Wednesday, November 2, 2011

اچھے انٹيبايوٹكس سے ہو سکتا ہے نمونيا کا علاج

نمونيا کئی قسم کے جراثیم سے ہو سکتا ہے جن میں کئی طرح کے بیکٹیریا، وائرس اور پھپھوند  شامل ہیں- نمونيا کا علاج اس بات پر منحصر ہے کہ انفیکشن کی وجہ کون سے جراثیم ہے- نمونيا کے انفیکشن کا سبب جس طرح کے جراثیم  ہوتے  ہیں اسی کے مطابق انٹيبايوٹك دے کر اس کا علاج کیا جاتا ہے تاکہ اس کا اثر مریض پر جلدی ہو سکے-

ڈاکٹر ابھیشیک ورما (جو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال، لکھنؤ میں بچچوں کے امراض کے ہیں) ، کے مطابق ''نمونيا سے بچاؤ کے لئے گھر میں جن کو کھانسی آتی ہویا جن کو وائرس انفیکشن ہو، دھوئیں کا ماحول ہو یا پھر سردی کا موسم- ان تمام چیزوں سے بچوں کو مزید بچانے کے لئے انھے ٹیکے لگوانے کی ضرورت پڑتی ہے- اگر ماں یا گھر کے کسی اور صخش کو کھانسی آ رہی ہے تو ان کے ہاتھوں میں بچے کو نہ دیں- تبھی بچے کا بچاؤ ہو سکتا ہے- علاج کے لئے عالمی صحت ادارہ معیار کے مطابق سپٹران، امپيسلين اور انٹاماسين جیسی دواییں استعمال کی جاتی ہیں-  لیکن اسپتال میں اور بھی بہت ساری سہولیات دستیاب رہتی ہیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں- جیسے جب بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے تو آكسيجن بھی دی جاتی ہے- علاج کا صحیح طریقہ اسپتال کی سطح پر انحصار کرتا ہے- اگر ایک اچھے معیار کا ہسپتال ہے - چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری اس میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ہے- ہمارا اسپتال سرکاری ہے- لیکن یہاں کی سہولت کسی بھی غیر سرکاری اسپتال سے کم نہیں ہے- یہاں کا نظام بھی بہتر ہے- یہاں پر نمونيا کے علاج کے لئے ہر طرح کی سہولتیں دستیاب ہے- ہمارے یہاں آكسيجن آن لائن ہے اور موبيلاجرس بھی وارڈ میں رہتے ہیں- ہر طرح کی نگرانی کی سہولت اس اسپتال میں ہے- اس اسپتال میں عالمی صحت  ادارہ نے جو دوا مقرّر کر رکھی ہیں وہ یہاں پر اور تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہیں- چاہے وہ شہر کا ہسپتال ہو یا پھر دیہات کا

اسی اسپتال کے اہم طبّی افسر ڈاکٹر آر. ایس. دوبے نے بتایا کہ ''حکومت اس پر کافی توجہ دے رہی ہے- حکومت بہت سارے  منصوبے چلا رہی ہے- 'جننی سرکشہ اسکیم'، اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ ماں اور بچے کی حفاظت کا خیال رکھا جائے- ہمارے ہسپتال میں نمونيا کا عالمی صحت  ادارہ کے معیار کے ذریعے ہی علاج ہو رہا ہے- ''

غیر سرکاری شفاخا نے کی ناظم اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر رما شنكھدھر نمونيا کے علاج کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ''ہمارے شفاخانے میں جو بھی بچہ آتا ہے اور ہمیں نمونيا کا شک ہوتا  ہے تو ہم یہی مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کو ڈاکٹر کے پاس جلدی لایں، جس سے اچھے انٹيبايوٹك دے کر بیماری کو جلد قابو میں کیا جا سکے، اور بچہ نمونيا کی سنگین حالت میں نہ پہنچ پائے

ڈاکٹر رما شنكھدھر نے یہ بھی بتایا کہ ''سرکاری اسپتالوں میں ساری دوایں دستیاب نہیں رہتی ہیں- جو دوا ان کے پاس دستیاب ہوتی ہے وہی وہ مریض کو دیتے ہیں- بازار میں روز نئی-نئی دوائیں آ رہی ہیں-  لیکن ذاتی شفاخا نوں میں یہ سوچنا نہیں پڑتا ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے- ہمیں جو اچھا لگتا ہے ہم وہی تجویز کرتے ہیں، جس سے بچہ جلدی ٹھیک ہو سکے- جو عالمی صحت ادارہ کے معیاربنا ے جاتے ہیں وہ کانفرنسوں کے ذریع تمام ڈاکٹروں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے- اور ہم لوگ اس کو پڑھ اور سمجھ کر پھر اس پرعمل کرتے ہیں
نمونيا اکثر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ ہوتا ہے- اگر آپ بچے کی نگہداشت میں کچھ باتوں کا دھیان رکھیں گے تو آپ کا بچہ نمونيا سے ضرور بچ جائے گا- نومولود کو سردی کے موسم میں ہمیشہ گرم کپڑے جیسے ٹوپی، جرابيں وغیرہ پہنا كر رکھیں- بچے کو کھانسی، زکام  بخار وغیرہ ہونے پر فوری طور پر معالج کو دکھائیں- اگر بچہ ماں کا دودھ نہیں پی رہا ہے تو اسے گھر پر کچھ اور کھلانے پلانے کے بجائے معالج کو دکھائیں- اگر معالج اسپتال میں داخل کر کے علاج کرانے کو کہے تو لاپروائی نہ کریں اور اس کا علاج جلد کریں-  گھر میں صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں- گھر کے کونے کونے کو صاف رکھیں اور وہاں جھاڑو، پوچھا وغیرہ ٹھیک طرح سے لگائیں، جس سے بچے کو کسی قسم کا انفیکشن نہ ہو

ندیم سلمانی- سی این اس
(ترجمہ : ندیم سلمانی )

No comments: