Thursday, November 10, 2011

نمونيا کا بچاؤ اوربغیرسگریٹ نوشی کا ماحول

ہر ٢٠ سیکنڈ میں نمونيا کی وجہ سے کہیں نہ کہیں کسی بچے کی موت ہوتی ہے- پانچ سال سے کم عمر کے ٢٠ فیصد بچوں کی موت کی وجہ نمونيا ہے- یہ ہر سال ١.٣ ملین بچوں کی کال ہے- زندگی کا یہ نقصان مزید پریشانی کا سبب ہوتا  ہے کیونکہ اس موت کو موجود ذرائع  کے ذریعے روکا جا سکتا ہے-

عالمی صحت ادارہ صحت کی طرف سے بچوں میں نمونيا ہونے کی وجوہات کو فروغ دینے والے مختلف ماحول کے بارے میں حقائق کو فہرست کیا گیا ہے- یہ وجہ ہیں:
(١) کھانا بنانے اور گرم کرنے کے لئے بايوماس ایندھن (ٹھوس ایندھن) جیسے لکڑی یا گوبر کی وجہ سے گھر میں ہونے والئ آلودگی،
( ٢) بھيڑبھرے گھروں میں رہائش کرنا اور
( ٣) ماں- باپ کی طرف سے سگریٹ نوشی کیا جانا-

عالمی صحت ادارہ  بھی یہی مشورہ دیتا ہے کہ گھر کے اندر ہونے والی آلودگی کو دستیاب صاف چولہا اور بھيڑبھاڑ والے گھروں میں اچھی صحت سائنس کو فروغ دے کر نمونيا سے بیمار ہونے والے بچوں کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے-

نمونيا کئی طرح سے پھیلتی ہے- عام طور پر بچوں کی ناک یا گلے میں پائے جانے والے جراثیم اور وائرس کو سانس کے ذریعہ لئے جانے پر پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے- كھانسنے یا چھيكنے سے آلودہ ہوا کے ذریعے بھی یہ پھیل سکتا ہے- لہذا جراثیم کے پھیلنے کو کم کرنے کے لئے رہن سہن کے ماحول میں بہتری، نمونيا کے کنٹرول میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے-

بچوں میں نمونيا کے کنٹرول، حفاظت اور طبی (علاج) کے لئے، ٢٠٠٩ میں عالمی صحت ادارہ اور يونسیپھ کی طرف سے ''گلوبل اكشن پلان فار دی پريونشن اینڈ کنٹرول آف نمونيا'' کا آغاز کیا گیا-
ضروری طور پر ماں کا دودھ اور ہاتھوں کی صفائی کو توجو دے کر اور گھروں کے اندر کی آلودگی کو کم کر کے بچوں کو نمونيا سے بچایا جا سکتا ہے- نئی صنعتیات معلومات گھروں میں آلودگی کم کر سکتی ہیں- روایتی کھانا بنانے کے لئے استعمال لکڑی ، كنڈے اور کوئلے (جن کا استعمال ابھی بھی کچھ ممالک میں کیا جاتا ہے) کے مقام پر پانی ایندھن جیسے مٹی کا تیل، قدرتی گیس، الپيجي وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے- سیال ایندھن کے لئے استعمال ہونے والے اسٹوو اور ٹھوس ایندھن میں استعمال ہونے والے اسٹوو میں سدھارکے بعد استعمال کرنے پر خطرہ میں کمی دیکھی گئی ہے-

دوسروں کے ذریعے استعمال تمباكو کے دھویں میں سانس لینے کا عمل بالواسطہ سگریٹ نوشی ہوتی ہے-  ناکارہ سگریٹ نوشی میں سانس لینا بیماری، معذوری اور موت کی وجہ ہے- یہ سانس کی نلی کو متاثر کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی طاقت کو کم کر دیتا ہے- امریکہ میں ، نومولود بچوں اور ١٨ سال سے کم عمر کے بچوں میں نچلی سانس نلی کے انفیکشن کا تخمینہ ١٥٠٠٠٠-٣٠٠٠٠٠ معاملے بالواسطہ سگریٹ نوشی سے مؤثر ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال ہسپتالوں میں ٧٥٠٠-١٥٠٠٠ مریض بھرتی کئے جاتے ہیں-

ڈاکٹر اس این رستوگي، مشہور اطفال اور دل امراض کے ماہر آگاہ کرتے ہیں کہ ''بچے کے لئے گھر میں حکّا، بیڑی اور سگریٹ کا استعمال کافی نقصان دہ ہوتا ہے- یہ بالواسطہ سگریٹ نوشی ہے کیونکہ اس میں بچہ کمرے میں موجود نكوٹين میں سانس لیتا ہے جو نمونيا کا خطرہ بڑھا دیتا ہے- بچے کے کمرے میں والد / خاندان کے دیگر ارکان کو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہیے- نومولود کو علیحدہ کمرے میں رکھنا چاہئے اور کم سے کم میں لوگوں کو اس کے پاس جانا / چھونا  چاہیے- لیکن ہندوستان میں رسم کی وجہ سے اس عادت کو بند کرنا کافی مشکل ہے- بچے کے پیدا ہونے کے پہلے دن سے ہی لوگ بچے کے ساتھ کھیلتے ہیں- یہ اچھی عادت نہیں ہے- یہ رسم جو کہ اچھے تعلیم یافتہ خاندانوں میں بھی ہے، بند ہونی چاہیے- کم سے کم پہلے چھ ماہ تک بچے کے پاس صرف ماں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ہی جانے دینا چاہیے-''

کسی بچے کے چاروں طرف کا ماحول میں آلودگی بچے میں ان بیماریوں کے ہونے کے امکانات کا ایک بڑا سبب ہے- لکھنؤ کے اطفال بیماری کے ماہر ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا کہنا ہے کہ ''اگر گھر میں ہوا اور دھوپ کے آنے کا مناسب انتظام ہو، اور گھر میں رہنے والوں کی تعداد کم ہو یعنی زیادہ بھيڑبھاڑ نہ ہو، بچے کے رہنے کے لیے مناسب اور علیحدہ جگہ رہے، تو بچے کو انفیکشن کے موقے کم رہتے ہیں- لیکن، اگر بچے کے چاروں طرف کا ماحول اس طرح کا ہو کہ اس میں تھوڑی جگہ میں رہنے والوں کی تعداد زیادہ ہو اورکھانا بنانے کے ایندھن یا تمباكو کے دھویں سے آلودہ ہو، تو بچے میں انفیکشن کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں-  اس طرح کے خاندانوں میں دمہ اور ٹی بی کے ہونے کے زیادہ امکان رہتے ہیں اور یہ بیماری بچے کو بھی ہو سکتی ہے-''

تمباكو کے استعمال اور اس سے نمونيا کے بڑھتے معاملات کے درمیان رشتے کو مانتے ہوئے ڈاکٹر نیلم سنگھ اطفال بیماری اورنسواں مرض کی ماہر جو ''واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ'' کی چیف ایگزیکٹو بھی ہیں ، کہتی ہیں کہ ''گھروں کے اندر کی آلودہ ہوا اصل میں نمونيا کو فروغ دیتی ہے- دیہات علاقوں میں چولہے میں کھانا بنانے کی وجہ سے کافی دھواں ہوتا ہے- تمباكو کا دھواں بھی بچوں میں نمونيا اور دیگر سانس سے متعلق امراض کا سبب ہے- تمباكو نوشی والے سرپرستوں کی وجہ سے گھروں کے اندر زیادہ آلودگی ہو تی ہے، اور ایسے آلودہ ماحول میں رہنے والے بچوں میں بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے- جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو صاف اور آلودگی بغیر فضا میں رکھنا چاہیے-''

ڈاکٹر رستوگي بھی مانتے ہیں کہ شہروں میں زیادہ تر لوگ گیس کے اسٹوو استعمال کرتے ہیں جس سے تقابلی طورسے ماحول کم آلودہ ہوتا ہے- لیکن ابھی بھی دیہاتوں میں لوگ کھانا بنانے کے لئے لکڑی اور کوئلے کا استعمال کرتے ہیں جس سے گھروں کا ہوا زیادہ خراب ہو جاتی ہے- دیہات علاقوں میں صفائی اور صحت سائنس سے متعلق علم کی کمی ہے- لیکن شہروں میں لوگ کچھ زیادہ بیدار ہیں جس سے وہ ہوشیار رہتے ہیں-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا ماننا ہے کہ ''حکومت گھروں کے آلودگی کو کم کرنے کے لئے کھانا بنانے کے لئے گیس کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے- یہ گھروں کے اندر کی ہوا کو کم آلودہ کرے گا- تمباكو کے استعمال کی مخالفت میں پہلے سے ہی اصول ہے، جو عوامی مقامات پر جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں- تمباكو نوشی کو منع کرتا ہے- والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب وہ گھروں میں سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو ان کے بچے بالواسطہ طور پر سگریٹ نوشی کے رابطہ میں آ جاتے ہیں- اسلئے اگر وہ سگریٹ نوشی بالکل نہ کریں تو بہتر ہوگا، لیكن کم سے کم انہیں بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہیے-

اس سلسلے میں تمام ڈاکٹروں کی ایک رائے ہے کہ بغیردھویں والا ماحول اور بچے کے سامنے سگریٹ نوشی نہ کرنے سے کافی حد تک ہوا کو صاف بنایا جا سکتا ہے- دیگر کسی بھی قسم کے آلودگی سے بچاؤ بھی ضروری ہے کیونکہ انفیکشن کے لئے یہی کسی نہ کسی طرح سے ذمہ دار ہے- لہذا گھروں کے اندر کے ماحول کی صفائی  کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے، کیونکہ اسی کے ذریعے نمونيا سے بچاؤ اور اسے روکا بھی جا سکتا ہے-


سوميا ارورا - سی ئیں اس

(ترجمہ :ندیم سلمانی )




No comments: