩٠ تک هب ویکسین کا باقاعدہ استعمال کیے جانے سے، جان لیواهب بیماری کے معاملات کی تعداد ٤٠-١٠٠ فی ١٠٠٠٠٠  بچوں سے کم ہوکر ١.٣ فی ١٠٠٠٠٠ بچوں تک ہو گئی- جی اےوی ا ئی کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کے لئے هب ٹیکے کا کم داموں میں دیئے جانے کی تجویز ہے- سيڈيسي اور عالمی صحت ادارہ کی طرف سے ٦ ہفتے کی عمر سے آغاز کرتے ہوئے، تمام بچوں کا پولسچاراڈ پروٹین كنجوگیٹ کے ٹیکے لگانے کی سفارش کی گئی ہے-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا، جو اطفال مرض اور نومولود مرض کے ماہر ہیں امید کرتے ہیں کہ ''چونکہ یہ ٹیکے ابھی کافی مہنگے ہیں، لیکن ہندوستان کی حکومت عالمی صحت ادارے کے ساتھ مل کر ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں هب ویکسین کو دستیاب کروانے کی کوشش کر رہی ہے- جو بھی ہو عام لوگوں میں اس کی دستیابی بہت کم ہے- دوسرے ٹیکے جیسے كھسرا ویکسین، جو عالمی صحت ادارہ کی سفارشات کا ایک حصہ ہے، بھی کافی ضروری ہے کیونکہ كھسرا، نمونيا ہونے کے امکانات کو بڑھاتی ہے"

اسی طرح، اطفال امراض کی ماہر، ڈاکٹر نیلم سنگھ جو "واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ" کی اہم كاريكتري بھی ہیں، کا ماننا ہے، ''ٹی بی کو روکنے کے لیے استعمال میں لایا جانے والا بيسيجي ٹیکا بھی بہت ضروری ہے- ٹی بی مرض کی وجہ سے بچوں میں بہت سے سانس سے متعلق امراض اور انفیکشن ہوتے ہیں- دوسرا ٹیکا، ڈپتھيريا اور ٹٹنس کے لئے ڈيپيٹي ہے، جس میں پہلے دو انفیکشن اوپری سانس نلی سے متعلق ہیں- تیسرا نو ماہ پر دیئے جانے والا، كھسرا مرض کا ٹیکا بھی ضروری ہے- اگرچہ یہ ویکسین براہ راست طور پر نمونيا کو نہیں روکتا ہے لیکن بالواسطہ طور پر دفاع کیا جاتا ہے- کیونکہ چیچک (كھسرا) سے مو ثر بچہ نمونيا کے انفیکشن کے قریب ہوتا ہے- اس لیے پیدا ہونے سے ١٢ سال تک ان ٹیکوں پر عمل کرنا چاہیے- هب ویکسین کا استعمال ابھی حال ہی میں شروع کیا گیا ہے- ہمارے ملک میں دستیاب ہے- مہنگی ہونے کی وجہ سے ، شہر کے لوگ ہی اسے لے سکتے ہیں اور اپنے بچوں لگوا سکتے ہیں-"

 یہ ٹیکے عام بیماریوں کی شدید پکڑ کے ذریعے ہونے والے نمونيا کو روکتے ہیں- حا لا نکہ بچے کو ٹيكا نمونيا سے سو فیصد نہیں بچاتا ہے- والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے- ٹيكا پوری طور پر کامیاب نہیں ہوتا ہے- اچھے غذائیت کے ساتھ مناسب صحت بھی نمونيا کے دفاع پروگرام کا ایک حصہ ہے- اس بارے میں، اطفال مرض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي جن کا لکھنؤ میں اپنا دواخانا ہے، بھی بتاتے ہیں، ''سٹرپٹوكوكس نموني یا هيموپھلس انپھلوےنجي یا ماكوپلاجما جیسے عوامل کے ذریعے نمونيا ہو سکتا ہے- سرپرست سوچتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایک بار بچے کو ٹيكا لگوا دیا ہے تو وہ کبھی بھی نمونيا سے متاثر نہیں ہوگا / ہو گی''

لوگوں میں بیداری کی کمی اور ان کی زندگی محافظ ٹيكو کی قیمت کی وجہ سے، ہندوستان میں بہت سارے بچے اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں- اکتوبر ، ٢٠١١ کے پہلے ہفتے میں 'چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے اطفال بیماری محکمہ کے آئی سی یو میں اپنی زندگی سے لڑنے والے، تین سال کے بچے اتھرو سے مل کر میں نے دیکھا کہ وہ ان میں  سے ایک بچہ ہے جو هب ویکسین کا فائدہ نہیں اٹھا سکا تھا- اس کی ماں رےنو بالا شرما، نے پریشان حال ہو کر  بتایا، ہم نے سنا تھا کہ نمونيا بچوں میں ہونے والی عام بیماری ہے اور بچے کبھی- کبھی اس سے شکار ہو جاتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنی سنگین ہوگی- ہم نے بچے کے ہر مرض کا ٹيكا لگوایا تھا- ٹيكا متعلق کارڈ کے حساب سے سارے ٹیکے لگوايے- ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اس میں نمونيا کا ٹیکا نہیں تھا- اگر ہمیں معلوم ہوتا تو اس کا بھی ٹيكاكر کروا لیتے- رقم، بچے سے زیادہ قیمتی نہیں ہے- اس کے علاج کے لئے ہم نے لاکھوں روپے خرچ کر دیئے ہیں- ہم ایک نرسنگ هوم سے دوسرے میں بھاگتے رہے، جب تک اس اسپتال میں نہیں پہنچے- اب ہمیں اس کے ٹھیک ہونے کی کچھ امید ہے-''

ہندوستان اور بعض دیگر ترقی پذیر ممالک میں ابھی بھی نمونيا کا ٹیکا، ٹيكا پروگرام کا حصہ نہیں ہے- اصل میں یہی ملک ہیں جن میں نمونيا ہونے کی زیادہ امکان ہے- ہندوستانی معاشرے کی علم یافتہ ما یں ہی اس بات کا یقین کرتی ہے کہ ہر خطرناک بیماری کے  لئے ان کے بچے کو ٹيكالگوایا گیا ہے- لکھنؤ کے پرائیویٹ سٹی هاسپٹل میں یکم اکتوبر کو اپنے دوسرے بچے کو پیدا کرنے والی، الپنا سنگھ کہتی ہیں کہ ''میں نے سنا ہے کہ نمونيا سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے- میں ٹیکے کا نام نہیں بتا سکتی، لیکن میرے ڈاکٹر نے مجھے اس کے بارے میں بتایا اور میں نے اپنے پہلے بچے کو، جو اب تین سال کا ہے، یہ ٹیکہ احتیاط کے حساب سے لگوايا- لیکن یہ ویکسین مجوزہ ٹيكا کی فہرست میں دکھایا نہیں گیا ہے''

ٹيكا کیوں ضروری ہے، ٹيكا پروگرام اور بچوں کو ویکسین کہاں لگوايا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں والدین اور نگرانی کرنے والوں کو بیدار کرنے کے لئے عالمی صحت ادارہ اہم کردار ادا کرتا ہے- نمونيا کے ٹيكوں کی ترقی کے لئے ریسرچ اور ترقی کی کوششوں کی ضرورت ہے- بین الاقوامی تنظیموں کی کوششوں اور مالی مدد سے ترقی پذیر ممالک میں یہ ٹیکے مناسب قیمتوں پر بنا دیری کے دستیاب کروانے چاہیے-

سوميا ارورا - سی این اس
(ترجمہ :ندیم سلمانی ، لکھنؤ)
  

No comments: