Wednesday, November 9, 2011

ٹیکا لگواكر بچے کو نمونيا سے محفوظ رکھیں

"نمونيا سے حفاظت کے لئے ان کے بیکٹیریا کے حساب سے بازار میں ٹیکے دستیاب ہیں- حکومتی اسپتالوں میں ابھی ان کی دستیابی نہیں ہے- یہ ٹیکے عالمی صحت ادارہ کے معیار کے مطابق ہی تیار کئے گئے ہیں-'' یہ کہنا ہے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کا-

نمونيا پھیپھڑوں میں معمولی طریقے سے سوجن آنے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس کی وجہ  سے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے- عام طور پر نمونيا ہونے کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں- جیسے بیکٹیریا، وائرس ، پھپھوند یا پھیپھڑوں میں چوٹ وغیرہ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے- ویسے تو یہ ہرعمر کے لوگوں کو ہو سکتی ہے، لیکن یہ سب سے زیادہ پانچ سال تک کے بچوں میں پائی جاتی ہے

بچوں میں نمونيا بدلتے موسم کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے- خاص کر سردی کے موسم میں- تو اگر بچے کو پہلے سے ہی ٹیکا لگوا دیا جائے، تو کافی حد تک نمونيا ہونے کا خطرہ ختم ہو سکتا ہے- بازار میں دستیاب یہ ٹیکہ لگوانے پر بچے کو خطرہ بھی نہیں رہتا ہے- کیونکہ یہ ٹیکہ عالمی صحت ادارہ کے معیار کے مطابق ہی تیار کیا گیا ہے

ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق ''نمونيا کے ٹیکے الگ-الگ بیکٹریا کے حساب سے بنائے گئے ہیں- هيموپھلكسن، فلوینجا بی نمونيا کے لئے اور وائرس کے لئے بھی بہت سارے ٹیکے تیار کیے گئے ہیں- جیسے ریسپیریٹ سنسنل وائرس کے لئے بھی ٹیکہ ہے، اور  پیرا انفلوینجا، انفلوینجا ان سب کے لئے ٹیکے ہیں- یہ بیکٹریا اور وائرس کہیں نہ کہیں سے سانس کی نالی کو متاثر کرتے ہیں- اس طرح نمونيا کے ٹیکے تو بہت ہیں، اور عالمی صحت ادارہ نے ہر ٹیکے کے لئے معیار بھی بنایا ہے- ایسا نہیں ہے کہ ٹیکے کے لئے معیار نہیں ہے- معیار کے مطابق ہی ٹیکے قائم ہوتے ہیں، اور اس کے بعد بازار میں آتے ہیں- ان کا معیار مریض کی عمر کے حساب سے ہوتا ہے- اور اسی طرح سے لگائے جاتے ہیں-''

ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ ''ان ٹیکوں کی سرکاری اسپتال میں دستیابی نہیں ہے- یہ باہر سے لے کر ہی لگوايا جاتے ہیں- ہمارے یہاں ڈيپيٹي، پولیو، بيسيجي، ہپے ٹاٹس بی وغیرہ کل سات قسم کے ٹیکے لگتے ہیں- اس میں نمونيا کا ٹیکا شامل نہیں ہے- اس کے علاوہ اگر آپ کو کوئی ٹیکا لگوانا ہے- تو آپ کو اپنے پاس سے بازار سے خرید کر لگوانا ہوگا

اندرا نگر میں ایک غیر سرکاری شفاخانے کی ناظم اور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنكھدھر نے بتایا کہ ''نمونيا کے ٹیکے کے لئے عالمی صحت ادارہ  نے ایک معیار مقرر کیا ہے، اور نمونيا کے لئے ٹیکہ بھی آتا ہے- جو کہ 'ہب' نام سے آتا ہے- یہ ٹیکہ بچے کی پیدائش کے ٦  ہفتے کے بعد سے لگتا ہے- اور ١-١  ماہ کے وقفے پر تین خوراک میں لگایا جاتا ہے- جو بچوں کو  نمونيا سے بچاتا ہے- لیکن یہ ١٠٠ فیصد نہیں ہے- اگر انفیکشن ہو گیا تو بچے کو نمونيا ہو سکتا ہے- لیکن اتنا زیادہ نہیں ہوگا، کچھ کم ہوگا جو کہ اچھے انٹيبايوٹكس سے جلدی ٹھیک کیا جا سکتا ہے

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی منتظم ڈاکٹر آر. ایس. دوبے سرکاری اسپتالوں میں نمونيا کے ٹیکے کی دستیابی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ''نمونيا کے ٹیکے کے لئے عالمی صحت ادارہ کے ذریعے ایک معیار بنا ہے-  جسے ہم ذہن میں رکھ کر ہی اس کا استعمال کرتے ہیں- سرکاری اسپتالوں میں اس کی دستیابی کم ہے- لیکن یہ ٹیکے باہر سے بھی مل جاتے ہیں.

عام طور پر نمونيا سے مصیبت زدہ  بچے کو کھانسی، جكام، بخار، سانس لینے میں دقت، پسليو کا چلنا اور کھانسی میں بلغم آنا وغیرہ علامات ہوتی ہیں- انہی علامات کو ذہن میں رکھ کر نمونيا کا علاج کیا جاتا ہے- نمونيا کے علاج میں انٹيبايوٹكس دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے.

نمونيا کا پانچ سال تک کے بچوں میں زیادہ ہونے کی ایک وجہ سرکاری ہسپتالوں میں ٹیکے کا دستیاب نہ ہونا بھی ہے- یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والی تلسی، ياسمين، نور اور فرید ٹیکے کے کمی میں نمونيا جیسی بیماری کا شکار ہیں- ان کے والدین کو یہ بھی نہیں پتا ہے کہ نمونيا کے لئے بازار میں ٹیکا بھی دستیاب ہے

ویسے تو نمونيا کا علاج ممکن ہے لیکن اگر بچوں کا شروع میں ہی ٹیکا لگوا دیا جائے-  تو نمونيا جیسی بیماری سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے، اور ان ٹیکوں کی دستیابی اگر سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری تمام قسم کے ہسپتالوں میں کر دی جائے، تو ہندوستان میں ہر دن سیکڑوں بچوں کو نمونيا کی وجہ سے اپنی جان نہ گوانی پڑے- اور اگر ٹیکا لگا ہونے کے بعد نمونيا ہوتا بھی ہے تو جسم کی صلاحیت اتنی ہوگی کہ ڈاکٹروں کی طرف سے انٹيبايوٹكس دینے پر بچہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا
 
ندیم سلمانی - سی این اس      

No comments: