Thursday, November 10, 2011

ماں کے دودھ سے نمونيا سے بچاؤ ممکن

٥ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے دنیا بھر میں نمونيا نامی بیماری جان لیوا ہو سکتی ہے- ہر سال تقریبا ١.٦  لاکھ بچوں کی موت اس بیماری سے ہوتی ہے- یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی ا موات کا تقریبا ١/٥ حصہ ہے- دیگر مہلک سانس والے انفیکشن کی طرح نمونيا دنیا کے ان بچوں کو، جو غریب اور کم غذایت ہے، اپنا مہلک شکار بناتا ہے- ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ترقی پذیر ممالک کے بچے ١٠ گنا زیادہ تعداد میں اس مرض کے شکار ہوتے ہیں- غریب ممالک میں نمونيا مرض ١٠٠٠٠٠ بچوں میں سے ٧٣٢٠ بچوں کے لئے جان لیوا پایا گیا ہے- جنوبی ایشیا اور سب - سہارا افریقہ کے علاقے میں ٢١ فیصد بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہے- 'مہلک سانس والا انفیکشن ٢٠١٠ اٹلس' کے مطابق غذائی اجزاء کی کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ٤٤ فیصد بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہے-

ہندوستان میں بچپن میں نمونيا کا مرض بہت زیادہ تعداد میں پایا جاتا ہے- جسم کی  دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بار بیماری ہونے پر اس کے ضمنی اثرات کو کم کرنے کے لئے مناسب غذائیت سے بھرپور خوراک بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہے- تمام ڈاکٹر اس بات سے متفق ہیں کہ کم غذائیت بچوں کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیتوں کو کم کرتا ہے، جس کی وجہ سے بچے مختلف بیماریوں، جن میں سے نمونيا بھی ایک ہے، کے شکار بن جاتے ہیں-

اگرچہ غذائیت کی ایک وجہ غربت بھی ہے، لیکن عام طور پر سستا لیکن غذائی غذا غذائیت مادوں کے موضوع کی انبھجنتا ہی غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کو مناسب خوراک سے ملنے سے محروم رکھتا ہے. یہ بات خاص طور پر حقیقت ہے کہ شہروں میں رہنے والے خاندانوں کے بچوں کا روزانہ کھانا 'پروسسڈ' اور 'فاسٹ فوڈ' ہی ہوتا جاتا ہے- شہر کی جھوپڑپٹي میں رہنے والے لوگ بھی عام  طور پر غذائیت سے بھرپور کھانا جیسے کی دال  روٹی کی بجائے چکنائی اور چربييكت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں-

لکھنؤ کے مشہور ہسپتال سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ کالیج کے گیسٹرو انٹرو لوجی محکمہ کے پروفیسر اورصدر ڈاکٹر گوڑداس چو دھری بھی اس بات سے متفق ہیں کہ کم غذائیت سے بچے آسانی سے نمونيا مرض سے متاثر ہو جاتے ہیں- ڈاکٹر چودھری بچوں کی صحت کے بہت بڑے حامی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ، "نمونيا جیسی کئی بیماریوں کا ایک اہم سبب ہے خلل طرز زندگی- غریب خاندانوں کے بھوک سے متاثر بچے اور امیر خاندانوں کے ستھول بچے  دونوں ہی غذائیت کے شکار ہوتے ہیں- اسلئے ان میں بیماری دفاعی صلاحیت کم ہو جاتی ہے- اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ بچوں کا وزن ایک اوست وزن ہونا چاہیے، اور انہیں کھیلوں میں کافی دلچسپی رکھنی چاہیے- انہیں جسمانی ورزش کافی مقدار میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے پھیپھڑے، اور پورا جسم صحت مند رہے جس سے وہ نمونيا اور دیگر سانس والی بیماریوں سے نہ متاثر ہوں-''

نیلسن اسپتال کے اطفال بیماری کے ماہر ڈاکٹر دنیش پانڈے نے بتایا کہ کچھ سال پہلے غریب خاندانوں کی توقع فارغ البال خاندانوں کے بچوں کو نمونيا مرض کم ہوتا تھا- لیکن پروٹین عناصر والی  خوراک، انتہائی بھیڑ- بھاڑ، گھر کے اندر اور باہر کی آلودہ فضا اور طرز زندگی میں مختلف تبدیلی کی وجہ سے معاشرے کے اعلی خاندانوں میں بھی اس بیماری کا اثر دیکھا جاتا ہے، نمونيا اور دست جیسی بیماریوں سے متاثر بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے- انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاسٹ فوڈ (جو ہرگز غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتا ہے) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے، بچے کم غذائیت رہتے ہیں اور ان کی بیماریوں سے لڑنے کی دفاعی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے- لہذا  نمونيا مرض صرف غریب خاندانوں تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے- اگرچہ ترقی پذیر ممالک ، جیسے ہندوستان میں نمونيا کا مرض کم آمدنی والے خاندانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے-

ڈاکٹر دنیش پانڈے کے خیال سے "اچھی غذائیت سے بھرپور خوراک مهنگی نہیں ہوتی ہے- کچھ گاؤں میں بچوں کو اچھی غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے تالاب سے نکالی گئی تازہ مچھلی اور خالص گائے یا بھینس کا دودھ آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے. گاؤں کے بچوں کو ہری سبجيا اور دال سستے اور آسانی سے مل جاتے ہیں. شہروں میں رہنے والے خاندان خوراک پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں لیکن وہ خوراک کی غذائیت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں- میں اس بات کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کہ خوراک کی غذائیت، مقدار اور خاصیت کے مطابق متوازن ہونی چاہیے- غذا بچوں کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے- تجارتی بنیاد پر حاصل کھانا جیسے 'فاسٹ فوڈ' جن کا اشتہارات کے ذریعہ سے انتہائی تشہیرکیا جاتا ہے ان کو نہیں کھانے چاہیے- گھر کا سادہ بنا ہوا کھانا ہی بچوں کے لئے مفید ہوتا ہے-"

نیلسن اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اجے مشرا اس بات پر خصوصی زور دیتے ہیں کہ عام عوام کو اس بات کے لئے تعلیم یافتہ بنانا ضروری ہے کہ اچھی خوراک نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچوں کی حفاظت کرتی ہے- ان کے خیال سے، "ماں-باپ کو اپنے بچوں کی كیلوري کی ضرورت جانني چاہیے- انہیں اپنے بچوں کے لئے ایک متوازن کھانا محفوظ کرنا چاہئے جس میں پروٹین، كاربوهاڈریٹ، آ یرن اور كیلشيم مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں- میں رےشےدار کھانے کوجیسے ہری سبزیاں، دالیں، عام روٹی یا چپاتی جو سستی اور صحت کیلئے فا یدے مند ہے- بچوں کو دیے جانے کی درخواست کروں گا- ماں- باپ کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو 'فاسٹ-فوڈ' جیسے پيجا، برگرس، پیسٹريج اور کولڈ- ڈرنكس لینے کے لئے حوصلہ افزائی نہ کریں کیونکہ یہ سب مادہ بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ہی لئے جانے چاہئے- میں پھلوں کو زیادہ اہمیت دوں گا، ان کے رسو کو نہیں، کیونکہ پھلوں میں ریشوں کے ساتھ-ساتھ معدنی عنصر بھی پائے جاتے ہیں-"

حمل زندگی کی ابتدائی حالت سے، بچپن تک دئ گئ مہیہ غذائیت سے بھرپور خوراک، بچوں کی ہمیشہ کے لئے کامہیہ مرض گردی صلاحیت اور خطرناک سانس والا انفیکشن جیسے نمونيا سے متعلق ہے- ماں سے عام طور پر پائے جانے والے غذائیت سے بھرپور خوراک کی نامناسب مقدار بعد میں بچوں کی نمونيا کا ایک بڑا سبب ہوتا ہے، کیونکہ یہ پیدائش کے وقت بچے کے کم وزن کی وجہ سے ہوتا ہے- ماں کے دودھ کے معیار کو کم سمجھنے کی وجہ سے بچے میں كپوش اور وٹامن کی کمی کا خدشہ بڑھ جاتی ہے-

ڈاکٹر امتا پانڈ ے، جو چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے نسواں مرض محکمہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ ، "اگرچہ نمونيا مرض امیر اور غریب تمام بچوں کو ہوتا ہے پر مطالعہ کرنے سے پتہ چلا ہے کہ كپوشت بچوں کو نمونيا زیادہ ہوتا ہے- جو انفیکشن غذائیت سے بھرپور خوراک پانے والے بچوں میں صرف  سانس نلي کے اوپری حصہ کو شکار کرکے ختم ہو جاتا ہے، وہی انفیکشن كپوشت بچوں میں بے حد کمزوری فراہم کرنے والے نمونيا بیماری کا سبب بن جاتا ہے- میں یہ بھی کہنا چاهوگي کہ فارغ البال خاندانوں کے بچے، جنہیں کافی مقدار میں کھانا ملتا ہے، بھی كپوشت ہوتے ہیں- اس کی کئی وجوہات ہیں- انہیں ماں کا دودھ نہیں پلا ایا گیا ہوتا ہے، انہیں اوپر کا دودھ دیا جاتا ہے جس میں کافی مقدار میں پروٹین نہیں پائے جاتے ہیں، یا اوپر کے دودھ میں پانی ملا کر پلایا جاتا ہے- ماؤں میں یہ غلط خیال ہے کہ پانی ملا دودھ آسانی سے پچ جاتا ہے- جیسے جیسے بچہ بڑھتا ہے اسے دودھ کے علاوہ اور بھی کھانا جیسے چاکلیٹ پھرايج، برگر، پيجا، وغیرہ دیئے جانے لگتے ہیں جو مناسب نہیں ہے- جب بچہ بڑا ہونے لگتا ہے تو اسے ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ پروٹین مشتمل خوراک جس میں پھل وغیرہ شامل ہیں، اس کی بیماری کی  دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لئے دئے جانے چاہئے-"

مناسب صحت اور غذائیت سے بھرپور خوراک نمونيا مرض کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں- 'اكيوٹ رسپریٹري انپھكشن اٹلس ٢٠١٠' کے مطابق اس مرض کی صحیح روک تھام کے لئے بین الاقوامی برادری شامل طور پر پر عزم ہیں- نمونيا اور دیگر بیماریوں سے لڑنے کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے عالمی  صحت ادارہ ٦ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو اہمیت دیتا ہے، اور ٢ سال تک ماں کا دودھ اور دیگر غذائیت سے بھرپور خوراک دینے پر زور دیتا ہے- اس کے بعد بچے کو دیگر غذائیت سے بھرپور اور صحت مند خوراک دینا چاہیے- گزشتہ کچھ برسوں میں کھانے کے مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کم غذائیت کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے- حالانکہ ہماری حکومتیں  معاشرتی سطح پر روکنے کے لئے پابند ہیں، پھر بھی اس مضمون کو لکھتے وقت 'کھانے والے سامان' کی قیمتوں میں ٩.١٣ فیصد اضافہ ہیی ہے-

شوبھا شکلا - سی ئیں اس
(ترجمہ : ندیم سلمانی )

No comments: