Wednesday, November 2, 2011

بچے کو نمونيا سے بچانے میں سب سے موثر ماں کا دودھ

اتر پردیش کے مختلف ڈاکٹروں  کا ماننا ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے چھ مہینے  تک صرف ماں کا دودھ نہایت ضروری ہے- یہ بچے کو نہ صرف نمونيا بلکہ بہت سارے جسمانی بیماری جیسے دست، ناکافی غذایت کی کمی وغیرہ سے بھی بچاتا ہے- اور بچے کو صحت مند رکھنے میں سب سے موثر ہے- بچے کو  زندگی کے ابتدائی چھ ماہ میں  اوپر سے کسی بھی قسم کا دودھ ' سپپلیمنٹ' یا پھر بوتل کا دودھ نہیں دینا چاہئے- ایک مطالعہ کے مطابق زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کے مقابلے میں وہ بچے، جو اپنے ابتدائی  چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ نہیں پیتے ہیں، ان میں نمونيا سے مرنے کا ٥گنا زیادہ خطرہ ہوتا ہے-

عالمی  صحت ادارہ نے بھی بتایا ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماںکا دودھ  ہی اسکی خوراک کا واحد ذریعہ ہے- ایک ماہ سے کم عمر کے بچوں میں، تنفسی متعلق بیماریوں سے ہونے والی کل اموات میں سے، ٤٤٪ اموات کم ماں کے دودھ  کی وجہ سے ہوتی ہیں- بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق "ماں کے دودھ میں وٹامن اور كولیسٹرم ہوتا ہے- جو بچے کو صحت مند رکھنے میں، نمونيا اور دیگر جسمانی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے- لہذا یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ہر ماں بچے کو ابتدائی چھ ماہ تک بچے کو صرف اپنا ہی دودھ پلایں- بچے کو اوپر سے بوتل کا دودھ نہیں دینا چاہئے کیونکی جو غذایت ماں کے دودھ میں ہے وہ اور کسی بھی چیز میں نہیں ہے-"

بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرِ اَمراضِ نِسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا بھی ماننا ہے کہ "ماں کا دودھ بہت ساری بیماریوں سے بچاتا ہے- اسی لئے ماں کا دودھ بچے کے لئے سب سے اچّھی غذا ہے- اور اس سے اچّھی غذا اور کچھ نہیں ہو سکتی  ہے- لہذا جو بھی حاملہ خواتین یہاں پر آتی ہیں- ہم انہیں اچھی طرح سے بتاتے ہیں کہ وہ بچے کو ابتدائی چھ ماہ تک اسے صرف ماں کا دودھ پلایں اور اسکے بعد کسی اور سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے-"

لکھنؤ شہر کی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ کے مطابق "ماں کا دودھ سب سے عمدہ  ہے- یہ نہ صرف بچے کو بیماریوں جیسے دست اور گیسٹرو انٹرایٹس(مِعدہ اور چھوٹی آنت میں جلن) سے بچاتا ہے بلکہ بچے کے جسمانی ترقی میں بھی مددگار ہوتا ہے، اور اس کے جسم کے دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر اسے دیگر بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتا ہے- لہذا ماں کا دودھ بچے کی زندگی کے ابتدائی  چھ ماہ تک کے لئے اپنے آپ میں ایک مکمل غذا ہے- اس کے علاوہ بچے کو اوپر سے کوئی دیگر دودھ  یا سپلیمنٹ  دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے-"

بہرائچ ضلع اسپتال کے ڈاکٹر مشرا اور ڈاکٹر ورما کا خیال ہے کہ ان کے اسپتال میں آنے والی خواتین میں سے تقریبا ٩٠  فیصد خواتین بچوں کو اپنا دودھ  پلاتی ہیں- اور ڈاکٹر مشرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ "شہری خواتین بچوں کو اپنا دودھ  کم پلا پاتی ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں- کچھ کام کاجی خواتین ہیں ان کے لئے بچے کو وقت سے اپنا دودھ پلا پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے- کچھ خواتین بچوں کو یا تو کم دودھ پلا پاتی ہیں یا پھر اپنا دودھ پلانا ہی نہیں چاہتی ہیں- لہذا اس موضوع پر عوام کو تعلیم اور بیداری کی ضرورت ہے- اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب ڈاکٹرحاملہ خواتین کو اپنا دودھ پلانے کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ اس پر عمل کرتی ہیں-"

------------------
نومولود بچوں کے لئے بہتر ماں - کا - دودھ ہے، لیکن معاشرے  میں پھیلی بیچارگی  کی وجہ سے پیدائش کے بعد انہیں ملتا ہے بوتل کا دودھ ، شہد ، پانی وغیرہ
------------------
جہاں ایک طرف سرکاری ضلع اسپتال کے طبیبوں کا یہ ماننا ہے کہ اکثر عورتیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہیں دوسری طرف معاشرے میں کچھ ایسی بیچارگی ہے جس کے مطابق نومولود کی پیدائش کے بعد بکری کا دودھ ، شہد، پانی یا پھر کوئی چیز ماں کے دودھ سے پہلے پلائی جاتی ہیں- جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں نمونيا سے متاثر اپنے تین دنوں کے بچے کو دکھانے آئی ماں کا کہنا ہے کہ "ہم نو مو لود بچے کو بکری کا دودھ پلا رہے ہیں کیونکی  یہ ہمارے گھر کہ پرانی روایت ہے-" نمونيا سے ہی متاثر ایک اور ڈھائی سال کے بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ بھی بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا پائی تھیں کیونکی اس وقت ان کا دودھ نہیں اتر رہا تھا-

معاشرے میں پھیلی اس قسم کی روایت  نہ صرف بچوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے بلکہ معاشرے میں ایک لعنت کی شکل میں پھیلی  ہے جس کو ان ڈاکٹروں کو بھی سمجھنا ہوگا اور ماؤں کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دینا ہوگا- کیونکہ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب ڈاکٹرحاملہ عورتوں کو ٹھیک طریقے سے سمجھاتے ہیں تو وہ ان کی باتوں کی پیروی کرتی ہیں اور اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتی  ہیں- معاشرے  میں بیداری کی کمی ہے لہذا خواتین کو جانکار اور بیدار بنانا ضروری ہے تبھی معاشرے میں مکمل طور پر تبدیلی آئے گی "

راہل کمار دیویدی -- سی ا ین ایس
(ترجمہ : ندیم سلمانی )

No comments: