Wednesday, March 21, 2012

بچپن کے معصوم چہرے پر ایک بدنما داغ ہے ٹی بی

(عالمی ٹی بی دن پر خصوصی)

یہ افسانہ  ہے رامادیوي اور اس کے خاندان کا جو لکھنؤ شہر کی ایک غریب بستی میں رہ رہی ہے. ایک تنگ گلی میں اینٹ کی دیواروں سے بنا کچا پکا مکان، جہاں سورج کی روشنی اور کھلی ہوا بھی آنے سے كتراتي ہیں؛ دن کے اجالے میں بھی رات کا احساس کرتے ہوئے دو اندھیرے کمرے جن میں سے ایک میں چولہا بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے، اور صاف ہوا کے نام پر چولہے اور بیڑی کا جان لیوا دھواں. اسی میں رہتا ہے ٧ ارکان کا خاندان - راما کا شوہر جو مزدوری کرکے دن بھر میں ١٠٠ - ١٥٠ روپے کما لیتا ہے، جس کا بیشتر حصہ روز کی شراب اور بیڑی میں خرچ ہو جاتا ہے، راما کا سسر، راما کے چار بچے جو پیٹ بھر کھانے کے لئے بھی ترستے ہیں، اور خود ناخواندہ راما جو اپنے شوہر کی مار برداشت کرتے ہوئے اپنی قسمت کو كوستي ہے اور جس کی سلوني صورت کے پیچھے چھپے درد اچانک اس کے چہرے پر چھلک اٹھتے ہیں. چار چار بچوں کو پیدا کر جیسے اس کے جسم کی ساری طاقت ہی ختم ہو گئی ہے. خاندانی منصوبہ بندی کرانا چاہتی ہے پر آپریشن کرانے سے ڈرتی ہے.


راما کے تیسرے نمبر کے بیٹے، ٦ سالہ جگموہن کی خوش نما مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہے ٹی بی، یعنی ٹی بی کے جراثیم. جگموہن کو ٹی بی ہے اور ایک ماہ سے اس کا علاج پاس کے ہی ایک ڈاٹس سنٹر پر چل رہا ہے. میرے ذرا سے حوصلہ افزائی سے ہی راما نے اپنے سارے درد افسانے میرے کانوں میں اڑیل دیے- "یہ بچہ تو پیدائش سے ہی کمزور تھا. میرے سارے بچے گھر پر ہی ہوئے. ہسپتال جانے کے لیے پیسے ہی نہیں تھے. پیدائش کے بعد بچے کو اپنا دودھ بھی نہیں پلا پائی کیونکہ کمزوری کی وجہ سے مجھے دودھ ہوا ہی نہیں. بچپن سے ہی اکثر بیمار رہتا ہے. جب ایک ماہ کا تھا تو بيسيجي (ٹی بی سے بچاؤ کا) کا ٹیکہ لگوایاتھا پر وہ پکا ہی نہیں. پھر جب ٩ ماہ کا ہوا تو آنگن واڑي کی ایک بہن جی نے دوبارہ لگایا، پر وہ بھی نہیں پکا. ابھی کچھ وقت پہلے ہی ہسپتال میں تیسری بار جب ٹیکہ لگا تو ٹھیک سے پکا. بچے کو ٢ سال کی عمر سے ہی کھانسی آتی رہتی ہے. کھانستے کھانستے بےدم ہو جاتا تھا. کئی بار سرکاری ہسپتال لے کر گئے. دوا سے کچھ دن آرام ملتا تھا، پھر کھانسی شروع ہو جاتی تھی. ڈاکٹر باہر سے دوا خریدنے کو کہتے، پر اتنا پیسہ ہم غریب کے پاس کہاں. دو وقت کی روٹی جٹانا تو مشکل ہے. تو ٹھیک سے علاج ہو ہی نہیں پایا. پھر پچھلے سال گرمی کے موسم  میں جب طبیعت پھر بہت خراب ہوئی تو سرکاری ہسپتال میں ١٠ دن تک داخل رہا. ڈاکٹر نے ایكسرے نکال کر بتایا کہ اسے پھیپھڑے کی ٹی بی ہے. کہا کہ باہر سے دوا خرید کر کھلا دو. بہت منتیں کرنے پر ایک لیڈی ڈاکٹر نے مفت دوا کے لئے فارم لکھ کر دیا، جو اب ڈاٹس سنٹر سے لینے جاتیں ہیں. ٦ ماہ تک دوا جاری رہے گی.
ڈاکٹر نے غذائیت سے بھرپور خوراک کھلانے کے لئے کہا ہے. پر دودھ، دہی اور پھل خریدنے کے لیے پیسے ہی نہیں بچتے. سہی سے دال روٹی ہی مل جائے تو بہت ہے".

 
راما دیوی کے شوہر کو سات سال پہلے ٹی بی ہوئی تھی جس کا اس نے ٦ ماہ تک سرکاری علاج کرایا. پر کچھ وقت سے اسے پھر سے کھانسی آنی شروع ہو گئی ہے. شراب اور بیڑی کی عادت چھوٹتي ہی نہیں. اسے لگتا ہے کہ ایک بار علاج کروا چکا ہے اس لئے اسے غلط فہمی ہے کہ دوبارہ ٹی بی نہیں ہو سکتی ہے. راما کی طرح زیادہ تر لوگوں کو نہ تو ٹی بی کے اسباب کے بارے میں معلومات ہے نہ ہی اس کی روک تھام کے اقدامات ہی معلوم ہیں. گھر کے کسی بھی دوسرے رکن کی ٹی بی تفتیش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کبھی کسی ڈاکٹر نے اس کے لئے کہا ہے. ڈاٹس سنٹر پر یا دیگر کسی بھی صحت اہلکار نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ گھر میں صاف صفائی رکھنی چاہئے، کم سے کم گھر کے اندر بیڑی / سگریٹ نہیں پيني چاہئے کیونکہ اس کا دھواں صحت کے لیے، خاص طور پر بچوں کے لئے، بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے. راما کے تمام بچے ایک ہی چارپائی پر ایک ساتھ سوتے ہیں. جب میں اس خاندان سے ملنے گئی تو جگموہن مزے سے اپنی چھوٹی ٣ سالہ بہن کے پاس بیٹھا زور زور سے كھانس  رہا تھا.


چھترپتي شاهو جی مهاراج میڈیکل یونیورسٹی لکھنؤ کے پلمینیري میڈیسین شعبہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سورج كانت جی کے مطابق، "بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے بالغوں میں وقت رہتے ٹی بی کے تشخیص اور اس کے مناسب علاج کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹی بی کے جراثیم کے انفیکشن کو روکا جائے. اس کے لئے گھروں میں صاف ہوا اور دھوپ کی آمد ہونا چاہئے. بچوں کو بیڑی / سگریٹ کے بالواسطہ سگریٹ نوشی سے اور لکڑی / ایندھن کے دھوئیں سے بچانا بہت ضروری ہے. بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے گھروں کے اندر ناقص غذایت کو دور کرکے غذائیت سے بھرپور خوراک دینا ضروری ہے. اور شہری بچوں میں جنك فوڈ اور فاسٹ فوڈ کھانے کی عادت پر بھی روک لگانا ہوگا. ہسپتالوں میں پھیلی گندگی کو خاص طور پر دور کرنا ہوگا، کیونکہ علاج کے لئے آئے بچے / بالغ ہسپتالوں کے گندگی بھرے ماحول کی وجہ سے اکثر وہاں سے بیماری لے کر جاتے ہیں. ہمارے ملک میں اکثر والدین اپنے ساتھ بچوں کو اسپتال لے جانے میں نہیں جھجھکتے. یہ بہت غلط ہے اور بچوں کو بے سبب ہی اسپتال کے اندر داخل کرنا منع ہونا چاہیے. اس کے علاوہ كھانستے وقت منہ پر کپڑا رکھنا، کھلے میں تھوكنے کی عادت سے بچنا ہوگا."

 
یہ اکیلے جگموہن کی کہانی نہیں ہے. ہندوستان میں ہر سال ٢٢ لاکھ افراد ٹی بی سے تکلیف زدہ ہوتے ہیں جن میں ٣ سے ٤ لاکھ بچے ہیں. ٹی بی کے ماہرین کے مطابق بچوں میں ٹی بی کی روک تھام کے لئے قابل قدم اٹھانے ضروری ہیں. سرکاری ہسپتالوں میں ٹی بی کا مفت علاج دستیاب ہے. لیکن جب لکھنؤ جیسے شہر میں مریض مناسب علاج اور معلومات کے فقدان کی وجہ سے ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں تو گاؤں اور قصبوں کی بدتر حالت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے. جرجر ہوتی ہوئی صحت کے نظام، یہاں وہاں تھوكنے کی عادت، صاف پانی اور صاف
بیت الخلا کا مسئلہ، ناقص غایت اور غربت کا عذاب، اور عام عوام میں ٹی بی اور دیگر متعدی بیماریوں کے بارے میں معلومات کا فقدان، - یہ تمام ٹی بی اور دیگر بیماریوں کو فروغ دینے کے لیے کافی ہیں. عوامی برادری اور سرکاری مشینری کے باہمی تعاون سے ہی ہم اس جان لیوا بیماری پر قابو پا سکتے ہیں.

 
انٹرنیشنل یونین اگینسٹ ٹبركلوسس اینڈ لنگ ڈسيس کے مطابق - 'جس بھی خاندان میں ٹی بی کا بالغ مریض ہو اس خاندان کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کا ٹیسٹ ہونا چاہئے. اگر وہ صحت مند ہیں تو بھی انہیں ٹی بی روکنے کی دوا كھلا نا ضروری ہے، تاکہ ان میں آگے چل کر اس بیماری کی گرفت میں آنے کے امکان کم ہو سکیں اگر وہ بیمار ہیں تو کلینکل ٹیسٹ کر کے ان کا ٹی بی کا علاج شروع کر دینا چاہئے. '

نديم سلماني/ شو بها شكلا












Tuesday, November 15, 2011

اطفال نمونیا کا خطرہ اور بچاؤ

بچے کو نمونيا سے بچانے میں سب سے موثر ماں کا دودھ
 
اتر پردیش کے مختلف ڈاکٹروں  کا ماننا ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے چھ مہینے  تک صرف ماں کا دودھ نہایت ضروری ہے- یہ بچے کو نہ صرف نمونيا بلکہ بہت سارے جسمانی بیماری جیسے دست، ناکافی غذایت کی کمی وغیرہ سے بھی بچاتا ہے- اور بچے کو صحت مند رکھنے میں سب سے موثر ہے- بچے کو  زندگی کے ابتدائی چھ ماہ میں  اوپر سے کسی بھی قسم کا دودھ ' سپپلیمنٹ' یا پھر بوتل کا دودھ نہیں دینا چاہئے- ایک مطالعہ کے مطابق زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کے مقابلے میں وہ بچے، جو اپنے ابتدائی  چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ نہیں پیتے ہیں، ان میں نمونيا سے مرنے کا ٥گنا زیادہ خطرہ ہوتا ہے-

عالمی  صحت ادارہ نے بھی بتایا ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماںکا دودھ  ہی اسکی خوراک کا واحد ذریعہ ہے- ایک ماہ سے کم عمر کے بچوں میں، تنفسی متعلق بیماریوں سے ہونے والی کل اموات میں سے، ٤٤٪ اموات کم ماں کے دودھ  کی وجہ سے ہوتی ہیں- بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق "ماں کے دودھ میں وٹامن اور كولیسٹرم ہوتا ہے- جو بچے کو صحت مند رکھنے میں، نمونيا اور دیگر جسمانی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے- لہذا یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ہر ماں بچے کو ابتدائی چھ ماہ تک بچے کو صرف اپنا ہی دودھ پلایں- بچے کو اوپر سے بوتل کا دودھ نہیں دینا چاہئے کیونکی جو غذایت ماں کے دودھ میں ہے وہ اور کسی بھی چیز میں نہیں ہے-"

بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرِ اَمراضِ نِسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا بھی ماننا ہے کہ "ماں کا دودھ بہت ساری بیماریوں سے بچاتا ہے- اسی لئے ماں کا دودھ بچے کے لئے سب سے اچّھی غذا ہے- اور اس سے اچّھی غذا اور کچھ نہیں ہو سکتی  ہے- لہذا جو بھی حاملہ خواتین یہاں پر آتی ہیں- ہم انہیں اچھی طرح سے بتاتے ہیں کہ وہ بچے کو ابتدائی چھ ماہ تک اسے صرف ماں کا دودھ پلایں اور اسکے بعد کسی اور سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے-"

لکھنؤ شہر کی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ کے مطابق "ماں کا دودھ سب سے عمدہ  ہے- یہ نہ صرف بچے کو بیماریوں جیسے دست اور گیسٹرو انٹرایٹس(مِعدہ اور چھوٹی آنت میں جلن) سے بچاتا ہے بلکہ بچے کے جسمانی ترقی میں بھی مددگار ہوتا ہے، اور اس کے جسم کے دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر اسے دیگر بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتا ہے- لہذا ماں کا دودھ بچے کی زندگی کے ابتدائی  چھ ماہ تک کے لئے اپنے آپ میں ایک مکمل غذا ہے- اس کے علاوہ بچے کو اوپر سے کوئی دیگر دودھ  یا سپلیمنٹ  دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے-"

بہرائچ ضلع اسپتال کے ڈاکٹر مشرا اور ڈاکٹر ورما کا خیال ہے کہ ان کے اسپتال میں آنے والی خواتین میں سے تقریبا ٩٠  فیصد خواتین بچوں کو اپنا دودھ  پلاتی ہیں- اور ڈاکٹر مشرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ "شہری خواتین بچوں کو اپنا دودھ  کم پلا پاتی ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں- کچھ کام کاجی خواتین ہیں ان کے لئے بچے کو وقت سے اپنا دودھ پلا پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے- کچھ خواتین بچوں کو یا تو کم دودھ پلا پاتی ہیں یا پھر اپنا دودھ پلانا ہی نہیں چاہتی ہیں- لہذا اس موضوع پر عوام کو تعلیم اور بیداری کی ضرورت ہے- اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب ڈاکٹرحاملہ خواتین کو اپنا دودھ پلانے کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ اس پر عمل کرتی ہیں-"

------------------
نومولود بچوں کے لئے بہتر ماں - کا - دودھ ہے، لیکن معاشرے  میں پھیلی بیچارگی  کی وجہ سے پیدائش کے بعد انہیں ملتا ہے بوتل کا دودھ ، شہد ، پانی وغیرہ
------------------
جہاں ایک طرف سرکاری ضلع اسپتال کے طبیبوں کا یہ ماننا ہے کہ اکثر عورتیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہیں دوسری طرف معاشرے میں کچھ ایسی بیچارگی ہے جس کے مطابق نومولود کی پیدائش کے بعد بکری کا دودھ ، شہد، پانی یا پھر کوئی چیز ماں کے دودھ سے پہلے پلائی جاتی ہیں- جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں نمونيا سے متاثر اپنے تین دنوں کے بچے کو دکھانے آئی ماں کا کہنا ہے کہ "ہم نو مو لود بچے کو بکری کا دودھ پلا رہے ہیں کیونکی  یہ ہمارے گھر کہ پرانی روایت ہے-" نمونيا سے ہی متاثر ایک اور ڈھائی سال کے بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ بھی بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا پائی تھیں کیونکی اس وقت ان کا دودھ نہیں اتر رہا تھا-

معاشرے میں پھیلی اس قسم کی روایت  نہ صرف بچوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے بلکہ معاشرے میں ایک لعنت کی شکل میں پھیلی  ہے جس کو ان ڈاکٹروں کو بھی سمجھنا ہوگا اور ماؤں کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دینا ہوگا- کیونکہ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب ڈاکٹرحاملہ عورتوں کو ٹھیک طریقے سے سمجھاتے ہیں تو وہ ان کی باتوں کی پیروی کرتی ہیں اور اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتی  ہیں- معاشرے  میں بیداری کی کمی ہے لہذا خواتین کو جانکار اور بیدار بنانا ضروری ہے تبھی معاشرے میں مکمل طور پر تبدیلی آئے گی "

راہل کمار دیویدی -- سی ا ین ایس
(ترجمہ : ندیم سلمانی 

اچھے انٹيبايوٹكس سے ہو سکتا ہے نمونيا کا علاج
 
نمونيا کئی قسم کے جراثیم سے ہو سکتا ہے جن میں کئی طرح کے بیکٹیریا، وائرس اور پھپھوند  شامل ہیں- نمونيا کا علاج اس بات پر منحصر ہے کہ انفیکشن کی وجہ کون سے جراثیم ہے- نمونيا کے انفیکشن کا سبب جس طرح کے جراثیم  ہوتے  ہیں اسی کے مطابق انٹيبايوٹك دے کر اس کا علاج کیا جاتا ہے تاکہ اس کا اثر مریض پر جلدی ہو سکے-

ڈاکٹر ابھیشیک ورما (جو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال، لکھنؤ میں بچچوں کے امراض کے ہیں) ، کے مطابق ''نمونيا سے بچاؤ کے لئے گھر میں جن کو کھانسی آتی ہویا جن کو وائرس انفیکشن ہو، دھوئیں کا ماحول ہو یا پھر سردی کا موسم- ان تمام چیزوں سے بچوں کو مزید بچانے کے لئے انھے ٹیکے لگوانے کی ضرورت پڑتی ہے- اگر ماں یا گھر کے کسی اور صخش کو کھانسی آ رہی ہے تو ان کے ہاتھوں میں بچے کو نہ دیں- تبھی بچے کا بچاؤ ہو سکتا ہے- علاج کے لئے عالمی صحت ادارہ معیار کے مطابق سپٹران، امپيسلين اور انٹاماسين جیسی دواییں استعمال کی جاتی ہیں-  لیکن اسپتال میں اور بھی بہت ساری سہولیات دستیاب رہتی ہیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں- جیسے جب بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے تو آكسيجن بھی دی جاتی ہے- علاج کا صحیح طریقہ اسپتال کی سطح پر انحصار کرتا ہے- اگر ایک اچھے معیار کا ہسپتال ہے - چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری اس میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ہے- ہمارا اسپتال سرکاری ہے- لیکن یہاں کی سہولت کسی بھی غیر سرکاری اسپتال سے کم نہیں ہے- یہاں کا نظام بھی بہتر ہے- یہاں پر نمونيا کے علاج کے لئے ہر طرح کی سہولتیں دستیاب ہے- ہمارے یہاں آكسيجن آن لائن ہے اور موبيلاجرس بھی وارڈ میں رہتے ہیں- ہر طرح کی نگرانی کی سہولت اس اسپتال میں ہے- اس اسپتال میں عالمی صحت  ادارہ نے جو دوا مقرّر کر رکھی ہیں وہ یہاں پر اور تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہیں- چاہے وہ شہر کا ہسپتال ہو یا پھر دیہات کا

اسی اسپتال کے اہم طبّی افسر ڈاکٹر آر. ایس. دوبے نے بتایا کہ ''حکومت اس پر کافی توجہ دے رہی ہے- حکومت بہت سارے  منصوبے چلا رہی ہے- 'جننی سرکشہ اسکیم'، اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ ماں اور بچے کی حفاظت کا خیال رکھا جائے- ہمارے ہسپتال میں نمونيا کا عالمی صحت  ادارہ کے معیار کے ذریعے ہی علاج ہو رہا ہے- ''

غیر سرکاری شفاخا نے کی ناظم اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر رما شنكھدھر نمونيا کے علاج کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ''ہمارے شفاخانے میں جو بھی بچہ آتا ہے اور ہمیں نمونيا کا شک ہوتا  ہے تو ہم یہی مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کو ڈاکٹر کے پاس جلدی لایں، جس سے اچھے انٹيبايوٹك دے کر بیماری کو جلد قابو میں کیا جا سکے، اور بچہ نمونيا کی سنگین حالت میں نہ پہنچ پائے

ڈاکٹر رما شنكھدھر نے یہ بھی بتایا کہ ''سرکاری اسپتالوں میں ساری دوایں دستیاب نہیں رہتی ہیں- جو دوا ان کے پاس دستیاب ہوتی ہے وہی وہ مریض کو دیتے ہیں- بازار میں روز نئی-نئی دوائیں آ رہی ہیں-  لیکن ذاتی شفاخا نوں میں یہ سوچنا نہیں پڑتا ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے- ہمیں جو اچھا لگتا ہے ہم وہی تجویز کرتے ہیں، جس سے بچہ جلدی ٹھیک ہو سکے- جو عالمی صحت ادارہ کے معیاربنا ے جاتے ہیں وہ کانفرنسوں کے ذریع تمام ڈاکٹروں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے- اور ہم لوگ اس کو پڑھ اور سمجھ کر پھر اس پرعمل کرتے ہیں
نمونيا اکثر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ ہوتا ہے- اگر آپ بچے کی نگہداشت میں کچھ باتوں کا دھیان رکھیں گے تو آپ کا بچہ نمونيا سے ضرور بچ جائے گا- نومولود کو سردی کے موسم میں ہمیشہ گرم کپڑے جیسے ٹوپی، جرابيں وغیرہ پہنا كر رکھیں- بچے کو کھانسی، زکام  بخار وغیرہ ہونے پر فوری طور پر معالج کو دکھائیں- اگر بچہ ماں کا دودھ نہیں پی رہا ہے تو اسے گھر پر کچھ اور کھلانے پلانے کے بجائے معالج کو دکھائیں- اگر معالج اسپتال میں داخل کر کے علاج کرانے کو کہے تو لاپروائی نہ کریں اور اس کا علاج جلد کریں-  گھر میں صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں- گھر کے کونے کونے کو صاف رکھیں اور وہاں جھاڑو، پوچھا وغیرہ ٹھیک طرح سے لگائیں، جس سے بچے کو کسی قسم کا انفیکشن نہ ہو

ندیم سلمانی- سی این اس

ٹیکا لگواكر بچے کو نمونيا سے محفوظ رکھیں
 
"نمونيا سے حفاظت کے لئے ان کے بیکٹیریا کے حساب سے بازار میں ٹیکے دستیاب ہیں- حکومتی اسپتالوں میں ابھی ان کی دستیابی نہیں ہے- یہ ٹیکے عالمی صحت ادارہ کے معیار کے مطابق ہی تیار کئے گئے ہیں-'' یہ کہنا ہے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کا-

نمونيا پھیپھڑوں میں معمولی طریقے سے سوجن آنے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس کی وجہ  سے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے- عام طور پر نمونيا ہونے کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں- جیسے بیکٹیریا، وائرس ، پھپھوند یا پھیپھڑوں میں چوٹ وغیرہ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے- ویسے تو یہ ہرعمر کے لوگوں کو ہو سکتی ہے، لیکن یہ سب سے زیادہ پانچ سال تک کے بچوں میں پائی جاتی ہے

بچوں میں نمونيا بدلتے موسم کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے- خاص کر سردی کے موسم میں- تو اگر بچے کو پہلے سے ہی ٹیکا لگوا دیا جائے، تو کافی حد تک نمونيا ہونے کا خطرہ ختم ہو سکتا ہے- بازار میں دستیاب یہ ٹیکہ لگوانے پر بچے کو خطرہ بھی نہیں رہتا ہے- کیونکہ یہ ٹیکہ عالمی صحت ادارہ کے معیار کے مطابق ہی تیار کیا گیا ہے

ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق ''نمونيا کے ٹیکے الگ-الگ بیکٹریا کے حساب سے بنائے گئے ہیں- هيموپھلكسن، فلوینجا بی نمونيا کے لئے اور وائرس کے لئے بھی بہت سارے ٹیکے تیار کیے گئے ہیں- جیسے ریسپیریٹ سنسنل وائرس کے لئے بھی ٹیکہ ہے، اور  پیرا انفلوینجا، انفلوینجا ان سب کے لئے ٹیکے ہیں- یہ بیکٹریا اور وائرس کہیں نہ کہیں سے سانس کی نالی کو متاثر کرتے ہیں- اس طرح نمونيا کے ٹیکے تو بہت ہیں، اور عالمی صحت ادارہ نے ہر ٹیکے کے لئے معیار بھی بنایا ہے- ایسا نہیں ہے کہ ٹیکے کے لئے معیار نہیں ہے- معیار کے مطابق ہی ٹیکے قائم ہوتے ہیں، اور اس کے بعد بازار میں آتے ہیں- ان کا معیار مریض کی عمر کے حساب سے ہوتا ہے- اور اسی طرح سے لگائے جاتے ہیں-''

ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ ''ان ٹیکوں کی سرکاری اسپتال میں دستیابی نہیں ہے- یہ باہر سے لے کر ہی لگوايا جاتے ہیں- ہمارے یہاں ڈيپيٹي، پولیو، بيسيجي، ہپے ٹاٹس بی وغیرہ کل سات قسم کے ٹیکے لگتے ہیں- اس میں نمونيا کا ٹیکا شامل نہیں ہے- اس کے علاوہ اگر آپ کو کوئی ٹیکا لگوانا ہے- تو آپ کو اپنے پاس سے بازار سے خرید کر لگوانا ہوگا

اندرا نگر میں ایک غیر سرکاری شفاخانے کی ناظم اور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنكھدھر نے بتایا کہ ''نمونيا کے ٹیکے کے لئے عالمی صحت ادارہ  نے ایک معیار مقرر کیا ہے، اور نمونيا کے لئے ٹیکہ بھی آتا ہے- جو کہ 'ہب' نام سے آتا ہے- یہ ٹیکہ بچے کی پیدائش کے ٦  ہفتے کے بعد سے لگتا ہے- اور ١-١  ماہ کے وقفے پر تین خوراک میں لگایا جاتا ہے- جو بچوں کو  نمونيا سے بچاتا ہے- لیکن یہ ١٠٠ فیصد نہیں ہے- اگر انفیکشن ہو گیا تو بچے کو نمونيا ہو سکتا ہے- لیکن اتنا زیادہ نہیں ہوگا، کچھ کم ہوگا جو کہ اچھے انٹيبايوٹكس سے جلدی ٹھیک کیا جا سکتا ہے

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی منتظم ڈاکٹر آر. ایس. دوبے سرکاری اسپتالوں میں نمونيا کے ٹیکے کی دستیابی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ''نمونيا کے ٹیکے کے لئے عالمی صحت ادارہ کے ذریعے ایک معیار بنا ہے-  جسے ہم ذہن میں رکھ کر ہی اس کا استعمال کرتے ہیں- سرکاری اسپتالوں میں اس کی دستیابی کم ہے- لیکن یہ ٹیکے باہر سے بھی مل جاتے ہیں.

عام طور پر نمونيا سے مصیبت زدہ  بچے کو کھانسی، جكام، بخار، سانس لینے میں دقت، پسليو کا چلنا اور کھانسی میں بلغم آنا وغیرہ علامات ہوتی ہیں- انہی علامات کو ذہن میں رکھ کر نمونيا کا علاج کیا جاتا ہے- نمونيا کے علاج میں انٹيبايوٹكس دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے.

نمونيا کا پانچ سال تک کے بچوں میں زیادہ ہونے کی ایک وجہ سرکاری ہسپتالوں میں ٹیکے کا دستیاب نہ ہونا بھی ہے- یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والی تلسی، ياسمين، نور اور فرید ٹیکے کے کمی میں نمونيا جیسی بیماری کا شکار ہیں- ان کے والدین کو یہ بھی نہیں پتا ہے کہ نمونيا کے لئے بازار میں ٹیکا بھی دستیاب ہے

ویسے تو نمونيا کا علاج ممکن ہے لیکن اگر بچوں کا شروع میں ہی ٹیکا لگوا دیا جائے-  تو نمونيا جیسی بیماری سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے، اور ان ٹیکوں کی دستیابی اگر سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری تمام قسم کے ہسپتالوں میں کر دی جائے، تو ہندوستان میں ہر دن سیکڑوں بچوں کو نمونيا کی وجہ سے اپنی جان نہ گوانی پڑے- اور اگر ٹیکا لگا ہونے کے بعد نمونيا ہوتا بھی ہے تو جسم کی صلاحیت اتنی ہوگی کہ ڈاکٹروں کی طرف سے انٹيبايوٹكس دینے پر بچہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا

ندیم سلمانی - سی این اس 

گھر میں سگریٹ نوشی سے بھی ہو سکتا ہے بچے کو نمونيا
 
گھروں کے اندر ہونے والے فضائی آلودگی سے بچوں کو نمونيا جیسی بیماری ہو سکتی ہے- کھانا پکانے کے لیے جلایا گیا ایندھن اور گھر کے افراد کی طرف سے کی گئ سگریٹ نوشی کے دھویں میں موجود نقصان دہ عناصر بالواسطہ طور پر بچے کے جسم میں جانے کی وجہ سے نومولود کو نمونيا کا قہر جھیلنا پڑ سکتا ہے- کیونکہ نمونيا کا تعلق پھیپھڑوں سے ہوتا ہے، اس لیے جب بچہ آلودگی والے ماحول میں سانس لیتا ہے تو اس ہوا میں موجود نقصان دہ عناصر کا اثر اس کے پھیپھڑوں پر پڑتا ہے اور بچہ نمونيا جیسی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے-

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق ''گاؤں میں لکڑی یا اپلے سے کھانا پکایا جاتا ہے، کیونکہ وہاں شہروں کی طرح گیس کی دستیابی نہیں ہے ساتھ ہی ساتھ گھر میں جو صاف صفائی کی جاتی ہے اس سے دھول اڑتی ہے، اور گھروں میں جانور بھی پالے جاتے ہیں- ان تمام وجوہات کی بنا پر گھر کا ماحول الودہ ہوتا ہے- اس سے بچوں کو سانس لینے میں دقت آ سکتی ہے اور انہیں نمونيا اور سانس کی دیگر بیماریاں ہو سکتی ہیں- اگر ہم گھر کا ماحول صحت مند رکھیں تو بچچوں کو ان بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے"

ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ ''سگریٹ اور بیڑی کے استعمال کا سیدھا اثر نمونيا پر تو اتنا زیادہ نہیں ہے، لیکن اور دوسری بیماریوں، جیسے دمہ وغیرہ، کا خطرہ رہتا ہے- آلودگی کو کم کرنے کے لئے کھانا پکانے کے لیے لکڑی یا اپلے کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے- شہروں میں فرش پر گیلا پوچھا لگانے سے گرد کو کم کیا جا سکتا ہے- اور اگر گھر میں پالتو جانور ہیں تو انہیں گھر کے باہر ہی رکھیں تو زیادہ  بہتر ہے- اس بات کا خیال رکھیں کہ بچوں کو ان سے دور رکھا جائے، اور بچوں کو جانوروں کے ساتھ کھیلنے نہ دیا جائے- گھروں میں پوچھے، مچچھرداني وغیرہ کا استعمال کریں تو اس سے بچوں کو نمونيا جیسی بیماری سے بچایا جا سکتا ہے-''

اندرا نگر میں اپنا  ذاتی  شفاخانہ چلانے والی اور  ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھدھر کے مطابق ''جن گھروں میں لکڑی یا كنڈو کے چولہے جلتے ہیں یا پھر لوگ بیڑی، سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ گھر کی فضا کو الودہ کر دیتے ہیں، اور جب بچے اس ماحول میں سانس لیتے ہیں تو یہ دھواں پھیپھڑوں میں جاکر اندر جمع ہو جاتا ہے جس سے بچوں کو کم آ كسيجن ملتی ہے ، اور بچوں کے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت دھیرے-دھیرے کم ہونے لگتی ہے- اس لئے جب گھر میں جھاڑو پوچھا ہو رہا ہے تو بچوں کو وہاں سے نکال دیں اور پانی میں پھنايل یا نیم کی پتے ڈال کر پوچھا لگائیں

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی اہلکار ڈاکٹر آر. ایس. دوبے نے گھر کے اندر سگریٹ نوشی کے بارے میں بتایا ''کہ سگریٹ نوشی کا اثر یقینی طور پر بچوں پر پڑتا ہے- جب چھوٹے کمرے میں سگریٹ نوشی کی جائے گی  تو بچہ اس کو سانس لینے کے دوران اپنے اندر جذب کرے گا جس کی وجہ سے اس کے اوپر اس کا اثر پڑے گا''

انہی سب وجوہات کی وجہ سے ریکھا کی بچی تلسی نمونيا کی شکار ہو گئی ہے- ریکھا یہ بات جانتی تک نہیں ہے کہ لکڑی کے چولہے سے نکلنے والا دھواں ہی اس کی بچی کو نمونيا ہونے کی وجہ ہے- وہ اپنی بچی کو گود میں لے کر بڑے آرام سے کھانا بناتی ہے، اور اس کا شوہر بھی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بیڑی نوش کرتا ہے، جس کا اثر اس کی معصوم بچی کو جھیلنا پڑ رہا ہے- دوا لانے پر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا ہے- کیونکہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ کمی کہاں ہے- انہیں کسی ڈاکٹر نے اس بارے میں بتایا ہی نہیں

عام طور پر نمونيا کو ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جاتا ہے- لیکن یہ اب عام بیماری نہیں رہی کیونکہ پانچ سال تک کے بچوں کی اموات نمونيا کی وجہ سے ہر سال بڑھتی جا رہی ہیں- اس لیے نمونيا کو عام بیماری سمجھکر اسے نظر انداز نہ کریں- اپنے بچے کو نمونيا اور دوسری سانس کی بیماریوں سے بچانے کے لئے گھروں کے اندر ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو روکیں اور اگر گھر میں کھانا مٹی کے چولہے پر بناتی ہیں تو اپنے بچوں کو اس کے دھوئیں سے دور رکھیں اور جس مقام پر بچے ہوں وہاں سگریٹ نوشی تو بالکل نہ کریں- تبھی آپ کا بچہ صحت مند رہ پائے گا

ندیم سلمانی - سی این اس

غذا اور صفائی کا خیال رکھکر بچوں کو نمونيا سے محفوظ رکھیں

حمل سے ہی غذا اور صفائی کا خیال رکھا جائے تو پیدائش کے بعد نومولود بچے میں ہونے والی نمونيا جیسی بیماریوں سے اس کی حفاظت کی جا سکتی ہے، اور بچے کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے-

نمونيا پانچ سال تک کے بچوں میں ہونے والی ایک عام بیماری ہے جس سے، اگر ماں چاہے تو اپنے بچے کو محفوظ رکھ سکتی ہے- ضرورت ہے تو صرف تھوڑی سی بیداری کی اور بچے کی پیدائش سے قبل ہی اس کے لئے تیاری کرنے کی-
    
ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھ دھر کے مطابق ''جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے ہم مشورہ دیتے ہیں کہ آئرن، کیلشیم، پروٹین وغیرہ کی گولی لیں اور کھانے میں ایسی چیزیں کھایں جن میں پروٹین ہوتا ہے، جیسے سویا بین، اور گڑ جس میں آئرن بہت ہوتا ہے- گڑ آئرن کا بہت اچھا ذریعہ ہے، شہر اور گاؤں دونوں جگہ آسانی سے مل بھی جاتا ہے- یہ مہنگا بھی نہیں ہوتا ہے- ساتھ ہی پنیر اور دودھ بھی لیں جس میں پروٹین اور کیلشیم دونوں ہوتا ہے- تو اگر ماں کو اچھی غذا دیں گے تو بچہ صحت مند پیدا ہوگا- اس سے ایک فائدہ اور ہوتا ہے کہ بچہ وقت سے پہلے نہیں ہوتا ہے- جب بچہ وقت پر ہوتا ہے تو بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے-''
    
ڈاکٹر شنکھدھرنے یہ بھی بتایا کہ ''صاف صفائی کا مکمل خیال رکھنا چاہئے- بچے کو گود میں اٹھانے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھو لیں، اور دودھ پلا نے سے پہلے اپنے پستان کو کسی گیلے توليے سے پونچھ لیں، جس سے پسینے یا پھر اگر پاوڈر یا کریم وغیرہ لگاتی ہیں تو یہ بچے کے منہ میں نہ جائے- ماں کو روز نہانا چاہیے، اور بچے کو بھی روز نهلاكر اس کے کپڑے بدلنے چاہیے- ہر بار پیشاب یا پخانا وغیرہ کرنے پر بچے کے کپڑے تبدیل کریں اور گندے کپڑوں کو صابن سے دھو کر اور ٹھیک سے سكھاكر ہی انہیں پهنایں- کبھی بھی گیلے کپڑے بچے کو نہ پهنا یں- ساتھ ہی جب بچہ تھوڑا بڑا ہو جائے اور کچھ کھانے لگے تو یاد رکھیں کہ انہیں باہر کی چیزیں نہ دیں- صرف گھر کی بنی چیزیں ہی انہیں دیں اور مرچ مسالے کی چیزوں سے بچوں کو دور رکھیں-''         

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہرامراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما بچوں کی  غذا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ''جو ہمارے جسم کے ضروری عناصر ہیں، جیسے کاربوہائیڈریٹ، پروٹین ، چربی وغیرہ، وہ ایک خاص مقدار میں ہمارے جسم کے حساب سے ضروری ہیں جب وہ صحیح مقدار میں جسم کو حاصل ہوں تو اسے ہم اچھی غذا کہتے ہیں- اگر ہم بچے کو مفید خوراک دیتے ہیں، جس میں ہر طرح کی دفاعی چیزیں موجود ہوں، تو اس سے جسم کی بیماری سے لڑنےکی صلاحیت بڑھتی ہے- وہ سیدھے طور پرتو نمونيا کو نہیں روک سکتی ہے- لیکن جسم کو نمونيا سے لڑنے کی طاقت ضرور فراہم کرتی ہے، اور وہ مناسب کھانے سے ہی آتی ہیں- تو یقینی طور پر ایک مفید خوراک سے جسم کو ہر طرح کی بیماری سے بچانے میں مدد ملتی ہے-''

 ہرخاتون جب وہ حمل میں ہوتی ہے تو اس کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اس کا ہونے والا بچہ صحت مند اورتندرست ہو، اور پیدائش کے بعد تمام طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہے- اگر وہ اپنے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں تو حمل سے ہی اپنے اور بچے کے غذا کا خیال رکھے جس سے پیٹ میں پل رہے بچے کی ٹھیک سے ترقی ہو سکے، اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے کے لئے بھی ضروری عناصر مل سکیں- اس کے لئے اگر ممکن ہو تو ماں کو دودھ، انڈے، مچھلی اور گوشت وغیرہ فراہم کریں جس سے اسے پروٹین پوری مقدار میں مل سکے- اگر سبزی خورہیں تو اس کے لئے اناج اور دلوں کا استعمال کر سکتی ہیں- چینی کے مقام پر گڑ کا استعمال کریں اور کیلشیم کے لئے باجرے کا استعمال کریں- وٹامن کے لئے سبز پتے والی سبزی کا استعمال کر سکتی ہیں- اس طرح اگر حمل سے ہی غذا کا خیال رکہیں گی تو پیدائش کے بعد ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کو وہ تمام ضروری عناصر مل جایں گے جو بچے کو نمونيا جیسی بیماری سے لڑنے میں مدد کریں گے اور بچہ صحت مند رہے گا-
 
ندیم سلمانی- سی این اس
 
بچوں کو نمونيا سے بچاتا ہے ماں کا دودھ
 
بچوں کو پیدائش سے ٦ ماہ تک صرف ماں کا ہی دودھ پلایں کیونکہ یہ اس کے جسم کو نمونيا، دست، اور دماغی بخار وغیرہ جیسی بیماریوں سے بچانے کا کام کرتا ہے- یہ کہنا ہے لکھنو کے ڈاکٹروں کا-

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ابھیشیک ورما کے مطابق "ماں کے دودھ میں بہت سارے ایسے عناصر ہوتے ہیں جنہیں ہم انٹی با ڈیز کہتے ہیں یہ انٹی با ڈیز نمونيا ہی نہیں بلکہ اور بہت ساری بیماریوں سے بچوں کو بچاتے ہیں- اس لئے ابتدائی٦  ماہ تک ماں کا دودھ دینا انتہائی ضروری ہے-"

ڈاکٹر ابھیشیک ورما نے بتایا کہ "جب بھی کوئی حاملہ عورت ہمارے اسپتال میں آتی ہے تو ان سے جانچ کے وقت سے ہی اس بات کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بچے کو اپنا ہی دودھ پلایں، اور ہمارے یہاں جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ضروری طور پر ان کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ماں کا دودھ ہی سب سے اچھا ہوتا ہے، آپ اپنا ہی دودھ ٦ ماہ تک بچے کو پلایں- بچے کی ترقی کے لئے ٦ ماہ تک ماں کا دودھ کافی ہوتا ہے- اس کے اوپر بیماری کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے- ایسی حالت میں زیادہ تر مایں بچے کو اپنا دودھ پلانا پسند کرتی ہیں، اور جو ایسا نہیں کرتی ہیں ان کے بچوں میں انفیکشن جیسے نمونيا، دست، غذائیت کی کمی اور بہت ساری پریشانیاں زیادہ آتی ہیں-"

ڈاکٹر ورما نے یہ بھی بتایا کہ "بوتل کے دودھ کو ہم منع کرتے ہیں- اگر کچھ سپلیمنٹ دینا ہے تو گھر کا ہی دیتے ہیں اور دودھ ماں کا ہی دیتے ہیں- بوتل کے دودھ میں وہ ضروری عناصر نہیں ہوتے ہیں جو ماں کے دودھ میں پائے جاتے ہیں اس لیے ہماری کوشش یہی رہتی ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ ہی پلاے-"

ایک ذاتی شفاخانے کی ناظم اور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رما شنکھدھر کے مطابق "شروع میں بچے میں دفاعی صلاحیت اتنی نہیں ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں سے لڑ سکے- اس لئے جب بھی اسے کوئی انفیکشن ہو جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا پاتا ہے لیکن جب وہ ماں کا دودھ پیتا ہے  تو ماں کے دودھ میں اتنے انٹی با ڈیز ہوتے ہیں جو بیماریوں سے لڑنے میں بچے کی مدد کرتے ہیں، اور نمونيا، ٹی بی، زکام، دماغی بخار، دست وغیرہ بہت ساری بیماریوں سے بچے کو محفوظ رکھتے ہیں- ہم تمام خواتین کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کم سے کم٦ ماہ تک بچوں کو تو ضرور ماں کا دودھ پلا یں-"

ڈاکٹر رما شنکھدھر آگے بتاتی ہیں کہ "کچھ ماوں میں دوا دینے کے باوجود دودھ نہیں اترتا ہے- لیکن ان کو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ جب تک دودھ اتررہا ہے آپ بچے کو دودھ پلاتی رہیں اور باقی سپلیمنٹ بھی دیں جس سے وہ بھوکا نہ رہے- اگر ماں کا دودھ کافی مقدار میں ہو رہا ہے تو بچے کو الگ سے کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے- اگر دودھ کافی مقدار میں نہیں ہے تو بوتل کا دودھ دے سکتی ہیں- جب بچہ تین مہینے کا ہو جائے تو اسے دال کا پانی بھی چھانكر دے سکتے ہیں-"

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کمبا ینڈ اسپتال کے اہم طبی اہلکار ڈاکٹرآر. ایس. دوبے بھی ماں کے دودھ  کی حمایت کرتے ہیں- ان کے مطابق "جب ماں بچے کواپنا دودھ نہیں پلاتی ہے، اور دودھ چمچ وغیرہ سے دیتی ہے تو دودھ اس کی سانس کی نلی میں جانے کا خطرہ رہتا ہے- پر اگر اس کا سر اٹھا کر دودھ پلایا جائے تو اس کا خطرہ یقینی طور پر کم ہوگا- بچوں کو ٦  سے ١٢ ماہ تک ماں کا دودھ پلا یں اس سے باہری خطرناک عناصر بچے کے جسم کے اندر نہیں جائیں گے- اسی لیے جو بچہ ہمارے ہسپتال میں پیدا ہوتا ہے تو اس کی ماں کی ہم رہنمائی کرتے ہیں، اور اپنا دودھ پلانے کے  لئے بتاتے ہیں-"

وہیں اسی اسپتال میں پیدا ہونے والی اسماعیل گنج جھوپڑپٹٹي کی ایک نمونيا سے پریشان بچی تلسی کی ماں ریکھا نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے ماں کے دودھ  کے لئے کچھ نہیں بتایا- پھر بھی ماں نے بچی کو ٦ ماہ تک اپنا دودھ پلایا- اس کے باوجود بچی کو نمونيا ہو گیا- اسی بستی میں رہنے والی نمونيا سے تکلیف زدہ جیوتی، ياسمين اور فرید کی ماوں نے بھی اپنے بچوں کو ٦ ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلانے کی بات کہی-

 اپنے بچے کو پیدائش سے ٦  ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلا یں-  کیوں کہ یہ آسانی سے بچے کے پیٹ میں حجم ہو جاتا ہے- جس سے بچے کا پیٹ خراب ہونے کا خطرہ نہیں رہتا ہے- ماں کے دودھ میں سارے ضروری عناصر موجود ہونے کی وجہ سے بچے کو باہر سے کچھ بھی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے- دودھ میں موجود عناصر ہی اسے بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتے ہیں- اس لئے بچوں کے لئے ابتدائی ٦ ماہ تک ماں کا دودھ بہت ہی ضروری ہے، کیونکہ یہ بچوں کو نمونيا جیسی بیماریوں سے لڑنے میں مدد کرتا ہے- ہرماں کو چاہیے کہ وہ اپنے نومولود کو ٦ ماہ تک صرف اپنا ہی دودھ پلا یں، اور نمونيا جیسی بیماریوں سے بچوں کو دور رکھیں- ساتھ ہی ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ ماں کے دودھ کے بارے میں خواتین کو بتائیں اور انہیں بچوں کو ٦ ماہ تک صرف اپنا دودھ ہی پلا نے کا مشورہ دیں جس سے نمونيا جیسی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے-

ندیم سلماني - سی این ایس
ماں کا دودھ - نومولود کا پہلا ٹیکہ
 
ماں کا دودھ نومو لود اور بچوں کے لئے ایک غذائیت سے بھرپور خوراک ہے- یہ بچے کے لئے گراس کی طرح ہے اور اسے بچے کو دیا جانے والا پہلا ٹیکہ (ویکسین) بھی کہا جا سکتا ہے- ماں کے دودھ میں بچوں کوپرورش کرنے کی منفرد صلاحیت ہوتی ہے- اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں مرض سے لڑنے والے عناصر(اميون گلووناش) پائے جاتے ہیں جو بچوں کو بچپن کی عام بیماریوں سے جن میں نمونيا ایک بیماری ہے، دفاع فراہم کرتے ہیں-  نمونيا سے دنیا بھر میں روزانہ ٤٣٠٠ سے زیادہ بچوں کی موت ہوتی ہے- ماں کا دودھ مکمل طور سے محفوظ، ہضم کرنا آسان ہوتا ہے-

 ماں کا دودھ  بچے کی صحت اور زندگی کے لئے سب سے سستا اور موثر ہے- پیدائش کے بعد  پہلے چھ مہینوں تک بچوں کو ماں کے دودھ سے محروم رکھنے کی وجہ سے دنیا میں لاکھوں بچوں کی ہر سال موت ہوتی ہے جو روکی جا سکتی ہے- ماں کا دودھ بچوں کو فوری فائدہ دینے کے علاوہ انہیں زندگی بھر جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہنے کی صلاحیت دیتا ہے- اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ عالمی صحت ادارہ بچے کی پیدائش سے پہلے ٦ ماہ تک ماں کے دودھ کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کرتا ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ ، جو 'والسلي ریسورس سنٹر فار ہیلتھ' کی اہم کارکن ہے اور نسواں ا مرا ض کی ماہر ہیں، کے مطابق مکمل طور پر ماں کے دودھ  کا مطلب ہے کہ بچے کو صرف اور  صرف ماں کا دودھ ہی دینا چاہیے، ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی بھی اور چیز جیسے پانی، گراپواٹر یا شہد نہیں دینا چاہیے- ماں کے دودھ میں بیماری دفاعی عناصر پائے جاتے ہیں جو بچوں کو کئی قسم کی بیماریوں، خاص کر نمونيا و دست سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں-

اس کے علاوہ ماں کا دودھ ، بچوں کی ذہنی صلاحیت کو فروغ دینے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے- یہ پایا گیا ہے کہ ماں کا دودھ پینے  والے بچوں کا ذہنی درجہ اوپر کا دودھ پینے والے بچوں کی توقع ١٠ گنا زیادہ ہوتا ہے- ماں کا دودھ پینے  والے بچوں میں زندگی میں آگے جاکر جلد والی بیماریوں، دمہ اور دل متعلق بیماریوں کے فی الرجی کو بھی کم کرتا ہے-

 مشہور اطفال مرض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي، جن کا ایک ذاتی کلینک ہے، کے مطابق صرف ماں کا دودھ  ہی اپنے نو مو لود کا سب سے بہترین کھانا ہے-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا ، جو لکھنؤ کی ایک مشہور نومولود امراض کے ماہرہیں، کے مطابق ماں کا دودھ  ماں اور بچے کے درمیان جذباتی تعلق قائم کرتا ہے جس سے ماں اور بچے کے تعلقات اور مضبوط ہو جاتے ہیں- اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں کچھ خاص هارمونس پائے جاتے ہیں جو گائے یا بھینس کے دودھ میں نہیں ہوتے ہیں- یہ هارمونس بچے میں مختلف بیماریاں جن میں سے نمونيا ایک ہے، سے حفاظت فراہم کرتا ہے-

ڈاکٹروں کی طرف سے ماں کے دودھ کے معیار کو ثابت کرنے کے بعد بھی ٤٠ فیصد سے کم نومولود بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے- ڈاکٹر نیلم سنگھ کی کلینک میں آنے والی ماؤں میں سے صرف ١٥ فیصد یا ٢٠ فیصد مائیں  ہی اس اصول پر عمل کرتی پائی گئی ہیں- اس موضوع میں ماؤں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ ماں کا دودھ پلانے کے سلسلے میں انہیں کئی طرح کے فریب ہیں جیسے پستان کے 'نپل' میں درد ہونا، یا کافی مقدار میں بچے کے لئے دودھ کا نہ ہونا، دودھ سے متعلق دیگر معلومات نہ ہونا یا کچھ معاشرے میں رسم کی دیوار وغیرہ-

ڈاکٹر نیلم سنگھ کے مطابق نومولود بچے کی ماں کو اپنا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے نہ صرف ڈاکٹر بلکہ نرس، اور دیگر لوگوں کا بھی تعاون ضروری ہے- ڈاکٹر کو ماں کو اس بات کا یقین دلانا چاہیے کہ صرف اپنے دودھ  کے ذریعے ہی نومولود کو خوراک حاصل ہوتا ہے- ڈاکٹر کو ماں کو بچے کی پیدائش کے بعد ہی اپنا دودھ  شروع کرنے کا مشورہ دینا چاہیے- طبی عملے (پیرامیڈكل اسٹاف) کا فرض ہے کہ وہ ماں کو نومولود کو صرف اپنا دودھ پلانے  کے لئے حوصلہ افزائی کریں- خاندان کے ارکان کا بھی فرض ہے کہ وہ ماں کو اس کی اہمیت بتائیں اور ماں کے كھان پان اور غذائیت کا بھی خیال رکھیں-

کام کاجی ماؤں کے لئے ان کے کام کرنے کی جگہ کا ماحول، اور کام کرنے کی سہولتیں نومولود بچوں کے موافق ہونی چاہئے- کام کاجی ماؤں کو اپنے بچے بچوں کو دودھ پلانے کی سہولت ملنی چاہئے- دفتر میں انہیں ایک تنہائی کی جگہ ملنی چاہیے جہاں وہ دودھ پلا سکیں- حاملہ کام کاجی خواتین کو ٦ ماہ کی مادری چھٹی ملنی چاہیے- دنیا کے کئی ملکوں نے اس جانب قدم اٹھائے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ابھی اس موضوع پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے-

ڈاکٹر ایس. این. رستوگي کا کہنا ہے کہ ''کچھ خواتین اپنی جسمانی شکل پر انتہائی توجہ دیتی ہیں- وہ سوچتی ہیں کہ اپنا دودھ پلانے سے ان کی جسمانی خوبصورتی کم ہو جائے گی، ''لیکن ایسا سوچنا بالکل غلط ہے- اس کے علاوہ کچھ حاملہ خواتین خود اتنی کم غذائیت والی ہوتی ہے کہ انہیں اس بات کا ڈر بنا رہتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو مناسب مقدار میں اپنا دودھ نہیں دے پايےگي-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا کہنا ہے کہ ''ہندوستان میں زیادہ تر حاملہ خواتین کم غذائیتوالی ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر بنا رہتا ہے کہ وہ مناسب مقدار میں نومولود بچوں کو اپنا دودھ نہیں دے پايےگي- لہذا وہ ڈبے کا اور دیگر قسم کا اوپر کا دودھ بچوں کو پلانا شروع کر دیتی ہیں- ماں کے دودھ کے علاوہ دیگر تمام قسم کے دودھ نوزائیدہ بچے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں- اگر نومولود کو ٦ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلایا جائے تو اسے کئی قسم کے انفیکشن والی  بیماریوں کے ہونے کے امکان کم ہو جاتے ہیں-  تقریبا ١  فیصد مثالوں میں پایا گیا ہے کہ ماں کا دودھ مناسب مقدار میں نہیں ہوتا ہے، یا حاملہ عورت کسی شدید بیماری سے متاثر ہے- انہی کیفیات میں ڈاکٹر بچے کو صرف اس کے استعمال کے لئے بنایا گیا ڈببے کا دودھ جو بازار میں دستیاب ہوتا ہے اور جسے ماں- باپ خرید سکتے ہیں، نومولود بچے کو پلانے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن ڈبے کے دودھ اور بوتل سے دودھ پلانے میں کئی خرابياں ہیں- بوتل سے دودھ پلانے میں صفائی  کا انتہائی خیال رکھنا چاہیے، ورنہ بچے کو کسی بھی قسم کا انفیکشن ہونے کے امکان رہتے ہیں، اس کے علاوہ بوتل سے دودھ پلاتے وقت مائیں اکثر اس میں پانی ملا دیتی ہیں- ایسا دودھ پینے والے بچے میں غذائیت کی کمی رہتی ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچے کے لئے بنایا گیا ڈببے کا دودھ بچے کو غذائی عناصر تو دے سکتا ہے لیکن اس قسم کے بچے کے دودھ میں 'اميون گلوونس نہیں پائے جاتے ہیں- ساتھ ہی بوتل سے دودھ پلانے میں انتہائی صفائی  کا خیال رکھنا ضروری ہے جو ہمارے ملک میں ممکن نہیں ہے- ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اعلی درجہ حرارت کئی قسم کے متعدی بیماریوں کو پھیلانے میں معاون ہوتا ہے- ڈبے کا دودھ بچوں کو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت نہیں فراہم کرتا ہے-

ماں کے دودھ کے فوائد  کے بارے میں نا علمی کی فضا میں بھی محترمہ الپنا سنگھ ایسی کچھ ماؤں میں سے ایک  ہیں  الپنا نے اپنے دوسرے بچے کو شہر کے پرائیویٹ نرسگ ہوم (سٹی ہسپتال) میں آپریشن کے ذریعے پیدا کیا- وہ کہتی ہیں، ''میں نے آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش کے ٹھیک بعد سے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیا اور ٦ ماہ تک میں نے اپنے بچے کو پانی یا اوپر کا دودھ نہیں دیا- مجھے ٣ ماہ کے زچگی تعطیل کے بعد اپنا عہدہ سنبھالنا پڑا- میں پستان پمپ کی مدد سے اپنا دودھ ٣-٤ گھنٹے تک جمع کر لیتی تھی- اس طرح میں نے اپنے بچے کو کم از کم ایک سال تک اپنا دودھ ہی پلایا-
ماں کے دودھ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے صحت سہولتیں دستیاب ہونی چاہیے- مثال کے طور پر نومولود بچوں کی ماؤں کو اس دودھ کے موضوع کے مشیر دستیاب ہونا چاہئے- ماں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا چاہیے- ماؤں  اور بچوں کو اس طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ١٥٠ ممالک میں ٢٠٠٠٠ سے زیادہ بچوں کو فلاحی سہولتیں دستیاب ہیں- اس کے لئے ہم عالمی صحت ادارہ،  يونيسیپھ (WHO ،UNICEF) کے بہت شکر گزار ہے-  ہمیں صرف ماؤں کو نہیں بلکہ ان کے خاندانی اراکین کو بھی اس دودھ کے فایدوں سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے- ماں کے دودھ  کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے مکمل معاشرے کے تعاون کی ضرورت ہے-

سوميا اروڑا - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

ماں کے دودھ سے نمونيا سے بچاؤ ممکن
 
٥ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے دنیا بھر میں نمونيا نامی بیماری جان لیوا ہو سکتی ہے- ہر سال تقریبا ١.٦  لاکھ بچوں کی موت اس بیماری سے ہوتی ہے- یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی ا موات کا تقریبا ١/٥ حصہ ہے- دیگر مہلک سانس والے انفیکشن کی طرح نمونيا دنیا کے ان بچوں کو، جو غریب اور کم غذایت ہے، اپنا مہلک شکار بناتا ہے- ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ترقی پذیر ممالک کے بچے ١٠ گنا زیادہ تعداد میں اس مرض کے شکار ہوتے ہیں- غریب ممالک میں نمونيا مرض ١٠٠٠٠٠ بچوں میں سے ٧٣٢٠ بچوں کے لئے جان لیوا پایا گیا ہے- جنوبی ایشیا اور سب - سہارا افریقہ کے علاقے میں ٢١ فیصد بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہے- 'مہلک سانس والا انفیکشن ٢٠١٠ اٹلس' کے مطابق غذائی اجزاء کی کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ٤٤ فیصد بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہے-

ہندوستان میں بچپن میں نمونيا کا مرض بہت زیادہ تعداد میں پایا جاتا ہے- جسم کی  دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بار بیماری ہونے پر اس کے ضمنی اثرات کو کم کرنے کے لئے مناسب غذائیت سے بھرپور خوراک بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہے- تمام ڈاکٹر اس بات سے متفق ہیں کہ کم غذائیت بچوں کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیتوں کو کم کرتا ہے، جس کی وجہ سے بچے مختلف بیماریوں، جن میں سے نمونيا بھی ایک ہے، کے شکار بن جاتے ہیں-

اگرچہ غذائیت کی ایک وجہ غربت بھی ہے، لیکن عام طور پر سستا لیکن غذائی غذا غذائیت مادوں کے موضوع کی انبھجنتا ہی غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کو مناسب خوراک سے ملنے سے محروم رکھتا ہے. یہ بات خاص طور پر حقیقت ہے کہ شہروں میں رہنے والے خاندانوں کے بچوں کا روزانہ کھانا 'پروسسڈ' اور 'فاسٹ فوڈ' ہی ہوتا جاتا ہے- شہر کی جھوپڑپٹي میں رہنے والے لوگ بھی عام  طور پر غذائیت سے بھرپور کھانا جیسے کی دال  روٹی کی بجائے چکنائی اور چربييكت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں-

لکھنؤ کے مشہور ہسپتال سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ کالیج کے گیسٹرو انٹرو لوجی محکمہ کے پروفیسر اورصدر ڈاکٹر گوڑداس چو دھری بھی اس بات سے متفق ہیں کہ کم غذائیت سے بچے آسانی سے نمونيا مرض سے متاثر ہو جاتے ہیں- ڈاکٹر چودھری بچوں کی صحت کے بہت بڑے حامی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ، "نمونيا جیسی کئی بیماریوں کا ایک اہم سبب ہے خلل طرز زندگی- غریب خاندانوں کے بھوک سے متاثر بچے اور امیر خاندانوں کے ستھول بچے  دونوں ہی غذائیت کے شکار ہوتے ہیں- اسلئے ان میں بیماری دفاعی صلاحیت کم ہو جاتی ہے- اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ بچوں کا وزن ایک اوست وزن ہونا چاہیے، اور انہیں کھیلوں میں کافی دلچسپی رکھنی چاہیے- انہیں جسمانی ورزش کافی مقدار میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے پھیپھڑے، اور پورا جسم صحت مند رہے جس سے وہ نمونيا اور دیگر سانس والی بیماریوں سے نہ متاثر ہوں-''

نیلسن اسپتال کے اطفال بیماری کے ماہر ڈاکٹر دنیش پانڈے نے بتایا کہ کچھ سال پہلے غریب خاندانوں کی توقع فارغ البال خاندانوں کے بچوں کو نمونيا مرض کم ہوتا تھا- لیکن پروٹین عناصر والی  خوراک، انتہائی بھیڑ- بھاڑ، گھر کے اندر اور باہر کی آلودہ فضا اور طرز زندگی میں مختلف تبدیلی کی وجہ سے معاشرے کے اعلی خاندانوں میں بھی اس بیماری کا اثر دیکھا جاتا ہے، نمونيا اور دست جیسی بیماریوں سے متاثر بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے- انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاسٹ فوڈ (جو ہرگز غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتا ہے) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے، بچے کم غذائیت رہتے ہیں اور ان کی بیماریوں سے لڑنے کی دفاعی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے- لہذا  نمونيا مرض صرف غریب خاندانوں تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے- اگرچہ ترقی پذیر ممالک ، جیسے ہندوستان میں نمونيا کا مرض کم آمدنی والے خاندانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے-

ڈاکٹر دنیش پانڈے کے خیال سے "اچھی غذائیت سے بھرپور خوراک مهنگی نہیں ہوتی ہے- کچھ گاؤں میں بچوں کو اچھی غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے تالاب سے نکالی گئی تازہ مچھلی اور خالص گائے یا بھینس کا دودھ آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے. گاؤں کے بچوں کو ہری سبجيا اور دال سستے اور آسانی سے مل جاتے ہیں. شہروں میں رہنے والے خاندان خوراک پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں لیکن وہ خوراک کی غذائیت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں- میں اس بات کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کہ خوراک کی غذائیت، مقدار اور خاصیت کے مطابق متوازن ہونی چاہیے- غذا بچوں کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے- تجارتی بنیاد پر حاصل کھانا جیسے 'فاسٹ فوڈ' جن کا اشتہارات کے ذریعہ سے انتہائی تشہیرکیا جاتا ہے ان کو نہیں کھانے چاہیے- گھر کا سادہ بنا ہوا کھانا ہی بچوں کے لئے مفید ہوتا ہے-"

نیلسن اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اجے مشرا اس بات پر خصوصی زور دیتے ہیں کہ عام عوام کو اس بات کے لئے تعلیم یافتہ بنانا ضروری ہے کہ اچھی خوراک نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچوں کی حفاظت کرتی ہے- ان کے خیال سے، "ماں-باپ کو اپنے بچوں کی كیلوري کی ضرورت جانني چاہیے- انہیں اپنے بچوں کے لئے ایک متوازن کھانا محفوظ کرنا چاہئے جس میں پروٹین، كاربوهاڈریٹ، آ یرن اور كیلشيم مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں- میں رےشےدار کھانے کوجیسے ہری سبزیاں، دالیں، عام روٹی یا چپاتی جو سستی اور صحت کیلئے فا یدے مند ہے- بچوں کو دیے جانے کی درخواست کروں گا- ماں- باپ کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو 'فاسٹ-فوڈ' جیسے پيجا، برگرس، پیسٹريج اور کولڈ- ڈرنكس لینے کے لئے حوصلہ افزائی نہ کریں کیونکہ یہ سب مادہ بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ہی لئے جانے چاہئے- میں پھلوں کو زیادہ اہمیت دوں گا، ان کے رسو کو نہیں، کیونکہ پھلوں میں ریشوں کے ساتھ-ساتھ معدنی عنصر بھی پائے جاتے ہیں-"

حمل زندگی کی ابتدائی حالت سے، بچپن تک دئ گئ مہیہ غذائیت سے بھرپور خوراک، بچوں کی ہمیشہ کے لئے کامہیہ مرض گردی صلاحیت اور خطرناک سانس والا انفیکشن جیسے نمونيا سے متعلق ہے- ماں سے عام طور پر پائے جانے والے غذائیت سے بھرپور خوراک کی نامناسب مقدار بعد میں بچوں کی نمونيا کا ایک بڑا سبب ہوتا ہے، کیونکہ یہ پیدائش کے وقت بچے کے کم وزن کی وجہ سے ہوتا ہے- ماں کے دودھ کے معیار کو کم سمجھنے کی وجہ سے بچے میں كپوش اور وٹامن کی کمی کا خدشہ بڑھ جاتی ہے-

ڈاکٹر امتا پانڈ ے، جو چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے نسواں مرض محکمہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ ، "اگرچہ نمونيا مرض امیر اور غریب تمام بچوں کو ہوتا ہے پر مطالعہ کرنے سے پتہ چلا ہے کہ كپوشت بچوں کو نمونيا زیادہ ہوتا ہے- جو انفیکشن غذائیت سے بھرپور خوراک پانے والے بچوں میں صرف  سانس نلي کے اوپری حصہ کو شکار کرکے ختم ہو جاتا ہے، وہی انفیکشن كپوشت بچوں میں بے حد کمزوری فراہم کرنے والے نمونيا بیماری کا سبب بن جاتا ہے- میں یہ بھی کہنا چاهوگي کہ فارغ البال خاندانوں کے بچے، جنہیں کافی مقدار میں کھانا ملتا ہے، بھی كپوشت ہوتے ہیں- اس کی کئی وجوہات ہیں- انہیں ماں کا دودھ نہیں پلا ایا گیا ہوتا ہے، انہیں اوپر کا دودھ دیا جاتا ہے جس میں کافی مقدار میں پروٹین نہیں پائے جاتے ہیں، یا اوپر کے دودھ میں پانی ملا کر پلایا جاتا ہے- ماؤں میں یہ غلط خیال ہے کہ پانی ملا دودھ آسانی سے پچ جاتا ہے- جیسے جیسے بچہ بڑھتا ہے اسے دودھ کے علاوہ اور بھی کھانا جیسے چاکلیٹ پھرايج، برگر، پيجا، وغیرہ دیئے جانے لگتے ہیں جو مناسب نہیں ہے- جب بچہ بڑا ہونے لگتا ہے تو اسے ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ پروٹین مشتمل خوراک جس میں پھل وغیرہ شامل ہیں، اس کی بیماری کی  دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لئے دئے جانے چاہئے-"

مناسب صحت اور غذائیت سے بھرپور خوراک نمونيا مرض کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں- 'اكيوٹ رسپریٹري انپھكشن اٹلس ٢٠١٠' کے مطابق اس مرض کی صحیح روک تھام کے لئے بین الاقوامی برادری شامل طور پر پر عزم ہیں- نمونيا اور دیگر بیماریوں سے لڑنے کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے عالمی  صحت ادارہ ٦ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو اہمیت دیتا ہے، اور ٢ سال تک ماں کا دودھ اور دیگر غذائیت سے بھرپور خوراک دینے پر زور دیتا ہے- اس کے بعد بچے کو دیگر غذائیت سے بھرپور اور صحت مند خوراک دینا چاہیے- گزشتہ کچھ برسوں میں کھانے کے مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کم غذائیت کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے- حالانکہ ہماری حکومتیں  معاشرتی سطح پر روکنے کے لئے پابند ہیں، پھر بھی اس مضمون کو لکھتے وقت 'کھانے والے سامان' کی قیمتوں میں ٩.١٣ فیصد اضافہ ہیی ہے-

شوبھا شکلا - سی ئیں اس
(ترجمہ : ندیم سلمانی )

صرف ماں کا دودھ ہی نومولود بچے کی بہترین خوراک : اوپر کا دودھ نہیں
 
بچپن میں ہونے والی نمونيا بیماری کو روکنے میں ماں کے دودھ کا بہت اہم کردار ہے- دنیا بھر میں فی ٢٠ سیکنڈ میں ١ بچے کی موت نمونيا سے ہو رہی ہے- ہر سال  ١.٦ کروڑ بچوں کی موت نمونيا بیماری سے ہوتی ہے- موت کا یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی موت کا تقریبا ٢٠ فیصد ہے- ان میں سے (تقریبا ٩٨ فیصد) بچے جن کی موت نمونيا سے ہوتی ہے ترقی پذیر ممالک کے ہیں- ہندوستان سال میں ٤٠٠٠٠ سے زیادہ ٥ سال کی عمر سے کم کے بچوں کی موت نمونيا مرض سے متاثر ہو کر ہوتی ہے- صرف ماں کا دودھ ہی بچوں کو کئی قسم کی بیماریوں، بالخصوص نمونيا سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے- ماں کا دودھ ہی بچے کو کئی غذائی عناصر دیتا ہے ساتھ ہی اميونوگلوبن، دفاعی عناصر بھی دیتی ہے-  ان عناصر سے بچوں کو "وسننلي" متعلقہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت ملتی ہے- ان کی وجہ سے بچوں کی بیماری دفاعی صلاحیت بڑھتی ہے-

ماں کا دودھ نہ پینے والے بچے دودھ پینے والے بچوں کی توقع پانچ گنا زیادہ تعداد میں نمونيا مرض سے متاثر ہو کر موت کو حاصل کرتے ہیں- ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نمونيا پھیپھڑوں کے انفیکشن ہونے پر ہوتا ہے- نمونيا ہونے پر پھیپھڑوں میں مواد و بھر جاتا ہے جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے- اس سب کا سبب جراثیم متعلق انفیکشن ہوتا ہے (اگرچہ وائرس اور پھنگس) نمونيا مرض کے اصل سبب ہیں-  یہ مرض بچوں کی بڑھتی ہوتی ہوئی بیماریوں کی دفاعی صلاحیت کے کی غذائیت کی وجہ سے، آلودہ فضا کی وجہ سے، ایچ ائی وی سے موثر ہونے کی وجہ سے، ٹی بی کی وجہ سے، انپھلوينجا اور كھسرا مرض کی وجہ سے اور پیدائش کے وقت کم وزن کی وجہ سے کمزورپڑ جانے سے ہوتا ہے-

موجودہ وقت میں دنیا میں صرف ٣٨ فیصد بچے ہی ماں کا دودھ پیتے ہیں- ماں کا دودھ پلانے میں کئی رکاوٹیں ہیں جیسے وقت کی کمی، معاشرے اور ثقافتی بد علمی، بار- بار بچہ پیدا کرنا، اوپر کا ڈبے کا دودھ آسانی سے دستیاب ہونا اور ماں کے دودھ کے بارے میں علم کی کمی ہونا- نیلسن اسپتال کے اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر دنیش پانڈے کا کہنا ہے کہ "آج کل کی ماؤں میں' كاكٹیل پھيڈنگ' یعنی بچے کو بوتل کا دودھ پلانا بہت مشہورہے- خاص طور پر کام کرنے والی خواتین میں یہ بہت عام ہے- اسلئے ان کے بچے اوپر کا دودھ یا ڈبے کا دودھ پیتے ہیں-

نیلسن اسپتال لکھنؤ کے ناظم ڈاکٹر اجے مشر نے گزشتہ ٦ ماہ میں شدید نمونيا سے متاثر ٣٠ بچوں کا علاج کیا ہے- جب میں ستمبر ٢٠١١ میں ان کے اسپتال گئی تو پتہ چلا کہ ١٠ دن سے کم عمر کے بچے جو بچے نمونيا سے متاثر تھے، علاج کے لئے بھرتی کیا گیا تھا- ان نومولود بچوں کے علاوہ تھوڑے بڑے بچے بھی نمونيا کے علاج کے لئے بھرتی کئے گئے تھے-

ڈاکٹر امیتا پانڈے جو چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی میں نسوا ں مرض محکمہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کے ہسپتال میں بال نمونيا سے متاثرہ بڑی تعداد میں بچوں کا علاج ہوتا ہے- ان کا کہنا ہے کہ "ہم نسواں امراض کے ماہرین کو صرف ٤٨ گھنٹے یا ٧ دن کے پیدا ہونے والے نومولود بچوں کا جو نيونیٹل نمونيا سے متاثر ہوتے ہیں، علاج کرنا پڑتا ہے- بچپن میں نمونيا سے متاثر بچے کی موت میں ٥٠ فیصد مرتيدر' نيونیٹل نمونيا ' سے متاثر نومولود بچوں کی ہوتی ہے- مطالہ کرنے پر پایا گیا ہے کہ مردہ پیدا ہونے والے بچوں میں ٣٠ فیصد سے ٦٠ فیصد تک اور پیدائش کے ١ یا ٢  دن بعد مر جانے والے بچوں میں ٥٠ فیصد سے ٦٠ فیصد تک 'والينمونيا' سے متاثر تھے- یہ ان بچوں کی 'اتاپسي' (مرنے کے بعد چیر پھاڑ) کے ذریعہ معلوم پڑا-"

ماں کے دودھ  سے فوائد کی اہمیت کو بتاتے ہوئے ڈاکٹر امتا پانڈے نے بتایا کہ، "میں ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی ہوں- یہاں ہم لوگ صرف ماں کے دودھ  کو ہی نومولود بچوں کی مکمل غذا مانتے ہیں اور اسی بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ  ٦ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا ہی دودھ ہی دیا جانا چاہیے- اس کے علاوہ انہیں شکر، گراپ وا ٹر، شہد، ناریل پانی وغیرہ کچھ بھی نہیں دینا چاہیے- ہم ڈاکٹر زچگی کرانے کے ١٠ منٹ بعد ہی نومولود کو ماں کا دودھ پلاتے ہیں- ہم بچے کو اس کی 'نار' سمیت ماں کے پیٹ پر لٹا دیتے ہیں- میرے بچے کی اتنی جلدی ماں کا دودھ پینے سے ماں کے پیٹ سے پلیسینٹر اور جھلی باہر نکل آنے میں مدد ملتی ہے-"

ڈاکٹر اجے مشرا کا کہنا ہے ، "اگرچہ ما یں نومولود بچوں کو صرف اپنا دودھ پلانے  کے فوائد کو اچھی  طرح  سمجھتی ہیں-  لیکن وہ اپنی جسمانی خوبصورتی کو اتنا زیادہ اہمیت دیتی ہیں کہ وہ اپنا دودھ پلانے میں توقف کرتی ہیں- گاؤں میں ما یں بار- بار حاملہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو گائے کا دودھ پلاتی ہیں-"

ڈاکٹر امتا پانڈے کے مطابق "اقتصادی طور پر قابل امیرمعاشرے کی ماؤں کی توقع غریب مایں اپنے دودھ  کو ہی زیادہ ترجیح دیتی ہیں- اقتصادی طور پر خوشحال خاندان کی لڑکیوں کو مناسب مدت تک اپنا دودھ پلانے میں کئی مشکلات دکھائی پڑتی ہیں- کئی کام کاجی ماؤں کو زچگی کے کچھ ہی ہفتوں بعد اپنے بچے کو گھر پر کئی گھنٹوں تک چھوڑنا پڑتا ہے- اسلئے وہ یا تو بہت ہی جلد ہی اپنا دودھ پلانا بند کر دیتی ہیں یا بچے کو کم از کم ایک بار اوپر کا دودھ پلانا شروع کر دیتی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اگر بچے کو شروع سے ہی اوپر کا دودھ پینے کی عادت نہیں ڈالی جائے گی تو وہ بعد میں اوپر کا دودھ نہیں پینا چاہے گا - ایسی حالت میں ماؤں کو بڑا مسئلہ ہو جائے گا "

پہلی بار بنی ماؤں کا ماننا ہے کہ ان کے پستانوں میں ولادت کے کچھ دنوں بعد تک کافی مقدار میں دودھ نہیں اترتا ہے- لہذا  انہیں بچوں کو اوپر کا دودھ دینا پڑتا ہے- لیکن ڈاکٹر امیتا پانڈے اس بات کو پختہ یقین سے کہتی ہیں کہ ماں کے پستان سے زچگی کے بعد سے کچھ دنوں تک جو بھی درو مادہ (كو لیسٹرم) نکلتا ہے-  وہ نومولود کے غذائیت کے لئے کافی ہوتا ہے- بچہ دانی کے مکمل مدت پرپیدا ہونے والے بچے میں کافی مقدار میں 'گلاكوجن' پایا جاتا ہے جو اس کے لئے شروع کے 2 دنوں تک کافی خوراک کا کام کرتا ہے- اس کے علاوہ اگر بچے کو پیدا ہونے کے کچھ وقت کے بعد ماں کے پستان پر لگا دیا جاتا ہے تو ماں کے پستان سے دودھ اپنے آپ نکلنے لگتا ہے- یہ ایک قسم کی سايكلك عمل ہوتی ہے- اگر بچے کو ماں کے پستان پر لگا دیا جاتا ہے تو چكري عمل سے هارمونس نکلنے لگتے ہیں اور ماں کے پستان میں دودھ کی مقدار خود بڑھنے لگتی ہے- جتنا زیادہ بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اتنا ہی زیادہ دودھ پستان میں آتا رہتا ہے-

مثال کے طور پر محترمہ انو رادھا  جنہوں نے ایک بچے کو آپریشن کے ذریعے ایک ذاتی نر سنگ ہوم میں پیدا کیا بتایا کہ زچگی کے بعد ان کے پستانوں سے مائع نہیں نکلا - لہذا  ڈاکٹر نے انہیں اپنے نومولود کو اوپر کا دودھ ٢ دنوں کے لئے صاف کپ اور چمچے سے پلانے کا حکم دیا- بعد میں انہوں نے اپنے بچے کو اپنا دودھ پلانا  شروع کر دیا- اسی طرح ایک اور ماں بینا نے بتایا کہ انہوں نے بچے کو پیدا کرنے کے بعد  کے ١٢ دنوں بعد اپنے بچے کو اپنا دودھ پلانا  شروع کیا انہوں نے اپنی نومو لود بیٹی کو پانی بھی پلایا ساتھ میں دست کی بیماری نہ ہونے دینے کے لیے اسے دوائی بھی پلايي- وہ بچے کو دودھ کے ساتھ پانی پلانے کی وجہ سے ہونے والے خطروں سے ناواقف تھی-

اسلئے نو جوان لڑکیوں کو نومولود کو صرف اپنا دودھ پلانے کی ضرورت کو سمجھنے کے لئے اور بیدار بنانے کے لئے معاشرے اور اسپتال سطح پر زیادہ سے زیادہ اس موضوع پر پروگرام ہونے کی انتہائی ضرورت ہے- ڈاکٹروں کو انہیں نومولود بچوں کو ماں کے دودھ کے فوائد سے آگاہ کرانا چاہئے- عالمی صحت ادارہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ٦  ماہ کی عمر تک کے بچے کی مکمل خوراک صرف اور صرف ماں کا دودھ  ہی ہے اور ٢  سال کی عمر تک ماں کے دودھ  سے حاصل خوراک کے ساتھ دیگر آلات غذائیت سے بھرپور خوراک بھی بچے کو دینا چاہیے- حاملہ ماؤں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا دودھ ہی بچوں کے لئے نمونيا اور دیگر بیماریوں سے لڑنے کے لئے سب سے بڑے  ہتھیار کی طرح ہوتا ہے- انہیں معاشرے میں ماں کے دودھ  سے متعلق پھیلئ ہوئ غلط فہمیوں کے برعکس اس بات کو سمجھانا چاہیے کہ ٦  ماہ تک بچے کے جسم  کو صرف ماں کے دودھ کی ہی ضرورت ہوتی ہے ٦  ماہ تک ماں کا دودھ ہی ان  کی غذائیت سے بھرپور خوراک ہے-

شوبھا شکلا - سی این اس
(ترجمہ : ندیم سلمانی)

معاشرے میں نمونيا کے ٹیکے کے بارے میں علم

بازار میں نمونيا سے بچاؤ کے لئے ویکسین دستیاب تو ضرور ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں نہیں پتا ہے- اور یہاں تک کہ کچھ ڈاکٹر بھی اس سے نا معلوم ہیں- ایک مطالعہ کے مطابق بچے جنکے نمونيا سے بچاؤ کا ٹيكا نہیں لگتا ہے، ان میں نمونيا سے مرنے کا ٤٠ گنا زیادہ خطرہ رہتا ہے- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونیا سے بچاؤ کے لئے کئی طرح کے ٹیکے بنایں  ہیں پر یہ ایک بہت بڑی طنزاً ہے کہ معاشرے میں اس کے بارے میں معلومات کی کمی ہے-

تمام دنیا میں ہر سال تقریبا ١٨ لاکھ، پانچ سال سے کم عمر کے بچے نمونيا کی وجہ سے مرتے ہیں اور اگر یہی موجودہ دور جاری رہا تو ٢٠١٠ سے ٢٠١٥ کے درمیان ١٣.٢ ملین سے  زیادہ اموات اسکی وجہ سے ہوں گی- لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں میں نمونيا کے ٹیکے کے بارے میں بیداری بڑھاي جائے جس سے کہ ہر ماں باپ اپنے بچے کو وقت پر نمونيا سے بچاؤ کے ٹیکے لگوايے- ایک مطالعہ کے مطابق نمونيا سے بچاؤ کے لئے استعمال کئے جانے وا لے  'هيب' ٹیکے کے وسیع استعمال سے تقریبا چار لاکھ اموات کو روکا جا سکتا ہے-

عالمی صحت ادارہ  نے بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے دو طریقے کے ٹيكو کے استعمال کو قرار دیا ہے- پہلا ٹیکہ 'هيموپھيلس انپھلنجي ٹائپ بی' (هيب) اور دوسرا 'نموكوكل كنجو گیٹ ویکسین' (پيسيوي ١٣) کے نام سے جانا جاتا ہے- 'هيب' ٹیکا وسیع پیمانے پر تقریبا ١٣٦ ممالک میں دستیاب ہے جبکہ 'پيسيوي ١٣'  ٹیکا ہندوستان سمیت صرف ٣١  ممالک میں دستیاب ہے- 'هيب' ٹیکا، بچوں کو نمونيا سے بچانے میں اثردار ٹیکا ہے لیکن ترققی کر رہے ممالک میں ابھی کافی مقدار میں بچے اس  ٹیکے سے محروم ہیں- ایک تحقیق کے مطابق ٢٠٠٣ میں،  ترققی کر رہے ممالک  کے ٤٢٪ ٹیکے کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں ٩٢ ٪ بچوں نے 'هيب' ٹیکا حاصل کیا تھا-

بہرائچ ضلع اسپتال کے  اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر کے کے ورما کا کہنا ہے کہ "بازار میں نمونيا کا ٹیکا دستیاب تو ضرور ہے پر وہ بہت مہنگا ہے اس لیے سبھی لوگوں کا لگوا  پانا ممکن نہیں ہو پاتا ہے- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا سے متعلق  'انپھلونذا' ٹیکے کو تجویزدی ہے- جو چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو دو خوراک  ایک-ایک ماہ کے وقفے پر لگتی ہے-

نمونيا کے ویکسین کے بارے میں لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے جس کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں دکھانے آئی ، نمونيا سے تکلیف زدہ ڈھائی سال کے بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے کو ٹیکا  تو لگا تھا پر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کس چیز کا ٹیکا لگا تھا- نمونيا کے ٹیکے کا علم عام عوام میں ہی نہیں بلکہ کچھ ڈاکٹروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے- جس کا اندازہ ہم اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہر امراض نسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا کہنا ہے کہ "ہمارے یہاں تو ڈيپي ٹی کا ٹیکا لگتا ہے نمونيا کے لئے کوئی اور ٹیکا نہیں لگتا ہے ہمیں اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے-"

ایک طرف جہاں نمونيا تمام دنیا میں ہونے والی بچوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے اور عام انسان میں نمونيا کے بارے میں علم کی کمی ہے وہیں دوسری جانب یہ بڑی بدقسمتی کہ بات ہے کہ نمونيا ہندوستانی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے صحت پروگراموں کا حصہ نہیں ہے- لہذا حکومت کو نمونيا کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لئے قومی سطح کا پروگرام چلانا نہایت ضروری ہے- ڈاکٹر کے کے ورما کا کہنا ہے کہ عالمی صحت ادارہ کو بھی اپنی ہدایت لائن تبدیل کرنی چاہئے- نئے اور سستے ٹیکے کو اپنانا چاہئے جو سب کو مفت تقسیم کی جا سکے-

راہل کمار دویدی- سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی) 

اچھی غذائیت بچوں کو نمونيا سے بچاتی ہے

بچے جوناکافی غذانیت اور پیدائش سے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ نہیں پیتے ہیں، ان میں بیماری  سے لڑنے کی  صلاحیت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان میں نمونيا کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- لہذا بچوں کو نمونيا سے بچانے میں مناسب غذا اور ماں کے دودھ کا اہم کردار ہے-  تمام دنیا میں بچوں میں نمونيا سے ہونے والی کل اموات میں سے ٤٤% اموات ناقص غذایت کی  وجہ سے ہوتی ہیں-

عالمی صحت  ادارہ  کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ١٨  لاکھ بچوں کی موت نمونيا سے ہوتی ہیں-  یہ تعداد بچوں میں دیگر بیماریوں سے ہونے والی اموا ت سے کہیں زیادہ ہیں- نمونيا ایک قسم کا تیز سانس سے متعلق انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے-  جب کوئی صحت مند انسان سانس لیتا ہے تویہ جھللی  ہوا سے بھر جاتی ہیں-  لیکن نمونيا سے مصیبت ذدہ شخصیت میں یہ جھللی  مواد اور سیال سے بھر جاتی ہیں جس کی وجہ سے سانس   لینا مشکل اور تکلیفدہ ہو جاتا ہے اور جسم میں آکسیجن محدود مقدار میں پہنچ  نہیں پاتی ہے-

بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق "بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے پوری غذائیت بہت ضروری ہے- اس سے بچوں کے جسم کو مکمل طور پر ہر قسم کے وٹامن ملتے رہتے ہیں نتیجہ کے طور پر بچوں کا نمونيا سے بچاؤ ہوتا رہتا ہے- مکمل غذائیت کے لئے بچوں کو دال، چاول اور روٹی دیں، باہر کا 'ریڈی میڈبیبی فوڈ' جہاں تک ممکن ہو نہیں دینا چاہئے- باہری 'ریڈی میڈ بیبی فوڈ' بچے کی صحت کے لئے ایک خراب غذا ہے-

بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر پی کے مشرا کا ماننا ہے کہ 'بچے کے لئے زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک ماں کا دودھ سب سے مناسب غذا ہے اور جب بچہ چھ ماہ سے زیادہ کا ہو جائے تو دليا وغیرہ دیا جا سکتا ہے- بوتل کا دودھ بالکل ہی نہیں پلا یں یہ بچوں کے لئے مناسب غذا نہیں ہے- خواتین میں معلومات کی کمی ہے لہذا ضروری ہے کہ انہیں اطلاع دی جائے اگر وہ جانکار ہوں تو اچھے غذائیت کہ طریقہ اپنے آپ اپنا لیں گی-"

لکھنؤ میں ایک ذاتی شفاخانہ چلانے والی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر كمد انوپ  کے مطابق "ہاتھ کی صفائی بہت اہم ہے جس سے نمونيا اور دیگر کئی بیماریوں سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے- لہذا مناسب غذائیت اور صاف صفائی نہ صرف بچے کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہے بلکہ بچے کی جسمانی ترقی اوربیماری سے لڑنےکی  صلاحیت کو بھی بڑھانے میں کارگر ہے-  دال ، چاول ، روٹی اور سبزی سب سے اچّھی، سستی  اور بھرپور خوراک ہے جو کسی بھی طرح سے نقصان دہ نہیں ہے-"

ڈاکٹر ورما کے مطابق بھی بچوں کو نمونيا سے بچانے کے لئے صفائی بہت ضروری ہے-  لہذا بچے کو ٹھیک طرح سے ہاتھ دھونے کے بعد ہی چھونا چاہئے- بچوں کو کپڑے، دھلے اور ساف - ستھرے پہنانے چاہئے- بہتر ہوگا کہ کئی کپڑوں کا استعمال پہنانے کے لئے کریں،  اگر ایک - دو کپڑے ہی ہیں تو ہر بار کپڑے دھل کر ہی پہنا یں-

عالمی صحت ادارہ  کے مطابق بچوں کو نمونيا سے بچانے میں کافی مقدار میں غذائیت بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے-  بچوں کو شروع کے چھ مہینے تک مناسب مقدار میں غذا دینے کے لئے ماں کا دودھ کافی ہے-  یہ بچوں کے لئے ایک قدرتی حفاظت ہے جو کہ بچوں کو نہ صرف مکمل غذا مہیا کرتا ہے بلکہ ان میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت میں ترقی بھی کرتا ہے-

لہذا بچوں کو مناسب غذا اور مناسب ماحول فراہم کر کے ہم اسے نہ صرف نمونيا بلکہ دیگر کئی طرح کی خطرناک بیماریوں سے بچا سکتے ہیں- بچوں کو مناسب غذا دینے کے لئے اس کی زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ کافی ہے اور ٦  سے ٢٤  ماہ تک ماں کے دودھ کے ساتھ -ساتھ  دال ، چاول ، روٹی ، سبزی ، دليا اور دیگر اضافی خوراک دی جا سکتا ہے- لوگوں میں معلومات کی کمی ہے-  معاشرے میں بہت بڑی بیداری کی ضرورت ہے-  تبھی معاشرے میں لوگ مختلف قسم کے صحت مند طریقوں کو اپناكر، بچوں کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچانے میں کامیاب ہو پا یں گے-

راہل کمار دویدی - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھاتی ہے گھر کے اندر کی آلودگی

بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھانے میں گھر کے اندر کی آلودگی جیسے سگریٹ نوشی ، گھر میں لکڑی جلا کر یا گائے کے گوبر کو گرم کر کے کھانا پکانا وغیرہ اہم کردار اداکرتے ہیں- ایک مطالعہ کے مطابق ہر سال ٨٧١٥٠٠  بچے گھر کے اندر کی آلودگی سے ہونے والے نمونيا کی وجہ سے مرتے ہیں- عالمی صحت ادارہ  کے مطابق "ماحول سے متعلق آلودگی، جیسے کہ لکڑی اور گوبر کے کنڈے پر کھانا پکانا، یا دیگر نا میاتی ایندھن کا استعمال کرنا، گھر میں سگریٹ نوشی کرنا اور بھیڑبھرے مقام پر رہنا بھی بچوں میں نمونيا کے خطرے کو بڑھاتا ہے-" لہذا بچوں کو صاف ستھرے اور اچھے ماحول میں رکھنا چاہئے تاکہ ان میں نمونيا اور دیگر بیماریاں ہونے کا خطرہ کم سے کم ہو-

بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئرماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما کے مطابق 'گھر کے اندر کی آلودگی، جیسے بیڑی پینا، چولہے پر کھانا پکانا وغیرہ، اطفال میں نمونيا کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے- دیہات علاقوں میں انفیکشن پھیلنے کے اور بھی بہت سے وجوہات ہیں، جیسے گاؤں میں پاخانہ گھر کے اندر ہی کچی دیواروں کا بنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- لہذا پاخانہ گھر کے باہر بننا چاہئے اور پکی دیواروں کا بننا چاہئے- حکومت ہندوستان کی جانب سے پاخانہ بنانے کا جو پروگرام چلایا گیا ہے اسے لوگوں کو اپنانا چاہئے- دیہاتی گھروں کے بچے عام طور پر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں- ایسا نہیں کرنا چاہئے- گھر کی لپاي - پتاي ہونی چاہئے- گھر پکے اینٹ کا بنا ہونا چاہیے- جو شہری علاقوں کے لوگ ہیں ان میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے کیونکہ انہیں پاک پانی ملتا ہے جبکہ دیہاتی علاقوں میں پاک پانی دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے-"

لکھنؤ میں اپنا ذاتی شفاخانہ چلانے والی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ آلودگی کے لئے سگریٹ نوشی کو قصوروار مانتی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ "شہری ماحول میں سگریٹ نوشی گھر کے اندر کی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے- بچے جو بالواسطہ طور پر سگریٹ نوشی کا شکار ہو جاتے ہیں وہ ان کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہوتا ہے اور ان میں نمونيا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- سگریٹ نوشی نہ صرف نمونيا بلکہ دمہ اور دیگر کئی قسم کے انفیکشن کو دعوت دیتا ہے- لہذا بچوں کو بالواسطہ سگریٹ نوشی کے برے انجام سے بچانے کے لئے گھر کے اندر سگریٹ نوشی ممنوع  ہونا چاہئے- تبھی ہم بچوں میں نمونيا اور دیگر صحت سے متعلق بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکیں گے-"

  ڈاکٹروں میں بھی گھر کے اندر ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے انفیکشن کے بارے میں معلومات  کی کمی ہے- جس کا اندازہ  ہم اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ بہرائچ ضلع اسپتال کے ماہرامراض نسواں  ڈاکٹر پی کے مشرا گھر کے اندر کی آلودگی کو نمونيا کا سبب نہیں مانتے ہیں- ان کے مطابق "سگریٹ نوشی، تمباكو کے استعمال سے یا پھر گھر میں کھانا پکانے کے لئے انگیٹھی کے استعمال سے براہ راست طور پر نمونيا کے ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا ہے- پر بچے کو دھوئیں میں رکھنے سے گھٹن ہو سکتی ہے پر اس سے براہ راست طور پر کوئی بیماری ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا ہے-"

سگریٹ نوشی سے نمونيا کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہرائچ ضلع اسپتال میں علاج کرانے آئی نمونيا میں مبتلا  ڈھائی سال کے ایک بچے کی ماں نے بتایا کہ اس کے گھر میں کئی لوگ سگریٹ نوشی اور تمباكو کا استعمال کرتے ہیں اور گھر میں کھانا بھی چولہے پر پکایا جاتا ہے- ایک اور ماں، جس کا تین دنوں کا بچہ جو نمونيا سے مصیبت زدہ تھا، نے بتایا کہ اس کے گھر میں بھی چولہے پر کھانا پکایا جاتا ہے اور بچے کے والد بیڑی، سگریٹ اور گٹکھ کا استعمال کرتے ہیں-

بہتر صحت نگہداشت، مناسب غذا اور ماحولیات میں بہتر عناصر ہیں جو اطفال نمونيا کے واقعات کو کم کر سکتے ہیں- لہذا معاشرے میں لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ان عوامل کا کردار اہم ہے- حکومت کو بھی ان عوامل کو ذہن میں رکھ کر ہی صحت کے پروگرام پر عملدرآمد کرنا چاہئے- جب لوگوں کی زندگی بہتر ہو گی اور لوگ اچھی زندگی کے  طریقے اپنا یں گے تبھی نمونيا اور دیگر انفیکشن سے بچاؤ ممکن ہو پائے گا-

راہل کمار د ویدی - سی این ایس
(ترجمہ : ندیم سلمانی) 

وقت رہتے علاج بچا سکتا ہے نمونيا سے بچے کی جان

'انٹيبايوٹكس' نمونيا کے علاج کے لئے ایک قسم کی آب حیات دوا ہے جس کے وقت رہتے استعمال سے نمونيا سے نجاعت پایا جا سکتا ہے- پورے ہندوستان میں ہر سال تقریبا ٤٣ ملین لوگ نمونيا کے شکار ہوتے ہیں اور ١٠ لاکھ موتیں سانس سے متعلق انفیکشن سے ہوتی ہیں- جو کی پوری دنیا میں سانس سے متعلق انفیکشن سے ہونے والی اموات کا ٢٥ ٪ ہیں- عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا کے علاج کے لئے 'انٹيبايوٹكس' کے استعمال کو مقرر کیا ہے- یہ انٹيبايوٹكس سرکاری اور غیرسرکاری صحت مراکز پر آسانی سے دستیاب ہیں پھر بھی پوری دنیا میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ١٦ لاکھ بچے نمونيا سے مرتے ہیں جو کی بچوں میں دیگر کسی بھی بیماری سے ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں-

اتر پردیش کے مختلف سرکاری اور غیرسرکاری ڈاکٹروں کا یہ ماننا ہے کہ معاشرے میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے- اگر صحیح طریقے سے لوگوں کو کسی بھی بیماری سے آگاہ کیا جائے اور وقت- وقت پر بچوں کی صحت کی جانچ کرانے کے لئے تیار کیا جائے تو پوری دنیا میں ہونے والی بچوں کی موتوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے- نمونيا جیسی بیماری سے نجاعت پانے کے لئے وقت رہتے انٹيبايوٹكس کا استعمال بہت ہی ضروری ہے- لہذا ماوں کو بچے کی صحت کے بارے میں بہت ہی خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور ذرا سا بھی شک ہونے پر جلد سے جلد کسی ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے-

نمونيا جیسی  بیماری سے نجاعت  پانے کے لئے شروعاتی علامات کو پہچان كر جلد سے جلد انٹيبايوٹكس دواؤں کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں ٢٠ ٪  ہی بچوں کی پرورش کرنے والے نمونيا کی شناخت کر پاتے ہیں جن میں  سے صرف ٥٤٪ ہی عمل کرتے ہوئے بچوں کو وقت سے ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے ہیں-
عالمی صحت ادارہ نے بھی نمونيا کے علاج کے لئے معیار بناے ہیں- بہرائچ ضلع اسپتال کے سینئر ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کے. کے. ورما نے بتایا کہ عالمی صحت ادارہ کی طرف سے نمونيا کے علاج کے لئے معیار طے کیا گیا ہے- 'سپٹران سيرپ' اور 'سپٹران ٹیبلیٹ' آتی ہے جو سارے سرکاری اسپتالوں میں مفت میں دستیاب کرائی جاتی ہے- ڈاکٹر کے کے ورما کا یہ بھی ماننا ہے کہ "سرکاری اسپتال کہ مقابلے میں غیرسرکاری ہسپتالوں میں دستیاب علاج میں بہت فرق ہوتا ہے- سرکاری اسپتالوں میں محدود دوائیں آتی ہیں اور وہی سب کو دی جاتی ہیں-  لیکن غیرسرکاری ہسپتالوں میں کئی طرح کی دوائیں دی جاتی ہیں کون سی دوا ضروری ہے اور کون سی نہیں ہے یہ سب جانچ پرکھ کر دوائیں دی جاتی ہیں"  ڈاکٹر ورما کا کہنا ہے کہ عالمی صحت ادارہ کو اپنی گائیڈ لائن تبدیل کرنی چاہئے- وہی پرانا نظام چلا آ رہا ہے اسے بدل کر نیا شروع کرنا چاہئے- نئی دواؤں اور نئے ٹیکوں کو اپنانا چاہیے"

لکھنؤ میں ایک ذاتی شفاخانے کو چلانے والی ماہر امراض اطفال ڈاکٹر كمد انوپ کہتی ہیں کہ "نمونيا سے بچنے کے لئے وقت رہتے علاج بہت ہی ضروری ہے- لہذا جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی بچے کو اسپتال میں دکھانا چاہئے- گاؤں میں اکثرلوگ ہفتہ ١٠ دن تک انتظار کرتے رہتے ہیں اور جب بچے کی حالت نازک ہو جاتی ہے تب اسپتال میں دکھانے آتے ہیں- لہذا معاشرے میں ایک بڑی بیداری ہے"

واضح ہے کی نمونيا جیسی بیماری سے بچاؤ کے لئے انٹيبايوٹكس آب حیات کی طرح کارگر ہیں لیکن وقت رہتے نمونيا جیسی جان لیوا بیماری کی علامت کو پہچان پانا اور مناسب انٹيبايوٹكس کا استعمال کرتے ہوئے علاج کر پانا معاشرے میں آج بھی ایک کڑی چنوتی کی شکل میں موجود  ہے جسے رد نہیں کیا جا سکتا- لہذا حکومت کو بھی اس سمت میں نظر ڈالتے ہوئے جلد سے جلد نمونیا کے لیے پروگراموں کی شروعات کرنی ہوگی-

راہل کمار دویدی- سی این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

گھرکے اندر کی آلودگی اور بچوں میں نمونيا

گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پھیپھڑوں کو ہونے والے نقصان کے بارے میں سبھی جانتے ہیں، لیکن یہ دھواں حمل میں پل رہے بچے کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہوتا ہے- اسی طرح گھر کے اندر کی  آلودگی سے بھی بچوں میں کئی جان لیوا بیماریاں ہوتی ہیں- جو کہ کھانا بنانے والی انگيٹھي، مٹی کے تیل کے چولہے، كنڈا یا پھر والدین کے سگریٹ، بیڑی، نوشی وغیرہ سے ہوتی ہے- جس میں وہ بچہ بالواسطہ طور پر دھوئیں کو اپنے اندر سانس کے ساتھ لیتا ہے- ان سب کی وجہ سے بچوں میں کئی بماریاں گھر کر جاتی ہیں جن میں سے نمونيا ایک ہے-

یش اسپتال کی مشہور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رتو گرگ کہتی ہیں کہ گھر کے اندر باورچی خانے کا دھواں، موسم بدلنے کی وجہ سے گھر میں پھیل جاتا ہے، جسے بچہ اپنی سانس کے ساتھ لیتا ہے- سوتے وقت بچے کے اوپر ہلکا کپڑا ڈال کر اس دھویں سے بچایا جا سکتا ہے- لیکن جو سب سے تشویش کی بات ہے وہ ہے والدین یا باپ کا سگریٹ یا بیڑی نوشی کرنا- بالواسطہ تمباکو نوشی کا بچے کی صحت پر ١٠٠٪ اثر پڑتا ہے کیونکہ سگریٹ بیڑی کا دھواں ہلکا ہوتا ہے اور آسانی سے بچوں کے پھیپھڑوں میں سانس کے ساتھ چلا جاتا ہے، جو نمونيا کی سب سے بڑی وجہ ہے-

اس کی سب سے بڑی مثال ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملی جب ایک تعلیم یافتہ والدین منندر ناتھ اور پربھا آنند نے ہمیں بتایا کہ ان کے بچے کو نمونيا ہوا تھا پر اس کے بعد بھی انہوں نے سگریٹ سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں مزید توجہ نہیں دی- جبکہ ان کا بچہ ایک 'پری میچيور' بچہ تھا-

'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی گولڈ میڈيلسٹ ڈاکٹر ندھی جوہری کا ماننا ہے کہ گھر کے آس پاس ہونے والی تعمیر سے دھول  بچے کے سانس کے ساتھ سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے سیدھے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں جو پہلے دمہ (استھما) پھر بعد میں نمونيا میں تبدیل ہو جاتا ہے- گھر کے اندر ماں یا باپ کے بیڑی یا سگریٹ کے استعمال کو بھی وہ ٤٠ ٪ تک وجہ مانتی ہیں-
اسی 'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے گولڈ میڈلسٹ اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اجے کمار کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی ہر طرح سے خطرناک ہے خاص طور پر سانس کی بیماری میں، جسکے سب سے بڑے شکار بچے ہوتے ہیں جن کی دفاعی صلاحیت کم ہوتی ہے- اس کا سیدھا اثر بچوں کے پھیپھڑوں پر پڑتا ہے- پھیپھڑوں کی دفاعی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور پھیپھڑے عام جراثیم کو بھی اپنی طرف دعوت دینے لگتے ہیں- ایک طرح سے بیماریوں سے لڑنے کی جو ڈھال ہے وہ کمزور ہو جاتی ہے- جس کی  وجہ سے کوئی بھی نمونيا کا جراثیم جسم میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہے- اور نمونيا مرض پھیلا دیتا ہے-

بچوں میں نمونيا کا ایک اہم سبب ہے گھر کے اندر جلنے والا  چولہا- فضائی آلودگی سے بچوں کے پھیپھڑوں میں سیدھا اثر ہوتا ہے- اگر انگيٹھي، اسٹوو گھر سے باہر جلایا جائے تو بچوں کو بچایا جا سکتا ہے- سگریٹ سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں ڈاکٹر اجے کمار کہتے ہیں کہ والدین کے سگریٹ  نوشی سے جو دھواں پھیلتا ہے وہ بچوں کے پھیپھڑوں پرسیدھا اثر کرتا ہے- اگر ماں باپ سگریٹ پینا نہیں چھوڑ سکتے ہیں تو کم سے کم گھر کے باہر پئیں اور اس کی سزا اپنے بچوں کو نہ دیں-

ایسا ہی واتسلي کلینک کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سنتوش رائے کا کہنا ہے کہ بیڑی، سگریٹ سے بچوں میں الرجی ہو جاتی ہے، جس سے ان کی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، اس میں پھیپھڑوں کی الرجی سربراہ ہے- گھر کے اندر کے آلودگی کے بارے  میں ڈاکٹر سنتوش رائے کہتے ہیں کہ گھر کے اندر جلنے والے 'کوئل' بھی آلودگی کی اہم وجہ ہے- سگریٹ بھی بچوں میں پھیپھڑوں کے مرض کی ایک اہم وجہ ہے-

فضائی آلودگی کے سربراہ وجہ گھر میں جلنے والی انگيٹھي، چولہے وغیرہ ہیں، جو پھیپھڑوں میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں جس سے نمونيا ہونے کا خطرہ رہتا ہے- ان سے بچا جا سکتا ہے اگر کھانا گھر سے باہر بنایا جائے یا گیس کا استمال کیا جا یے-

انہی سب باتوں کو ذهن میں رکھتے ہوئے معاشرے میں آلودگی کو کم کرنے کا پیغام جانا چاہئے اور ہم سب اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں-

نیرج مینالي- سی این ایس  
(ترجمہ: ندیم سلمانی)   

بچے کی زندگی کے پہلے ٦ ماہ ماں کا دودھ : واحد محفوظ راستہ

موسم کے کروٹ بدلتے ہی بیماریوں کے آثار بڑھ جاتے ہیں- سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملتا ہے، بچوں پر- وجہ، بچوں کی بیماری دفاعی صلاحیت بڑوں کے مقابلے کم ہوتی ہے- نمونيا ایک ایسا مرض ہے جو چھوٹے بچوں میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے- لاکھوں بچے اس مرض کا شکار ہوتے ہیں- پوری دنیا میں ٥ سال سے کم عمر کے تقریبا  ١٦ لاکھ بچے اس خطرناک بیماری سے ہر سال مرتے ہیں- اگر کچھ باتوں کا خیال رکھا جائے تو اس بیماری پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے-

'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹراجے کمار کے مطابق بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے سے ہی واحد ماں کا دودھ پلانا چاہئے جو بچے کو نمونيا کے ساتھ-ساتھ کئی دیگر بماريو سے بھی بچاتا ہے- مگر آج معاشرے میں اس کو لے کر ماوں میں کئی غلط فہمیاں ہیں جیسے کم دودھ ہونا، جبکہ شروع میں کم دودھ آنا ایک عام بات ہے جسے كولسٹرم کہتے ہیں جو کہ ایک چپچپا مادہ ہوتا ہے، لیکن اگر بچے کو دودھ پلایا جائے تو کچھ ہی وقت میں یہ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، جسے اکثر مایں سمجھتی ہیں کہ یہ دودھ نہیں ہے، لیکن ایسا نہیں ہے-

كولسٹرم بچے میں دفاعی صلاحیت بڑھاتا ہے اسی 'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹرندھی جوہری کا بھی یہی ماننا ہے کہ ماں کا دودھ مکمّل طور پر محفوظ اور صاف طریقہ ہے بچے کو بیماری سے بچانے کا-  ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں کئی مایں دودھ پلانے سے كتراتي ہیں، جیسے کہ وہ کہتی ہیں کہ دودھ نہیں ہو رہا ہے، کمر میں تکلیف ہے، کام پر جلدی جانا پڑتا ہے وغیرہ- ڈاکٹر ندھی جوہری کا بھی یہی کہنا ہے کوئی بھی دودھ جو ہم جسم کے باہر سے پلاتے ہیں اس کو انفیکشن سے الگ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، جو نمونيا کی ایک وجہ ہے-

یش اسپتال کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رتو گرگ بھی اپنے یہاں آنے والی ماوں کو بھی اپنا دودھ پلانے کا مشورہ دیتی ہیں- مگر کئی بار مایں اپنا دودھ پلانے میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ انہیں عالمی صحت ادارہ  کی طرف سے مقرر لیكٹوجن نمبر ٠-١ یا ٢ کا مشورہ دیتی ہیں ساتھ-ساتھ یہ بھی مشورہ دیتی ہیں کہ دودھ کی بوتل، كٹوري-چمچے کا مکمل طور پر انفیکشن سے دور ہونا بہت ضروری ہے  ٥ ماہ کے بعد وہ دال، چاول کا پانی اور پھلوں کے رس پلانے پر بھی زور دیتی ہیں-

واتسلي کلینک کے معروف اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر سنتوش رائے کا کہنا ہے کہ ماں کے دودھ  سے بہتر کوئی دوسری چیز نہیں ہے یہ نومولود بچے میں کئی انٹي با ڈيزکی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جو کسی بھی دوسرے دودھ سے نہیں مل سکتا ہے- ڈاکٹر سنتوش رائے کا ماننا ہے کہ بوتل سے دودھ پلانے میں یہ بچے کی سانس کی نالی اور پھیپھڑے میں کئی خرابیاں پیدا کر دیتے ہیں جس سے نمونيا ہو سکتا ہے- اور اوپر کے دودھ سے ہم بچے کے اندر کئی انفیکشن کے راستے کھول دیتے ہیں-

تمام ماہرین کی یہ رائے آتی ہے کہ واحد ماں کے دودھ سے محفوظ کوئی دوسری چیز نہیں ہے-

نیرج مینالي-سی این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی)

بچوں میں نمونيا سے بچاؤ کے لئے صحیح غذا اور صفائی ضروری

کسی بھی شخص کو زندہ رہنے کے لئے بھرپور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے- کوئی بھی شخص اگر اپنے بچوں کو چست و تدروست رکھنا  چاہتا ہے تو اسے اپنے بچوں کو صحیح مقدار میں صاف و بھرپور غذا دینا چاہئے- اگر کھانا صاف اور بھرپورغذا میں نہیں ہے تو فائدہ نہ کرکے نقصان پہنچاتا  ہے اور جسمانی صلاحیت کو بھی کم کرتا ہے، نتیجے کے طور پر کئی خطرناک بیماریاں ہو جاتی ہیں- جس میں سے نمونيا سربراہ ہے-

  سنیچر ١٢ نومبر کو عالمی نمونيا دن کے موقع پر واتسلي کلینک کے معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سنتوش رائے نے ہمیں بتایا کہ بچوں کو اچھی غذا دینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک اچھی غذا میں کئی طرح کے انٹی با ڈیز، وٹامنس جیسے وٹامن- 'سی' ہوتی ہے جو ایک 'انٹی آكسيڈنٹ' کی طرح کام کرتی ہے اور جسم کی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتی ہے، جو بچوں کو جلدی- جلدی بیمار ہونے سے بچاتی ہے- ناکافی غذایت کے شکار بچوں کو ان بچوں کے مقابلے میں جو صاف اور بھرپور غذا لیتے ہیں انفیکشن زیادہ ہوتا ہے -


ڈاکٹر سنتوش رائے 'جنك فوڈ' کو آج کے ماحول میں خطرناک سمجھتے ہیں، صفائی کا کردار کو بہت ضروری مانتے ہوئے ڈاکٹر رائے بتاتے ہیں کہ پیٹ کی بیماری ہی نہیں 'وایرل نمونيا' بھی صفائی کی کمی سے ہو سکتا ہے، جس میں ماں والد یا گھر کے دیگر افراد کے ہاتھوں یا برتن اور دودھ کی بوتل وغیرہ کا صاف نہ رکھنا عام طور پر پایا گیا ہے-
---------------------
بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی بہترین
---------------------
'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کے بچوں کی بیماری کے ماہر ڈاکٹر اجے کمار کا کہنا ہے کہ بچے کو ٦ ماہ کے بعد ماں کے دودھ  پر ہی نہ رکھیں بلکی معقول غذا دیں جس کا مہنگا ہونا ضروری نہیں- یہاں پر بھی ڈاکٹر اجے کمار 'فاسٹ فوڈ' اور 'جنك فوڈ' کا ذکر کرتے ہوئے اس کو بچوں کو نہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں اور خاص بات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی بہترین ہے نہ کہ گائے، بھینس یا ڈبے کا- کیونکہ گائے یا بھینس کا دودھ گائے یا بھینس کے بچے کے لئے بہترین ہو سکتا ہے نہ کہ انسان کے بچے کے لئے- صفائی پر ان کی بھی ایک ہی راے ہے کہ صاف جسم ہی بچے کو نمونيا اور دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے-


یش اسپتال کی مشہور ماہر امراض اطفال  ڈاکٹر رتو گرگ بھی مانتی ہیں کہ اچھے کھانے کا مہنگا ہونا کوئی ضروری نہیں ہے پر ان کا ضروری عناصر سے بھرپور ہونا انتہائی ضروری ہے- ہاتھوں کے دھونے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر مایں بچوں کوکھانا کھلانے، دودھ پلانے سے پہلے ہاتھوں کو نہیں دھوتی ہیں جسسے یہ گندگی بچے کو شکار کر سکتی ہے اور اس سے نمونيا اور دیگر کئی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ رہتا ہے-

 'هوپ مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر' کی نسواں امراض کی ماہر(گولڈ میڈلسٹ) ڈاکٹر ندھی جوہری کہتی ہیں اچھی غذا تو اہم ہے ہی پر اس کا صاف ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے- اکثر گھر میں ماوں کو مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سے بھی اکثر بچے غذایت کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں- موسم کے پھل اور سبزی سے اچھی غذا کوئی دوسری نہیں ہے- کئی بار مریض انہیں 'پروٹین سیرپ' نسخے میں لکھنے کے لیے کہتے ہیں، پر وہ موسمی پھل اور سبزی کو ہی ترجیح دیتی ہیں-

 صفائی پر وہ کہتی ہیں کہ ساری بیماری صفائی کی کمی سے ہی شروع ہوتی ہیں- وہ اپنے ہسپتال میں آنے والی ماوں کو صفائی، خاص طور پر ہاتھوں کو اور بچوں کی دودھ کی بوتل، نپل وغیرہ کو کیسے صاف رکھیں، کا خصوصی علم دیتی ہیں- لیکن ایسا بھی پایا گیا ہے کہ مکمل علم و صفائی کے باوجود بھی نمونيا بیماری بچے کو ہو سکتی ہے، جیسے کہ آشیش نگم اور سنگيتا نگم کے بچے کو پیدائش سے ٥ ماہ کے  اندر ہی نمونيا ہو گیا تھا-

 لہذا قدرتی چیزوں اور صفائی سے جتنے قریب رہیں گے، اتنی ہی صحت مند زندگی کی تعمیر کر سکیں گے-

نیرج مینالي - سی  این ایس
(ترجمہ: ندیم سلمانی) 

چمتکاری دوا کے ذریعہ نمونيا کا علاج

نمونيا نچلی سانس کی نلی کے انفیکشن کا ایک سنگین قسم ہے، جو خاص طور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے- بچوں کی موت کی یہ ایک اہم وجہ ہے اور دنیا بھر کے ٢٠ فیصد بچوں کی موت کے لئے ذمہ دار ہے- نمونيا کی وجہ سے ہونے والی موت کو کم کرنے کا بہترین طریقہ وقت سے دیا گیا مؤثرعلاج  ہے- نمونيا سے متاثر بچوں کو  بیماری سے لڑنے والی دواؤں، جنہیں اجوبی دوا کے نام سے جانا جاتا ہے، سے فوری علاج کرنے پر موت کے امکانات کافی کم کیے جا سکتے ہیں- نمونيا سے گرست بچوں کو عالمی ستہ پر اگر انٹی با یوٹیک(Antibiotic) دواییں دستیاب کی جاتی تو ہر سال تقریبا ٦ لاکھ زندگی بچائے جا سکتیں ہیں- نمونيا سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لئے اگر روک تھام اور دواییں دونوں عالمی سطح پرکیا جاتا تو یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ یعنی تقریبا ١.٣ ملین ہوتی-

یہ بیماری، جس میں ایک یا دونوں پھیپھڑوں میں مواد اور مائع البويلاي (Alveoli) تک بھر جاتا ہے، کو طے کرنے کیلئے سینے (چھاتی) کا ایکس- رے اور میں جانچ کی جاتی ہے- یہ بیماری سانس لینے کے  کام کو متاثر کرتی ہے، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے- لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے نمونيا کے معاملات کو ان کے طبی علامات جیسے تیز یا پریشانی سے سانس لینا، کھانسی، بخار وغیرہ کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے- نومولود ماں کا دودھ پینا چھوڑسکتے ہیں اور بےهوشي، هائی پوتھرميا اور دورے کی شکایات ہو سکتی ہیں- پس بچوں میں نمونيا کی علامات نشاندہی اور مناسب طبی سہولت کی فراہمی میں دیکھ بھال کرنے والوں کا ضروری حصہ ہوتا ہے-

نمونيا کے کم سنگین مریضوں کا علاج مناسب دواؤں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے- سنگین نمونيا کے معاملات کو بنا دیری کے انجکشن کے ذریعہ انٹيبايوٹكس اور اگر ضروری ہو تو آکسیجن دینے کے لئے ہسپتال بھیج دینا چاہئے-
نمونيا سے متاثرہ پانچ سال تک کے بچوں میں اموات کم کرنے کے لئے تین ضروری چیزیں ہیں:
١. نمونيا سے متاثر بچوں کی شناخت،
٢. اسپتال - صحت مرکز- ماں اور اطفال صحت مرکز میں مناسب طبی سہولت حاصل کرانا، اور
٣. ڈاکٹر کی جانب سے بتایا گیا علاج حاصل کرنا- ترقی پسند ممالک میں تقریبا ٢٠ فیصد دیکھ بھال کرنے والے ہی بیماری کی علامات پہچانتے ہیں، اور ان میں سے صرف ٥٤ فیصد بچوں کو علاج دستیاب کروا پاتے ہیں-
غریب بچوں کے مقابلے میں شہر اور تعلیم یافتہ خاندانوں کے بچوں کو مناسب طبی سہولت زیادہ مل پاتی ہے اور اقتصادی کمی سے جوجھتے ہوئے ٦٨ ملکوں میں تقریبا ٣٣  فیصد نمونيا سے متاثر بچے انٹيبايوٹك کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں-
نمونيا / سپسس (sepsis) کی علامات والے دو ماہ تک کے بچوں میں دیگر بچوں کی توقع سنگین بیماری اور موت کے امکانات کا زیادہ خطرہ رہتا ہے- لہذا ایسے بچوں کو بنا دیری کے علاج لئے کسی اسپتال میں بھیج دینا چاہیے- مقامی دستیاب طبی کی بنیاد پر علاج  کا طریقہ منتخب کیا جانا چاہئے- مرض دافع کے لیے کچھ مقامات پر دفاعی صلاحیت کی سطح زیادہ ہو سکتی ہے جس سے نمونيا کے علاج کے لئے وہ دوا ین کم مؤثر ہو سکتی ہیں- دوسری جگہ میں زیادہ خطرے والے طبقے، جیسے غذائیت کی کمی  یا اچ آ ئی وي سے متاثر بچے زیادہ تعداد میں ہو سکتے ہیں، جس کے مطابق ہی ان کا علاج کا انتخاب کیا جا سکتا ہے-

  اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اس كے سهتا واضح کرتے ہیں، ''حکومت ہند اور عالمی صحت ادارہ (WHO) نے نمونيا کی شناخت کے لئے آسان طریقے مہیا کیے ہیں، جس سے گاؤں میں بھی، جہاں ڈاکٹر کی دستیابی نہیں ہے، ایک ان پڑھ بھی بیماری کی شناخت کر سکے-  عالمی صحت ادارہ کے ذریعے خصوصاً تین قسم کے نمونيا کو درج کیا گیا ہے-
١. نمونيا نہ ہونا،
٢. نمونيا جس کا علاج سپٹران ہے اور
٣. سنگین نمونيا - اس معاملہ میں حکومت ہند کی طرف سے منظور کیا گیا ہے کہ اگر آدمی جانکار ہے تو مریض کو امپيسلين جنٹاماسین دیا جانا چاہیے اور مریض کو ڈاکٹرکے پاس بھیجنا چاہیے-''

لکھنؤ کے اطفال اور دل کے امراض کے ماہرڈاکٹر اس این رستوگي کا ماننا ہے - ''بیماری کا علاج جراثیم پر انحصار کرتا ہے- اس طرح علاج میں تبدیلی ہو جاتی ہے- ہندوستان میں سب سے زیادہ ہونے والا نمونيا ٹيوبركولر (tubercular) نمونيا ہے. نمونيا کی طبی کے لئے سٹرےپٹوماسن دیا جا سکتا ہے. ''

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا، جنہوں نے کئی برسوں تک مشہور اسپتالوں اور لکھنؤ اور دہلی کے غیر سرکاری ہسپتالوں میں کام کیا ہے، کہتے ہیں، ''سرکاری اسپتالوں میں ہندوستان کی حکومت کی سفارشات پرعمل ہو رہا ہے- ہندوستان کی حکومت اور عالمی صحت ادارہ نے معاشرے پر زیادہ توجہ دی ہے- پس 'سپٹرآ ن' نمونيا کے علاج کے لئے کافی اچھی اور سستی دوا ہے اور دیہاتی علاقوں میں حکومت ہند کی طرف سے موجود ہے- جو بھی ہو ذاتی سیکٹر میں دلچشپی زیادہ ضروری ہوتی ہے اور ہم سیپٹران کے لئے اوپر مزاحمت دیکھ رہے ہیں- اس لئے ہم تیز دافع دینے کا انتخاب کرتے ہیں-''

  ماہر امراض اطفال ڈاکٹر نیلم سنگھ ، جو 'واتسلي ريسورس سینٹر آن ہیلتھ' کی اہم كاريدايي بھی ہیں، کے مطابق کئی ریاستوں میں بچوں میں سنگین "سانس کی نلی کے انفیکشن کا علاج جامع اطفال تحفظ پروگرام کا حصہ ہے- پھر بھی نمونيا کے دفاع کے لئے ضروری آگاہی کا فقدان ہے- ابھی بھی اس معاملے  میں بیداری کے لئے خصوصی پروگراموں  کی ضرورت ہے- دست کے بعد بچوں میں نمونيا سب سے خطرناک بیماری ہے- سرکاری اور غیرسرکاری اسپتالوں میں ہونے والے علاج میں تبدیلی کے لئے وقت، مشورہ، طبی، علاج میں ہونے والا خرچ اور دیگر وجہ سے ذمہ دار ہیں- اس علاقے میں حکومت کی جانب سے کافی ترقی کی گئی ہے اور اب یہ علاج سرکاری اسپتالوں میں بھی دستیاب ہے پھر بھی سرکاری عام سرکاری طبی نظام میں مریضوں کی مقدار، ماہرین کی کمی کا، وسائل کی کمی اور دواؤں کا دستیاب نہ ہونا وغیرہ کئی وجوہات ہیں، جس پر غور ہونا چاہیے-

چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے اطفال مرض محکمہ میں علاج کرا رہے ٣ سال کے اتھرو، جس  سے میں اکتوبر٢٠١١ کے پہلے ہفتے میں ملی، کی کہانی بچوں میں نمونيا کے مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہونے والے مہلک نتائج کی مثال ہے- نمونيا کے پہلے ہی علامات میں اس کے سرپرستوں نے فوری طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں میڈیکل حاصل کروایی، لیکن اتھرو کی حالت بگڑنے پر وہ ایک نرسنگ ہوم سے دوسرے میں دوڑتے رہے- انہیں لگا کہ ڈاکٹر ان سے مالی فوائد حاصل کرنے میں زیادہ مشغول تھے- آخر میں وہ اسے چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی جو ایک سرکاری اسپتال ہے، میں چار اگست کو لائے- آخر میں بازار میں دستیاب دواییں بچے کو دی گیں اور اس کی حالت میں سدھار ہوا
ہندوستان میں ہم لوگ سرکاری صحت کے نظام کو کس طرح کم تر سمجھتے ہیں، اس حقیقت کی یہ ایک مثال ہے- چلی آ رہی خامیوں کے باوجود بھی سرکاری ہیلتھ مشینری سنگین بیماری کے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

بچوں میں نمونيا کے دفاع اور علاج کو فروغ دینے کے مقصد سے ٢٠٠٩ میں 'دی گلوبل ایکشن پلان فار دی پريوےنسن اینڈ کنٹرول آف نمونيا' (GAPP) قائم کی گئی- چلو ہم سب مل كر ہر بیمار بچے کی صحیح دیکھ بھال اور نمونيا کے علاج کے لئے تیاری کریں-

سوميا اروڑا - سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی، لکھنؤ)

خطرناک نمونيا سے بچاؤ کے لئے محافظ ٹیکے

نمونيا جیسی بیماریوں سے ہر سال لاکھوں بچے موثر ہوتے ہیں جب کہ ان بیماریوں کو دستیاب ٹيكو کے ذریعے روکا جا سکتا ہے- نمونيا 5 سال تک کے بچوں کی موت کی ایک وجہ ہے- اس کی وجہ سے تقریبا ١٥ لاکھ بچوں کی ہرسال موت ہو جاتی ہے- اگرچہ نمونيا ٥ سال سے کم عمر کے بچوں کی موت کا ٢٠ فیصد سبب ہے، پر بدقسمتی سے پوری دنیا میں صحت کے کل خرچ کا صرف ٥ فیصد ہی نمونيا کے لئے خرچ کیا جاتا ہے- 'سٹرپٹوكوكس نموني' 'هيموپھيلس انپھلونجي' جو نمونيا پیدا کرنے کے لئے اہم جراثیم ہیں، کی روک تھام کے لئے ٹیکے دستیاب ہیں اور کئی ملکوں میں استعمال میں لائے جا رہے ہیں، لیکن ہندوستان جیسے ملک جو کہ پوری دنیا کے بچپن میں ہونے والا نمونيا کے ٤٠ فیصد معاملے کے لئے ذمہ دار ہیں، میں اس ٹیکے کا استعمال بہت کم ہو رہا ہے- اگر یہ ٹیکہ (ویکسین) ترقی یافتہ ملک میں دستیاب ہوں اور استعمال میں لائے جائیں تو ایک اندازے کے مطابق ٥ سال سے کم تقریبا ١٠  لاکھ بچوں کی جان ہر سال بچائی جا سکتی ہے-

ٹيكا بچوں کو نمونيا سے بچاتا ہے- یہ کمزوری پیدا کرنے والی بیماری ہے جس وجہ سے اکثر بہت پرانے سانس سے متعلق امراض اور سپٹيسيميا جیسے پیچیدہ اور خطرناک نتیجے ہو سکتے ہیں- تمام بچوں کو اس سے بچنے کا حق ہے- عالمی  صحت ادارہ کا نومولود بچوں کے ٹيكا لگانے کا پروگرام بچوں کو پہلے ٦  ماہ تک کی مدت تک 'هب' اور 'نموكوكل كانجوگیٹ ویکسین' کی تین خوراک دی جانے کی سفارش کرتا ہے- اس وقت پيسيوي کچھ ہی ممالک میں دستیاب ہے جبکہ هب ٹيكا کئی ممالک کے ٹيكا پروگرام کا حصہ ہے-

نموكوكل ویكسينس اكسيلریٹ ڈیولپمنٹ اینڈ انٹروڈكشن پلان، ممالک عطیہ، تعلیمی، انتردیشيي تنظیم اور صنعت کے درمیان مشترکہ کی طرف سے کم آمدنی کے طبقے کے ممالک میں نموكوكل ٹیکے کو فروغ دینے کے لئے ''گلوبل الانس فار ویکسین اینڈ امونائجیشن (GAVI)'' کے ذریعہ مدد حاصل ایک منصوبہ ہے- اس کو ابھی نافذ کئے جانے پر ٢٠٣٠ تک متوقع ٥٤ لاکھ بچوں کی موت کو روکا جا سکتا ہے-

هيموپھلس انپھلونجي ٹائپ بی ویکسین خطرناک نمونيا کے دفاع کے لئے کھوجی گئی ایک مرکب ویکسین ہے- امریکہ میں١٩٨٠ سے  ١٩٩٠ تک هب ویکسین کا باقاعدہ استعمال کیے جانے سے، جان لیواهب بیماری کے معاملات کی تعداد ٤٠-١٠٠ فی ١٠٠٠٠٠  بچوں سے کم ہوکر ١.٣ فی ١٠٠٠٠٠ بچوں تک ہو گئی- جی اےوی ا ئی کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کے لئے هب ٹیکے کا کم داموں میں دیئے جانے کی تجویز ہے- سيڈيسي اور عالمی صحت ادارہ کی طرف سے ٦ ہفتے کی عمر سے آغاز کرتے ہوئے، تمام بچوں کا پولسچاراڈ پروٹین كنجوگیٹ کے ٹیکے لگانے کی سفارش کی گئی ہے-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا، جو اطفال مرض اور نومولود مرض کے ماہر ہیں امید کرتے ہیں کہ ''چونکہ یہ ٹیکے ابھی کافی مہنگے ہیں، لیکن ہندوستان کی حکومت عالمی صحت ادارے کے ساتھ مل کر ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں هب ویکسین کو دستیاب کروانے کی کوشش کر رہی ہے- جو بھی ہو عام لوگوں میں اس کی دستیابی بہت کم ہے- دوسرے ٹیکے جیسے كھسرا ویکسین، جو عالمی صحت ادارہ کی سفارشات کا ایک حصہ ہے، بھی کافی ضروری ہے کیونکہ كھسرا، نمونيا ہونے کے امکانات کو بڑھاتی ہے"

اسی طرح، اطفال امراض کی ماہر، ڈاکٹر نیلم سنگھ جو "واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ" کی اہم كاريكتري بھی ہیں، کا ماننا ہے، ''ٹی بی کو روکنے کے لیے استعمال میں لایا جانے والا بيسيجي ٹیکا بھی بہت ضروری ہے- ٹی بی مرض کی وجہ سے بچوں میں بہت سے سانس سے متعلق امراض اور انفیکشن ہوتے ہیں- دوسرا ٹیکا، ڈپتھيريا اور ٹٹنس کے لئے ڈيپيٹي ہے، جس میں پہلے دو انفیکشن اوپری سانس نلی سے متعلق ہیں- تیسرا نو ماہ پر دیئے جانے والا، كھسرا مرض کا ٹیکا بھی ضروری ہے- اگرچہ یہ ویکسین براہ راست طور پر نمونيا کو نہیں روکتا ہے لیکن بالواسطہ طور پر دفاع کیا جاتا ہے- کیونکہ چیچک (كھسرا) سے مو ثر بچہ نمونيا کے انفیکشن کے قریب ہوتا ہے- اس لیے پیدا ہونے سے ١٢ سال تک ان ٹیکوں پر عمل کرنا چاہیے- هب ویکسین کا استعمال ابھی حال ہی میں شروع کیا گیا ہے- ہمارے ملک میں دستیاب ہے- مہنگی ہونے کی وجہ سے ، شہر کے لوگ ہی اسے لے سکتے ہیں اور اپنے بچوں لگوا سکتے ہیں-"

 یہ ٹیکے عام بیماریوں کی شدید پکڑ کے ذریعے ہونے والے نمونيا کو روکتے ہیں- حا لا نکہ بچے کو ٹيكا نمونيا سے سو فیصد نہیں بچاتا ہے- والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے- ٹيكا پوری طور پر کامیاب نہیں ہوتا ہے- اچھے غذائیت کے ساتھ مناسب صحت بھی نمونيا کے دفاع پروگرام کا ایک حصہ ہے- اس بارے میں، اطفال مرض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي جن کا لکھنؤ میں اپنا دواخانا ہے، بھی بتاتے ہیں، ''سٹرپٹوكوكس نموني یا هيموپھلس انپھلوےنجي یا ماكوپلاجما جیسے عوامل کے ذریعے نمونيا ہو سکتا ہے- سرپرست سوچتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایک بار بچے کو ٹيكا لگوا دیا ہے تو وہ کبھی بھی نمونيا سے متاثر نہیں ہوگا / ہو گی''

لوگوں میں بیداری کی کمی اور ان کی زندگی محافظ ٹيكو کی قیمت کی وجہ سے، ہندوستان میں بہت سارے بچے اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں- اکتوبر ، ٢٠١١ کے پہلے ہفتے میں 'چھترپتی شاهوجي مہاراج طبی یونیورسٹی کے اطفال بیماری محکمہ کے آئی سی یو میں اپنی زندگی سے لڑنے والے، تین سال کے بچے اتھرو سے مل کر میں نے دیکھا کہ وہ ان میں  سے ایک بچہ ہے جو هب ویکسین کا فائدہ نہیں اٹھا سکا تھا- اس کی ماں رےنو بالا شرما، نے پریشان حال ہو کر  بتایا، ہم نے سنا تھا کہ نمونيا بچوں میں ہونے والی عام بیماری ہے اور بچے کبھی- کبھی اس سے شکار ہو جاتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنی سنگین ہوگی- ہم نے بچے کے ہر مرض کا ٹيكا لگوایا تھا- ٹيكا متعلق کارڈ کے حساب سے سارے ٹیکے لگوايے- ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اس میں نمونيا کا ٹیکا نہیں تھا- اگر ہمیں معلوم ہوتا تو اس کا بھی ٹيكاكر کروا لیتے- رقم، بچے سے زیادہ قیمتی نہیں ہے- اس کے علاج کے لئے ہم نے لاکھوں روپے خرچ کر دیئے ہیں- ہم ایک نرسنگ هوم سے دوسرے میں بھاگتے رہے، جب تک اس اسپتال میں نہیں پہنچے- اب ہمیں اس کے ٹھیک ہونے کی کچھ امید ہے-''

ہندوستان اور بعض دیگر ترقی پذیر ممالک میں ابھی بھی نمونيا کا ٹیکا، ٹيكا پروگرام کا حصہ نہیں ہے- اصل میں یہی ملک ہیں جن میں نمونيا ہونے کی زیادہ امکان ہے- ہندوستانی معاشرے کی علم یافتہ ما یں ہی اس بات کا یقین کرتی ہے کہ ہر خطرناک بیماری کے  لئے ان کے بچے کو ٹيكالگوایا گیا ہے- لکھنؤ کے پرائیویٹ سٹی هاسپٹل میں یکم اکتوبر کو اپنے دوسرے بچے کو پیدا کرنے والی، الپنا سنگھ کہتی ہیں کہ ''میں نے سنا ہے کہ نمونيا سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے- میں ٹیکے کا نام نہیں بتا سکتی، لیکن میرے ڈاکٹر نے مجھے اس کے بارے میں بتایا اور میں نے اپنے پہلے بچے کو، جو اب تین سال کا ہے، یہ ٹیکہ احتیاط کے حساب سے لگوايا- لیکن یہ ویکسین مجوزہ ٹيكا کی فہرست میں دکھایا نہیں گیا ہے''

ٹيكا کیوں ضروری ہے، ٹيكا پروگرام اور بچوں کو ویکسین کہاں لگوايا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں والدین اور نگرانی کرنے والوں کو بیدار کرنے کے لئے عالمی صحت ادارہ اہم کردار ادا کرتا ہے- نمونيا کے ٹيكوں کی ترقی کے لئے ریسرچ اور ترقی کی کوششوں کی ضرورت ہے- بین الاقوامی تنظیموں کی کوششوں اور مالی مدد سے ترقی پذیر ممالک میں یہ ٹیکے مناسب قیمتوں پر بنا دیری کے دستیاب کروانے چاہیے-

سوميا ارورا - سی این اس
(ترجمہ :ندیم سلمانی ، لکھنؤ) 

نمونيا کا بچاؤ اوربغیرسگریٹ نوشی کا ماحول

ہر ٢٠ سیکنڈ میں نمونيا کی وجہ سے کہیں نہ کہیں کسی بچے کی موت ہوتی ہے- پانچ سال سے کم عمر کے ٢٠ فیصد بچوں کی موت کی وجہ نمونيا ہے- یہ ہر سال ١.٣ ملین بچوں کی کال ہے- زندگی کا یہ نقصان مزید پریشانی کا سبب ہوتا  ہے کیونکہ اس موت کو موجود ذرائع  کے ذریعے روکا جا سکتا ہے-

عالمی صحت ادارہ صحت کی طرف سے بچوں میں نمونيا ہونے کی وجوہات کو فروغ دینے والے مختلف ماحول کے بارے میں حقائق کو فہرست کیا گیا ہے- یہ وجہ ہیں:
(١) کھانا بنانے اور گرم کرنے کے لئے بايوماس ایندھن (ٹھوس ایندھن) جیسے لکڑی یا گوبر کی وجہ سے گھر میں ہونے والئ آلودگی،
( ٢) بھيڑبھرے گھروں میں رہائش کرنا اور
( ٣) ماں- باپ کی طرف سے سگریٹ نوشی کیا جانا-

عالمی صحت ادارہ  بھی یہی مشورہ دیتا ہے کہ گھر کے اندر ہونے والی آلودگی کو دستیاب صاف چولہا اور بھيڑبھاڑ والے گھروں میں اچھی صحت سائنس کو فروغ دے کر نمونيا سے بیمار ہونے والے بچوں کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے-

نمونيا کئی طرح سے پھیلتی ہے- عام طور پر بچوں کی ناک یا گلے میں پائے جانے والے جراثیم اور وائرس کو سانس کے ذریعہ لئے جانے پر پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے- كھانسنے یا چھيكنے سے آلودہ ہوا کے ذریعے بھی یہ پھیل سکتا ہے- لہذا جراثیم کے پھیلنے کو کم کرنے کے لئے رہن سہن کے ماحول میں بہتری، نمونيا کے کنٹرول میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے-

بچوں میں نمونيا کے کنٹرول، حفاظت اور طبی (علاج) کے لئے، ٢٠٠٩ میں عالمی صحت ادارہ اور يونسیپھ کی طرف سے ''گلوبل اكشن پلان فار دی پريونشن اینڈ کنٹرول آف نمونيا'' کا آغاز کیا گیا-
ضروری طور پر ماں کا دودھ اور ہاتھوں کی صفائی کو توجو دے کر اور گھروں کے اندر کی آلودگی کو کم کر کے بچوں کو نمونيا سے بچایا جا سکتا ہے- نئی صنعتیات معلومات گھروں میں آلودگی کم کر سکتی ہیں- روایتی کھانا بنانے کے لئے استعمال لکڑی ، كنڈے اور کوئلے (جن کا استعمال ابھی بھی کچھ ممالک میں کیا جاتا ہے) کے مقام پر پانی ایندھن جیسے مٹی کا تیل، قدرتی گیس، الپيجي وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے- سیال ایندھن کے لئے استعمال ہونے والے اسٹوو اور ٹھوس ایندھن میں استعمال ہونے والے اسٹوو میں سدھارکے بعد استعمال کرنے پر خطرہ میں کمی دیکھی گئی ہے-

دوسروں کے ذریعے استعمال تمباكو کے دھویں میں سانس لینے کا عمل بالواسطہ سگریٹ نوشی ہوتی ہے-  ناکارہ سگریٹ نوشی میں سانس لینا بیماری، معذوری اور موت کی وجہ ہے- یہ سانس کی نلی کو متاثر کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی طاقت کو کم کر دیتا ہے- امریکہ میں ، نومولود بچوں اور ١٨ سال سے کم عمر کے بچوں میں نچلی سانس نلی کے انفیکشن کا تخمینہ ١٥٠٠٠٠-٣٠٠٠٠٠ معاملے بالواسطہ سگریٹ نوشی سے مؤثر ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال ہسپتالوں میں ٧٥٠٠-١٥٠٠٠ مریض بھرتی کئے جاتے ہیں-

ڈاکٹر اس این رستوگي، مشہور اطفال اور دل امراض کے ماہر آگاہ کرتے ہیں کہ ''بچے کے لئے گھر میں حکّا، بیڑی اور سگریٹ کا استعمال کافی نقصان دہ ہوتا ہے- یہ بالواسطہ سگریٹ نوشی ہے کیونکہ اس میں بچہ کمرے میں موجود نكوٹين میں سانس لیتا ہے جو نمونيا کا خطرہ بڑھا دیتا ہے- بچے کے کمرے میں والد / خاندان کے دیگر ارکان کو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہیے- نومولود کو علیحدہ کمرے میں رکھنا چاہئے اور کم سے کم میں لوگوں کو اس کے پاس جانا / چھونا  چاہیے- لیکن ہندوستان میں رسم کی وجہ سے اس عادت کو بند کرنا کافی مشکل ہے- بچے کے پیدا ہونے کے پہلے دن سے ہی لوگ بچے کے ساتھ کھیلتے ہیں- یہ اچھی عادت نہیں ہے- یہ رسم جو کہ اچھے تعلیم یافتہ خاندانوں میں بھی ہے، بند ہونی چاہیے- کم سے کم پہلے چھ ماہ تک بچے کے پاس صرف ماں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ہی جانے دینا چاہیے-''

کسی بچے کے چاروں طرف کا ماحول میں آلودگی بچے میں ان بیماریوں کے ہونے کے امکانات کا ایک بڑا سبب ہے- لکھنؤ کے اطفال بیماری کے ماہر ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا کہنا ہے کہ ''اگر گھر میں ہوا اور دھوپ کے آنے کا مناسب انتظام ہو، اور گھر میں رہنے والوں کی تعداد کم ہو یعنی زیادہ بھيڑبھاڑ نہ ہو، بچے کے رہنے کے لیے مناسب اور علیحدہ جگہ رہے، تو بچے کو انفیکشن کے موقے کم رہتے ہیں- لیکن، اگر بچے کے چاروں طرف کا ماحول اس طرح کا ہو کہ اس میں تھوڑی جگہ میں رہنے والوں کی تعداد زیادہ ہو اورکھانا بنانے کے ایندھن یا تمباكو کے دھویں سے آلودہ ہو، تو بچے میں انفیکشن کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں-  اس طرح کے خاندانوں میں دمہ اور ٹی بی کے ہونے کے زیادہ امکان رہتے ہیں اور یہ بیماری بچے کو بھی ہو سکتی ہے-''

تمباكو کے استعمال اور اس سے نمونيا کے بڑھتے معاملات کے درمیان رشتے کو مانتے ہوئے ڈاکٹر نیلم سنگھ اطفال بیماری اورنسواں مرض کی ماہر جو ''واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ'' کی چیف ایگزیکٹو بھی ہیں ، کہتی ہیں کہ ''گھروں کے اندر کی آلودہ ہوا اصل میں نمونيا کو فروغ دیتی ہے- دیہات علاقوں میں چولہے میں کھانا بنانے کی وجہ سے کافی دھواں ہوتا ہے- تمباكو کا دھواں بھی بچوں میں نمونيا اور دیگر سانس سے متعلق امراض کا سبب ہے- تمباكو نوشی والے سرپرستوں کی وجہ سے گھروں کے اندر زیادہ آلودگی ہو تی ہے، اور ایسے آلودہ ماحول میں رہنے والے بچوں میں بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے- جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو صاف اور آلودگی بغیر فضا میں رکھنا چاہیے-''

ڈاکٹر رستوگي بھی مانتے ہیں کہ شہروں میں زیادہ تر لوگ گیس کے اسٹوو استعمال کرتے ہیں جس سے تقابلی طورسے ماحول کم آلودہ ہوتا ہے- لیکن ابھی بھی دیہاتوں میں لوگ کھانا بنانے کے لئے لکڑی اور کوئلے کا استعمال کرتے ہیں جس سے گھروں کا ہوا زیادہ خراب ہو جاتی ہے- دیہات علاقوں میں صفائی اور صحت سائنس سے متعلق علم کی کمی ہے- لیکن شہروں میں لوگ کچھ زیادہ بیدار ہیں جس سے وہ ہوشیار رہتے ہیں-

ڈاکٹر ایس. کے. سهتا کا ماننا ہے کہ ''حکومت گھروں کے آلودگی کو کم کرنے کے لئے کھانا بنانے کے لئے گیس کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے- یہ گھروں کے اندر کی ہوا کو کم آلودہ کرے گا- تمباكو کے استعمال کی مخالفت میں پہلے سے ہی اصول ہے، جو عوامی مقامات پر جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں- تمباكو نوشی کو منع کرتا ہے- والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب وہ گھروں میں سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو ان کے بچے بالواسطہ طور پر سگریٹ نوشی کے رابطہ میں آ جاتے ہیں- اسلئے اگر وہ سگریٹ نوشی بالکل نہ کریں تو بہتر ہوگا، لیكن کم سے کم انہیں بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہیے-

اس سلسلے میں تمام ڈاکٹروں کی ایک رائے ہے کہ بغیردھویں والا ماحول اور بچے کے سامنے سگریٹ نوشی نہ کرنے سے کافی حد تک ہوا کو صاف بنایا جا سکتا ہے- دیگر کسی بھی قسم کے آلودگی سے بچاؤ بھی ضروری ہے کیونکہ انفیکشن کے لئے یہی کسی نہ کسی طرح سے ذمہ دار ہے- لہذا گھروں کے اندر کے ماحول کی صفائی  کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے، کیونکہ اسی کے ذریعے نمونيا سے بچاؤ اور اسے روکا بھی جا سکتا ہے-
 
سوميا ارورا - سی ئیں اس
(ترجمہ :ندیم سلمانی )
 
بچوں کی اچھی غزائیت اور نمونيا سے بچاؤ

خاص ترقی یافتہ ممالک میں کم غذائیت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے- بچوں میں نمونيا اور دیگر بیماریوں کے لئے، صفائی کے ساتھ یہ بھی کافی ذمہ دار ہے- پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی موت کی ایک وجہ نمونيا بھی ہے، جس سے ہر سال 15 لاکھ بچے موت کی گود میں سو جاتے ہیں- نمونيا سے مرنے والے ٩٨ فیصد بچے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں- صاف ماحول میں، بچوں کو صحیح غذا، صحیح مقدار اور مناسب وقت میں دے کر ان میں سے اندازا دو تہائی بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے-

غربت کی وجہ سے کم غذائیت اور انتہائی غذائیت کی وجہ سے بچوں میں موٹاپے کا ہونا، دونوں ہی حالات کم غذائیت کے تحت آتی ہیں- بنیاد سے کھانے میں پروٹین، توانائی اور ما ئکرونیو ٹرینٹس جیسے وٹامنس وغیرہ کی کمی، کم غذائیت ہی ہوتا ہے- اور بچوں میں باربار انفیکشن اور دیگر بیماریوں کو بڑھاتا ہے- غذائیت کی کمی بچوں کی کمزور مرض دفاعی صلاحیت کی وجہ سے، انےكو انفیکشن ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مرض ہونے اور بیماریوں سے موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں-  غذائیت کی کمی، پیدائش کے وقت کم وزن کا ہونا، كھسرا، وٹامن 'اے' کی کمی ، ٹيبي وغیرہ نمونيا کے ہونے کو فروغ دیتے ہیں- اور نمونيا بچے میں سانس سے متعلق امراض جیسے دمہ وغیرہ کے ہونے کا ایک بڑا پہلو ہوتا ہے-
مناسب غذا بچے کی دفاعی صلاحیت بڑھاتی ہے جس سے بچے میں انفیکشن ہونے کے امکان میں کمی کے ساتھ ساتھ بیماری سے لڑنے اور اس سے نکلنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے-

ڈاکٹر نیلم سنگھ ، ماہر امراض نسواں جو ''واتسلي ریسورس سینٹر آن ہیلتھ'' کی اہم كارکن بھی ہیں، کا کہنا ہے ، ''بچے  کے لئے اچھا كھان پان بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس مدت میں جسم و دماغ کی ترقی کی وجہ سے غذائی اجزاء کی ضرورت بہت زیادہ رہتی ہے- لیکن ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ بڑھتے بچوں کے لئے ''کون سے اور کتنا'' غذائی چیزیں ضروری ہیں- کیونکہ الگ الگ عمر کے بچوں کے لئے غذائی اجزاء کی مقدار مختلف ہوتی ہے- ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر کم غذائیت کے شکار مائیں کم وزن کے بچے کو پیدا  کرتی ہیں- پس، ماؤں کی خوراک اچھی ہونا چاہیے، جس سے وہ دنیا میں صحت مند بچوں کو پیدا کریں-

ڈاکٹر اس کے سهتا، ماہر امراض اطفال  لکھنؤ کا بیان ہے، ''آج کل، بڑے شہروں میں بچے فاسڈ فوڈ، ریڈيمیڈ فوڈ زیادہ تیليي و مسالےدار مادوں کا استعمال کر رہے ہیں- اس طرح کی خوراک انہیں زیادہ موٹا بناتی ہے- اور مستقبل میں ڈايبٹيج اوردل کی بیماری کے امکانات بڑھاتا ہے ''

ڈاکٹر نیلم سنگھ  نے کہا کہ، ''ہمارے ملک میں نمونيا اور دست سے ہونے والی زیادہ تر موت کی وجہ غذائیت کی کمی ہی ہے- ہمارے اتر پردیش میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا ٤٦ فیصد بچے کم غذائیت کے شکار ہیں- حال ہی میں کئے گئے ایک متعلئیے  کے مطابق ہم نے کئی نومولود کو چائے اور کولڈ مشروب تک دیتے ہوئے دیکھا- بچوں کو گھٹي (گراپ واٹر) تک دی جاتی ہے، اور بچوں کو دیے جانے والے باہر کے دودھ کو یا تو مقدار بڑھانے کے لئے یا اس تصور کے لئے کہ بچے خالص دودھ کو ہضم نہیں کر سکیں گے، زیادہ پانی ملا کر پتلا کیا جاتا ہے- اسی طرح کی وجوہات سے بچے کو اوپر توانائی کا غذائی مادہ نہیں دیا جاتا ہے- کئی بار، بڑھتے بچوں کی ضروریات کو نہ دیکھ کر گھر کے بڑوں کی پسند کا کھانا بنایا جاتا ہے-''

شہر کے مشہور اطفال امراض کے ماہر ڈاکٹر اس این رستوگي نے کم غذائیت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ، ''یہ ایک عام غَلَط فہمی ہے کہ بچوں کو خالص ماں کا دودھ نہیں  دینا چاہیے، بلکہ اس میں برابر مقدار میں پانی ملانا چاہیے، نہیں تو یہ دست کا سبب ہو گا- زیادہ تر بچوں میں کم غذائیت کی وجہ دودھ کو سیال کرنا ہے- کم وزن کے بچوں  کو اعلی پروٹین والے سپليمنٹ دیے جانے چاہیے-''

ڈاکٹر نیلم سنگھ واضح کرتی ہیں کہ ، ''اچھی غذائیت کا مطلب مہنگا مادہ نہیں ہے-  زیادہ تر زیادہ قیمت کی اشیاء میں ہی ضروری غذائی عناصر دستیاب نہیں ہوتے ہیں بلکہ سستے اور مقامی دستیابی والے گھر میں بنائے کھانے میں بھی وہی غذائی مادہ دستیاب ہو سکتے ہیں- اس ضمن میں، میں ایک مثال کا ذکر کرنا چاہوں گی کہ اگرچہ آج کل ٹی وی پر ایسے برانڈ بچے کے کھانے کا اشتھار دکھایا نہیں جاتا ہے، پھر بھی یہ ایک انتہائی عام فوڈ سپليمنٹ ہے- یہاں تک کہ گھروں میں کام کرنے والی نوکرانی كا اپنے امیر مالکان کی نقل کرکے اپن بچوں کو یہی كھلاتي ہیں- یہ سپلمنٹ فوڈ بچے کو سوجی کی کھیر، دليا اور دال جتنا ہی غذائیت دیتا ہے- گاؤں کی ناخواندہ ماؤں کے بچوں کے علاوہ شہروں کی تعلیم یافتہ ماؤں کے بچے بھی کم غذائیت کے شکار ہوتے ہیں-''

صاف پانی اور صحت کے لئے اسباب کا کم مہیہ ہونا نمونيا کے ہونے کی وجہ ہیں- بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں صفائی کے ذریعوں پر زیادہ زور دینے کے لئے ہم 'عالمی هنڈ واش ڈے' مناتے ہیں- ڈاکٹر اس كے سهتا کے مطابق، ''صفائی متعلق سائنس کی معلومات کسی بیماری، خاص طورگیسٹرو انٹسٹینل انفیکشن کے ہونے کے عوامل کے لئے ضروری ہے- نمونيا کے تناظر میں بھی بچے کو چھونے سے پہلے ہاتھ دھونے سے بچے کو انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے-''

ڈاکٹر نیلم سنگھ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ، ''بچے کی دیکھ بھال کرنے والے کو صفائی اور صحت کے موضوع میں بیدار رہنا چاہیے- بچے کے پاخانے / پیشاب کو صاف کرنے کے بعد ہر بار ہاتھ صابن اور پانی سے بھلی طرح دھونا چاہیے- اسی طرح بچے کو دودھ دینے کے سابق اور بعد میں بھی ہاتھوں کو صاف کرنا چاہیے- بچے کو پینے کے لئے صاف پانی اور کھانے کے لیے تازہ اور صاف کھانا ہی دینا چاہیے- کھانا بند رکھنا چاہئے اور الودہ ہونے سے روکنا چاہیے- بچے کے آس - پاس صاف رکھنا چاہیے، پانی کو جمع نہیں ہونے دینا چاہئے اور بچے کو روزانہ نہلایئں اور صاف کپڑے پهنا یں- انفیکشن سے ہونے والے امراض، جیسے نمونيا و دست سے بچاؤ کے لئے یہ آسان و عام صفائی ستھرائی کے طریقے ہیں-

ڈاکٹر اس این رستوگي ، بچے کو دودھ پلانے سے پہلے پستان کو صاف کرنے پر زور دیتے ہیں- ان کی صلاح ہے کہ بچے کو اگر بوتل سے دودھ دینا ضروری ہو، تو کم سے کم ٤ بوتل اور ٤-٥ نپل ضرور ہونے چاہیے- بوتلوں اور نپپلوں  کو استعمال میں لانے سے پہلے ٹھیک طرح سے ابالنا چاہیے- بچے کو صاف ستھرے کپڑے پہنانے چاہئے- ایک رواز کے مطابق بچے کو ایک ماہ تک پرانے کپڑے پہنائے جاتے ہیں- یہ غلط ہے-

غربت کے خاتمہ ، کم غذائیت کی پریشانی کو دور کرنے میں بین الاقوامی کوششوں کے علاوہ لوگوں کو اچھئ غذائیت کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کرنا چاہیے- ڈاکٹر نیلم سنگھ کا مشورہ ہے، ''الگ - الگ عمر کے بچوں کی الگ-الگ غذائی اجزاء کی ضرورت کے بارے میں عام لوگوں کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیے- تجارتی بنیاد پر صرف قومی اور عالمی کونسل میں ہی ان مکالمات پربات کو نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ ہر عوام تک اس بات چیت کو نشر کرنے کی ضرورت ہے-"

سوميا اروڑا سی این اس
(ترجمہ: ندیم سلمانی )