Thursday, November 10, 2011

صرف ماں کا دودھ ہی نومولود بچے کی بہترین خوراک : اوپر کا دودھ نہیں

بچپن میں ہونے والی نمونيا بیماری کو روکنے میں ماں کے دودھ کا بہت اہم کردار ہے- دنیا بھر میں فی ٢٠ سیکنڈ میں ١ بچے کی موت نمونيا سے ہو رہی ہے- ہر سال  ١.٦ کروڑ بچوں کی موت نمونيا بیماری سے ہوتی ہے- موت کا یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی موت کا تقریبا ٢٠ فیصد ہے- ان میں سے (تقریبا ٩٨ فیصد) بچے جن کی موت نمونيا سے ہوتی ہے ترقی پذیر ممالک کے ہیں- ہندوستان سال میں ٤٠٠٠٠ سے زیادہ ٥ سال کی عمر سے کم کے بچوں کی موت نمونيا مرض سے متاثر ہو کر ہوتی ہے- صرف ماں کا دودھ ہی بچوں کو کئی قسم کی بیماریوں، بالخصوص نمونيا سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے- ماں کا دودھ ہی بچے کو کئی غذائی عناصر دیتا ہے ساتھ ہی اميونوگلوبن، دفاعی عناصر بھی دیتی ہے-  ان عناصر سے بچوں کو "وسننلي" متعلقہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت ملتی ہے- ان کی وجہ سے بچوں کی بیماری دفاعی صلاحیت بڑھتی ہے-

ماں کا دودھ نہ پینے والے بچے دودھ پینے والے بچوں کی توقع پانچ گنا زیادہ تعداد میں نمونيا مرض سے متاثر ہو کر موت کو حاصل کرتے ہیں- ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نمونيا پھیپھڑوں کے انفیکشن ہونے پر ہوتا ہے- نمونيا ہونے پر پھیپھڑوں میں مواد و بھر جاتا ہے جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے- اس سب کا سبب جراثیم متعلق انفیکشن ہوتا ہے (اگرچہ وائرس اور پھنگس) نمونيا مرض کے اصل سبب ہیں-  یہ مرض بچوں کی بڑھتی ہوتی ہوئی بیماریوں کی دفاعی صلاحیت کے کی غذائیت کی وجہ سے، آلودہ فضا کی وجہ سے، ایچ ائی وی سے موثر ہونے کی وجہ سے، ٹی بی کی وجہ سے، انپھلوينجا اور كھسرا مرض کی وجہ سے اور پیدائش کے وقت کم وزن کی وجہ سے کمزورپڑ جانے سے ہوتا ہے-

موجودہ وقت میں دنیا میں صرف ٣٨ فیصد بچے ہی ماں کا دودھ پیتے ہیں- ماں کا دودھ پلانے میں کئی رکاوٹیں ہیں جیسے وقت کی کمی، معاشرے اور ثقافتی بد علمی، بار- بار بچہ پیدا کرنا، اوپر کا ڈبے کا دودھ آسانی سے دستیاب ہونا اور ماں کے دودھ کے بارے میں علم کی کمی ہونا- نیلسن اسپتال کے اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر دنیش پانڈے کا کہنا ہے کہ "آج کل کی ماؤں میں' كاكٹیل پھيڈنگ' یعنی بچے کو بوتل کا دودھ پلانا بہت مشہورہے- خاص طور پر کام کرنے والی خواتین میں یہ بہت عام ہے- اسلئے ان کے بچے اوپر کا دودھ یا ڈبے کا دودھ پیتے ہیں-

نیلسن اسپتال لکھنؤ کے ناظم ڈاکٹر اجے مشر نے گزشتہ ٦ ماہ میں شدید نمونيا سے متاثر ٣٠ بچوں کا علاج کیا ہے- جب میں ستمبر ٢٠١١ میں ان کے اسپتال گئی تو پتہ چلا کہ ١٠ دن سے کم عمر کے بچے جو بچے نمونيا سے متاثر تھے، علاج کے لئے بھرتی کیا گیا تھا- ان نومولود بچوں کے علاوہ تھوڑے بڑے بچے بھی نمونيا کے علاج کے لئے بھرتی کئے گئے تھے-

ڈاکٹر امیتا پانڈے جو چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی میں نسوا ں مرض محکمہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کے ہسپتال میں بال نمونيا سے متاثرہ بڑی تعداد میں بچوں کا علاج ہوتا ہے- ان کا کہنا ہے کہ "ہم نسواں امراض کے ماہرین کو صرف ٤٨ گھنٹے یا ٧ دن کے پیدا ہونے والے نومولود بچوں کا جو نيونیٹل نمونيا سے متاثر ہوتے ہیں، علاج کرنا پڑتا ہے- بچپن میں نمونيا سے متاثر بچے کی موت میں ٥٠ فیصد مرتيدر' نيونیٹل نمونيا ' سے متاثر نومولود بچوں کی ہوتی ہے- مطالہ کرنے پر پایا گیا ہے کہ مردہ پیدا ہونے والے بچوں میں ٣٠ فیصد سے ٦٠ فیصد تک اور پیدائش کے ١ یا ٢  دن بعد مر جانے والے بچوں میں ٥٠ فیصد سے ٦٠ فیصد تک 'والينمونيا' سے متاثر تھے- یہ ان بچوں کی 'اتاپسي' (مرنے کے بعد چیر پھاڑ) کے ذریعہ معلوم پڑا-"

ماں کے دودھ  سے فوائد کی اہمیت کو بتاتے ہوئے ڈاکٹر امتا پانڈے نے بتایا کہ، "میں ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی ہوں- یہاں ہم لوگ صرف ماں کے دودھ  کو ہی نومولود بچوں کی مکمل غذا مانتے ہیں اور اسی بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ  ٦ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا ہی دودھ ہی دیا جانا چاہیے- اس کے علاوہ انہیں شکر، گراپ وا ٹر، شہد، ناریل پانی وغیرہ کچھ بھی نہیں دینا چاہیے- ہم ڈاکٹر زچگی کرانے کے ١٠ منٹ بعد ہی نومولود کو ماں کا دودھ پلاتے ہیں- ہم بچے کو اس کی 'نار' سمیت ماں کے پیٹ پر لٹا دیتے ہیں- میرے بچے کی اتنی جلدی ماں کا دودھ پینے سے ماں کے پیٹ سے پلیسینٹر اور جھلی باہر نکل آنے میں مدد ملتی ہے-"

ڈاکٹر اجے مشرا کا کہنا ہے ، "اگرچہ ما یں نومولود بچوں کو صرف اپنا دودھ پلانے  کے فوائد کو اچھی  طرح  سمجھتی ہیں-  لیکن وہ اپنی جسمانی خوبصورتی کو اتنا زیادہ اہمیت دیتی ہیں کہ وہ اپنا دودھ پلانے میں توقف کرتی ہیں- گاؤں میں ما یں بار- بار حاملہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو گائے کا دودھ پلاتی ہیں-"

ڈاکٹر امتا پانڈے کے مطابق "اقتصادی طور پر قابل امیرمعاشرے کی ماؤں کی توقع غریب مایں اپنے دودھ  کو ہی زیادہ ترجیح دیتی ہیں- اقتصادی طور پر خوشحال خاندان کی لڑکیوں کو مناسب مدت تک اپنا دودھ پلانے میں کئی مشکلات دکھائی پڑتی ہیں- کئی کام کاجی ماؤں کو زچگی کے کچھ ہی ہفتوں بعد اپنے بچے کو گھر پر کئی گھنٹوں تک چھوڑنا پڑتا ہے- اسلئے وہ یا تو بہت ہی جلد ہی اپنا دودھ پلانا بند کر دیتی ہیں یا بچے کو کم از کم ایک بار اوپر کا دودھ پلانا شروع کر دیتی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اگر بچے کو شروع سے ہی اوپر کا دودھ پینے کی عادت نہیں ڈالی جائے گی تو وہ بعد میں اوپر کا دودھ نہیں پینا چاہے گا - ایسی حالت میں ماؤں کو بڑا مسئلہ ہو جائے گا "

پہلی بار بنی ماؤں کا ماننا ہے کہ ان کے پستانوں میں ولادت کے کچھ دنوں بعد تک کافی مقدار میں دودھ نہیں اترتا ہے- لہذا  انہیں بچوں کو اوپر کا دودھ دینا پڑتا ہے- لیکن ڈاکٹر امیتا پانڈے اس بات کو پختہ یقین سے کہتی ہیں کہ ماں کے پستان سے زچگی کے بعد سے کچھ دنوں تک جو بھی درو مادہ (كو لیسٹرم) نکلتا ہے-  وہ نومولود کے غذائیت کے لئے کافی ہوتا ہے- بچہ دانی کے مکمل مدت پرپیدا ہونے والے بچے میں کافی مقدار میں 'گلاكوجن' پایا جاتا ہے جو اس کے لئے شروع کے 2 دنوں تک کافی خوراک کا کام کرتا ہے- اس کے علاوہ اگر بچے کو پیدا ہونے کے کچھ وقت کے بعد ماں کے پستان پر لگا دیا جاتا ہے تو ماں کے پستان سے دودھ اپنے آپ نکلنے لگتا ہے- یہ ایک قسم کی سايكلك عمل ہوتی ہے- اگر بچے کو ماں کے پستان پر لگا دیا جاتا ہے تو چكري عمل سے هارمونس نکلنے لگتے ہیں اور ماں کے پستان میں دودھ کی مقدار خود بڑھنے لگتی ہے- جتنا زیادہ بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اتنا ہی زیادہ دودھ پستان میں آتا رہتا ہے-

مثال کے طور پر محترمہ انو رادھا  جنہوں نے ایک بچے کو آپریشن کے ذریعے ایک ذاتی نر سنگ ہوم میں پیدا کیا بتایا کہ زچگی کے بعد ان کے پستانوں سے مائع نہیں نکلا - لہذا  ڈاکٹر نے انہیں اپنے نومولود کو اوپر کا دودھ ٢ دنوں کے لئے صاف کپ اور چمچے سے پلانے کا حکم دیا- بعد میں انہوں نے اپنے بچے کو اپنا دودھ پلانا  شروع کر دیا- اسی طرح ایک اور ماں بینا نے بتایا کہ انہوں نے بچے کو پیدا کرنے کے بعد  کے ١٢ دنوں بعد اپنے بچے کو اپنا دودھ پلانا  شروع کیا انہوں نے اپنی نومو لود بیٹی کو پانی بھی پلایا ساتھ میں دست کی بیماری نہ ہونے دینے کے لیے اسے دوائی بھی پلايي- وہ بچے کو دودھ کے ساتھ پانی پلانے کی وجہ سے ہونے والے خطروں سے ناواقف تھی-

اسلئے نو جوان لڑکیوں کو نومولود کو صرف اپنا دودھ پلانے کی ضرورت کو سمجھنے کے لئے اور بیدار بنانے کے لئے معاشرے اور اسپتال سطح پر زیادہ سے زیادہ اس موضوع پر پروگرام ہونے کی انتہائی ضرورت ہے- ڈاکٹروں کو انہیں نومولود بچوں کو ماں کے دودھ کے فوائد سے آگاہ کرانا چاہئے- عالمی صحت ادارہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ٦  ماہ کی عمر تک کے بچے کی مکمل خوراک صرف اور صرف ماں کا دودھ  ہی ہے اور ٢  سال کی عمر تک ماں کے دودھ  سے حاصل خوراک کے ساتھ دیگر آلات غذائیت سے بھرپور خوراک بھی بچے کو دینا چاہیے- حاملہ ماؤں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا دودھ ہی بچوں کے لئے نمونيا اور دیگر بیماریوں سے لڑنے کے لئے سب سے بڑے  ہتھیار کی طرح ہوتا ہے- انہیں معاشرے میں ماں کے دودھ  سے متعلق پھیلئ ہوئ غلط فہمیوں کے برعکس اس بات کو سمجھانا چاہیے کہ ٦  ماہ تک بچے کے جسم  کو صرف ماں کے دودھ کی ہی ضرورت ہوتی ہے ٦  ماہ تک ماں کا دودھ ہی ان  کی غذائیت سے بھرپور خوراک ہے-

شوبھا شکلا - سی این اس
(ترجمہ : ندیم سلمانی) 

No comments: