Wednesday, November 9, 2011

بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھاتی ہے گھر کے اندر کی آلودگی

بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھانے میں گھر کے اندر کی آلودگی جیسے سگریٹ نوشی ، گھر میں لکڑی جلا کر یا گائے کے گوبر کو گرم کر کے کھانا پکانا وغیرہ اہم کردار اداکرتے ہیں- ایک مطالعہ کے مطابق ہر سال ٨٧١٥٠٠  بچے گھر کے اندر کی آلودگی سے ہونے والے نمونيا کی وجہ سے مرتے ہیں- عالمی صحت ادارہ  کے مطابق "ماحول سے متعلق آلودگی، جیسے کہ لکڑی اور گوبر کے کنڈے پر کھانا پکانا، یا دیگر نا میاتی ایندھن کا استعمال کرنا، گھر میں سگریٹ نوشی کرنا اور بھیڑبھرے مقام پر رہنا بھی بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھاتا ہے-" لہذا بچوں کو صاف ستھرے اور اچھے ماحول میں رکھنا چاہئے تاکہ ان میں نمونيا اور دیگر بیماریاں ہونے کا خطرہ کم سے کم ہو-

بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئرماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق 'گھر کے اندر کی آلودگی، جیسے بیڑی پینا، چولہے پر کھانا پکانا وغیرہ، اطفال میں نمونيا کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے- دیہات علاقوں میں انفیکشن پھیلنے کے اور بھی بہت سے وجوہات ہیں، جیسے گاؤں میں پاخانہ گھر کے اندر ہی کچی دیواروں کا بنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- لہذا پاخانہ گھر کے باہر بننا چاہئے اور پکی دیواروں کا بننا چاہئے- حکومت ہندوستان کی جانب سے پاخانہ بنانے کا جو پروگرام چلایا گیا ہے اسے لوگوں کو اپنانا چاہئے- دیہاتی گھروں کے بچے عام طور پر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں- ایسا نہیں کرنا چاہئے- گھر کی لپاي - پتاي ہونی چاہئے- گھر پکے اینٹ کا بنا ہونا چاہیے- جو شہری علاقوں کے لوگ ہیں ان میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے کیونکہ انہیں پاک پانی ملتا ہے جبکہ دیہاتی علاقوں میں پاک پانی دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے-"

لکھنؤ میں اپنا ذاتی شفاخانہ چلانے والی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ آلودگی کے لئے سگریٹ نوشی کو قصوروار مانتی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ "شہری ماحول میں سگریٹ نوشی گھر کے اندر کی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے- بچے جو بالواسطہ طور پر سگریٹ نوشی کا شکار ہو جاتے ہیں وہ ان کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہوتا ہے اور ان میں نمونيا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- سگریٹ نوشی نہ صرف نمونيا بلکہ دمہ اور دیگر کئی قسم کے انفیکشن کو دعوت دیتا ہے- لہذا بچوں کو بالواسطہ سگریٹ نوشی کے برے انجام سے بچانے کے لئے گھر کے اندر سگریٹ نوشی ممنوع  ہونا چاہئے- تبھی ہم بچوں میں نمونيا اور دیگر صحت سے متعلق بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکیں گے-"

  ڈاکٹروں میں بھی گھر کے اندر ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے انفیکشن کے بارے میں معلومات  کی کمی ہے- جس کا اندازہ  ہم اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرامراض نسواں  ڈاکٹر پی کے مشرا گھر کے اندر کی آلودگی کو نمونيا کا سبب نہیں مانتے ہیں- ان کے مطابق "سگریٹ نوشی، تمباكو کے استعمال سے یا پھر گھر میں کھانا پکانے کے لئے انگیٹھی کے استعمال سے براہ راست طور پر نمونيا کے ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا ہے- پر بچے کو دھوئیں میں رکھنے سے گھٹن ہو سکتی ہے پر اس سے براہ راست طور پر کوئی بیماری ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا ہے-"

سگریٹ نوشی سے نمونيا کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں علاج کرانے آئی نمونيا میں مبتلا  ڈھائی سال کے ایک بچے کی ماں نے بتایا کہ اس کے گھر میں کئی لوگ سگریٹ نوشی اور تمباكو کا استعمال کرتے ہیں اور گھر میں کھانا بھی چولہے پر پکایا جاتا ہے- ایک اور ماں، جس کا تین دنوں کا بچہ جو نمونيا سے مصیبت زدہ تھا، نے بتایا کہ اس کے گھر میں بھی چولہے پر کھانا پکایا جاتا ہے اور بچے کے والد بیڑی، سگریٹ اور گٹکھ کا استعمال کرتے ہیں-

بہتر صحت نگہداشت، مناسب غذا اور ماحولیات میں بہتر عناصر ہیں جو اطفال نمونيا کے واقعات کو کم کر سکتے ہیں- لہذا معاشرے میں لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ان عوامل کا کردار اہم ہے- حکومت کو بھی ان عوامل کو ذہن میں رکھ کر ہی صحت کے پروگرام پر عملدرآمد کرنا چاہئے- جب لوگوں کی زندگی بہتر ہو گی اور لوگ اچھی زندگی کے  طریقے اپنا یں گے تبھی نمونيا اور دیگر انفیکشن سے بچاؤ ممکن ہو پائے گا-
 
راہل کمار د ویدی - سی این ایس
(ترجمہ : ندیم سلمانی)

No comments: